عوامی مقاصد کے لیے زمین حاصل کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ کے سات رکنی لارجر بنچ کے فیصلے کیخلاف اپیل جزوی طور پر منظور لی ۔
پشاور اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے بھی کالعدم قرار دے دیے گئے، 45 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا، فیصلہ میں جسٹس ارشد حسین نے اضافی نوٹ بھی تحریر کیا، جسٹس علی باقر نجفی نے بھی فیصلہ سے اتفاق کیا۔
آئینی عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اراضی مالکان کو بڑھی ہوئی قیمت ادا کرنے کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں، لینڈ ایکوزیشن کے وقت قیمت وصول کرنے والے مالکان بعد میں اضافی قیمت کے حقدار نہیں رہتے، اراضی کے جبری حصول کے ساتھ قانون کے مطابق منصفانہ معاوضہ ادائیگی ہونی چاہیے۔
عدالت کے مطابق تمام زمین مالکان کو یکساں معاوضہ کی ادائیگی مقننہ کی زمہ داری ہے، عدالت کا کام قانون پر عملدرآمد کروانا ہے، جسٹس ارشد حسین نے ادا کی گئی اضافی رقم کو واپس نہ لینے کا نوٹ لکھا۔
1894 لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت مختلف عوامی مقاصد کیلئے اراضی حاصل کی گئی، اس اراضی کو ڈیفنس پراجیکٹس،تعلیمی اداروں ،گرڈ اسٹیشن،اور موٹر ویز کیلئے استعمال کیا گیا۔
مختلف اراضی مالکان نے معاوضہ بڑھانے کیلئے عدالتوں سے رجوع کیا، معاوضہ بڑھنے کے بعد پہلے معاوضہ وصول کرنے والے مالکان نے بھی اضافی ادائیگی کیلئے مقدمہ بازی کی، ہائیکورٹ نے مالکان کو اضافی ادائیگیوں کے فیصلے دئیے تھے۔