لزبن: پرتگال کے صدر انتونیو ژوزے سیگورو نے عوامی مقامات پر چہرہ مکمل طور پر ڈھانپنے پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے، جسے مسلمان خواتین کے نقاب کے خلاف اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ قانون جولائی میں پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا، جس کے تحت عوامی مقامات پر شناخت چھپانے والے لباس کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ تاہم صحت، پیشہ ورانہ، فنکارانہ اور موسم سے متعلق ضروریات سمیت عبادت گاہوں، سفارتی مشنز اور طیاروں میں اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 150 سے 3 ہزار یورو تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قانون میں کسی شخص کو جنس، مذہب، عمر یا نسلی پس منظر کی بنیاد پر چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کرنے کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔
پرتگالی صدر نے کہا کہ چہرہ انسانی شناخت اور باہمی رابطے کا اہم حصہ ہے، تاہم حقوق کی تنظیموں نے ایسے قوانین پر خواتین کے لباس کے انتخاب سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔