کیا اسیری ہے، کیا رہائی ہے !

18اگست2026 کو ہماری معزز عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی معزز بنچ نے شاندار اور تاریخی فیصلہ سنایا۔


[email protected]

18اگست2026 کو ہماری معزز عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی معزز بنچ نے شاندار اور تاریخی فیصلہ سنایا۔ اِس فیصلے کی گونج اور بازگشت دُور ونزدیک سُنی گئی ہے۔ فیصلے پر پی ٹی آئی کے جملہ عشاق مسرت سے بھنگڑے ڈال رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے اُن کے تین سال سے اسیر لیڈر اور بانیِ جماعت کو دو روز کے اندر اندر اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں، بغرضِ علاج، منتقل کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔یہ پرائیویٹ اسپتال خاصا مہنگا ہے ۔

کتنا مہنگا ہے ، اِس کا اندازہ اِس امر سے لگائیے کہ اِس اسپتال کا ایک چھوٹے سے کمرے کا یومیہ کرایہ60ہزار روپے سے زائد ہے ۔ ڈاکٹروں کے راؤنڈز ، نرسوں کی دیکھ بھال، متنوع ٹیسٹ ، آپریشن اور ادویات وغیرہ کے بھاری اخراجات اِس کے علاوہ ہیں ۔ حکومت کو مگر یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی اگر اِس اسپتال میں داخل کیے جاتے ہیں تو اِس کے جملہ اخراجات اہلِ خانہ اُٹھائیں گے یا پارٹی ۔پی ٹی آئی کے قائدین، بانی صاحب کی اسیر اہلیہ اور خود بانی پی ٹی آئی کے پاس مالی وسائل کی کمی نہیں ہے۔ ماشاء اللہ ۔

مسئلہ مگر یہ پیدا ہُوا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے حکم کے باوصف بانی پی ٹی آئی کو ، فی الحال، جیل سے نجی اسپتال منتقل نہیں کیا گیا ۔ یہ سطور جمعرات کی صبح، 20اگست، کو لکھی جارہی ہیں۔ فیصلے کو ہُوئے دو دن گزر چکے ہیں، مگر ہر طرف’’ ٹھنڈ ‘‘ہے۔

پی ٹی آئی کے عشاق کے اُبلتے اور جوش مارتے جذبات پر اوس پڑ چکی ہے۔ جن راہوں پر عاشقوں نے گلاب کی پتیاں اور آنکھیں نچھاور کرنا تھیں ، فی الحال وہ سُونی اور ویران پڑی ہیں۔ 18اگست کو بانی صاحب کی ایک ہمشیرہ محترمہ ، نورین نیازی ، نے عدالتی حکم پر اڈیالہ جیل میں 20منٹی ملاقات کی اور عدالت کو دیئے گئے وچن کے مطابق بھائی سے ملاقات کے بعد جیل سے باہر خبر کے منتظر کھڑے صحافیوں سے کوئی بات چیت بھی نہ کی ۔خود چپ رہنے اور صحافیوں کو بھی چپ رہنے کا مشورہ دیتے ہُوئے موصوفہ وہاں سے رخصت ہو گئیں ۔ سرکار اور عدالت سے کیا گیاایک وعدہ نبھا دیا گیا ۔ دل کڑا کرکے ملاقات پر کوئی سیاست کی نہ بھائی کا حال احوال بتایا۔

 عدالت کی جانب سے طبّی ریلیف کا احوال محترمہ نے اپنے زندانی بھائی کو بھی یقیناً بتا دیا ہوگا۔وہ خوش بھی ہُوئے ہوں گے۔مگر یہ خوشی کہیں راستے ہی میں ، فی الحال، دَم توڑ گئی ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ وہ اسیر بھی نہیں اور رہا بھی نہیں۔کہیں لٹک اور اٹک کر رہ گئے ہیں۔ یہ بھی پتہ نہیں چل رہا ہے کہ بانی کس کے قیدی ہیں؟ وفاق کے یا صوبے کے ؟بانی پی ٹی آئی کے لیے جزوی اور مشروط طبّی ریلیف میں شہباز شریف کی وفاقی حکومت رکاوٹ بن گئی ہے ۔پی ٹی آئی کے چیئرمین ، بیرسٹر گوہر خان ،نے حکومت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ’’ ہم عدالت میں دیئے گئے اپنے سارے حلف پورے کریں گے ، مگر حکومت ’’بے وفائی‘‘ نہ کرے ۔ مگر جس سرعت اور شتابی سے حکومت نے بانی بارے عدالتی فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا ہے ، اِس نے مبینہ (جزوی) ریلیف کو بھی روکا ہے اور پی ٹی آئی میں مایوسی کی لہر بھی دوڑا دی ہے۔

حکومت نے وفاقی وزیر قانون کی بجائے چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے، ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے، درخواست دائر کی ہے کہ سپریم کورٹ اپنے 18اگست کے (عبوری) فیصلے پر نظرِ ثانی کرے ۔ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’’سپریم کورٹ کا اٹھارہ اگست کا عبوری حکم اختیارِ سماعت سے تجاوز کرتا ہے ۔‘‘ اور یہ کہ ’’فیصلے کے ذریعے قیدی (بانی پی ٹی آئی) کو (نجی) اسپتال منتقل کرنے کے مقررہ قانونی طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔‘‘

عدالت کے رُو برو چیلنج کی گئی عدالتی استدعا کا سادہ مطلب یہ ہے کہ حکومت بانی صاحب کو نجی اسپتال جانے کی اجازت دینے پر راضی نہیں ۔ حکومت شائد اندیشوں سے مغلوب ہو کر اِس میں اپنی پسپائی یا ہزیمت دیکھ رہی ہے ۔ حکومتی ترجمان نے19اگست کو جو پریس کانفرنس کی ہے ، اس کی اپنی ایک علیحدہ داستان ہے۔ حکومتی موقف اور نیت کا عکس بھی۔ عدالتِ عظمیٰ کا حکم تو ایک روز ماننا پڑے گا۔ جَلد یا بدیر ۔ مگر عوامی سوچ یہ ہے کہ حکم پر فی الفور عمل کرکے حکومت اپنی کسی بھی کمزوری کا اظہار نہیں کرنا چاہتی ۔ حالانکہ یہ فیصلہ کسی کی کمزوری کو عیاں کرنے کے لیے ہے نہ کسی کو شکست دینے کے لیے ۔یہ تو عدل ہے ، خواہ دیر سے ہی کیوں نہ آیا ہے ۔حکومت مگر لڑاکا ہونے کا تاثر دینے کے درپے ہے ۔حکومت اگر فیصلے والے دن ہی قیدی کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت مرحمت کر دیتی تو اس کے وقار اور اعتبار میں یقیناً اضافہ ہوتا ۔ نجانے حکومتی حلقوں میں مگرکھلبلی سی کیوں مچی ہے ؟

لاریب یہ فیصلہ بڑے ہی حساس لمحات میں سامنے آیا ہے جب حکومت پر بھی کئی دباؤ ،کئی اطراف سے یلغار کررہے ہیں ۔ مثال کے طور پر (1) جب خیبر پختونخوا کے37سالہ جیالے وزیر اعلیٰ، جناب محمد سہیل آفریدی، اپنے اقتدار کے 11ماہ گزرنے اور حکومت و مقتدرہ مخالف شعلہ بیانی کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے (2) جب پچھلے8مہینوں سے پسِ زنداں بانی کی ہمشیرگان اڈیالہ جیل کے باہر متعدد اور متنوع احتجاجی مظاہرے کرکے بھی اپنے بھائی سے نہ مل سکی تھیں(3) جب پی ٹی آئی کے سابق وزیر اعلیٰ ، علی امین گنڈا پورصاحب ، کئی حکومت مخالف و ضرر رساںمظاہروں میں اپنے ثمرات حاصل نہ کر سکے (4) جب بانی صاحب جیل کے دوران دُنیا کو اپنی کئی ٹویٹس ( جن کا اسلوب خاصا قابلِ گرفت تھا) کے زریعے اپنے اہداف کے حصول میں ناکام رہے (5) جب امریکی اخبارات میں ، پی ٹی آئی کے فنڈز سے، حکومتِ پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف دل آزار اشتہارات کی مہمات بھی ناکام ہو گئی تھیں (6) جب پی ٹی آئی نے24ستمبر2026 کو اسلام آباد کی جانب ’’مارچ‘‘ کرنے کا عندیہ دے رکھا تھا (7) جب پاکستان کی بھرپور ثالثی کے باوصف ایران ، امریکہ تنازع حل نہیں ہورہا۔

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال یہ ہے کہ فیصلے پر فوری عملدرآمد کرکے ملک میںسیاسی درجہ حرارت کو نیچے لایا جا سکتا تھا۔ مگر اِس کے لیے حوصلے اور ہمت چاہیے تھی۔اچھی بات یہ سامنے آئی ہے کہ بانی بارے تازہ فیصلے کے پیش منظر میں بعض مسلم لیگی لیڈروں نے دل بڑا کرکے اِس کی ستائش کی ہے۔ مثلاًسابق نون لیگی وفاقی وزیر، خواجہ سعد رفیق صاحب، نے کہا ہے :’’ سپریم کورٹ کے فیصلے سے میرے دل کا بوجھ کچھ کم ہُوا ہے ۔ حبس زدہ موسم میں یہ فیصلہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے ۔‘‘مگر اِس کا کیا کِیا جائے کہ لیگی سینیٹر ناصربٹ صاحب ( جو کبھی لندن میں بڑے میاں صاحب کے ہاں مسلسل حاضریاں دیتے رہے ہیں) نے کہا:’’ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ میاں نواز شریف کے خلاف سازش ہے ۔‘‘ ناطقہ سر بہ گریباں ہے اِسے کیا کہئے ! بھلا مذکورہ فیصلے کا سابق وزیر اعظم کے خلاف سازش سے کیا تعلق ؟نون لیگ کے ہامی اور حمائتی بعض یو ٹیوبرز نے بھی اِس فیصلے میں ’’سازش‘‘ کے کئی عناصر ڈھونڈ لیے ہیں ۔

حیرت تو اِس بات پر ہے کہ نون لیگی وزیر دفاع، خواجہ آصف صاحب ،نے بھی اِس فیصلے کی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی پر ایک بار پھر لمبا سا طعن کیا ہے۔ تسلیم کہ بانی نے اپنے دَورِ اقتدار میںخواجہ صاحب اور دیگر کئی نون لیگی لیڈروں کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنائے، اُنہیں بِلاوجہ قیدو بند کی صعوبتوں میں مبتلا کیا، اُن پر منشیات کے سنگین کیس تک ڈال دیئے ، لیکن اب ملک و قوم کے آگے بڑھنے کے لیے سابقہ عناد اور کدورتیں دل سے کھرچ ڈالنے کا سماں ہے ۔پوری قوم پہلے ہی حکومت کی پیدا کردہ جان لیوا مہنگائیوں سے تنگ اورعاجز ہے۔ اب حکومت کو چاہیے کہ کھلے دل سے فیصلہ مانے ، تاکہ فریقِ مخالف کے دل بھی کھلیں۔ تاکہ عوام کے دل میں بھی حکمرانوں بارے نرم گوشہ پیدا ہو سکے ۔