ایرک سپرین، عبداﷲ ملک اور حمید اختر کے بعد پروفیسر امین مغل بھی اس دنیا سے چلے گئے، پروفیسر امین مغل نے ساری عمر اپنے آدرش کی پرستش کی ، وہ 91 سال کی عمر میں گزشتہ دنوں لندن میں انتقال کرگئے تھے۔ امین مغل 1935ء میں سیالکوٹ کے گاؤں کوٹلی لودھراں میں پیدا ہوئے۔ پروفیسر امین مغل کے والد ہندوستان کے صوبہ مدھیہ پردیش کے علاقہ جبل پور میں ملازم تھے۔
امین مغل نے مرے کالج سیالکوٹ سے گریجویشن کی، پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور انگریزی لٹریچر میں ایم اے کیا۔ وہ طالب علمی کے زمانے میں دائیں بازو کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ تھے۔ اس زمانے میں پروفیسر امین مغل نے امین حجازی کا لقب اختیار کیا۔ پھر کارل مارکس کی تصانیف کا مطالعہ شروع کیا۔ یہ ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ تھا، وہ کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوگئے ۔
60ء کی دہائی میں بیشتر تعلیمی ادارے نجی شعبے میں قائم تھے۔ پروفیسر امین مغل نے انجمن حمایت اسلام کی قائم کردہ اسلامیہ کالج سول لائنز سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ اسلامیہ کالج میں کمیونسٹ پارٹی کے بانیوں میں سے ایک پروفیسر ایرک سپرین پہلے سے موجود تھے۔ پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور طلبہ کا معاشی استحصال ہوتا تھا۔ طلبہ سے بھاری فیس لی جاتی تھی۔
اساتذہ کو حکومت کے مقرر کردہ قوانین کے تحت تنخواہ نہیں دی جاتی تھی اور اکاؤنٹس کے تنخواہ کے واؤچر پر پوری تنخواہ کی رقم پر دستخط کرنا عام سی بات تھی، جب چاہے اساتذہ کو برطرف کیا جاتا تھا۔ برطرف ہونے والے اساتذہ کی گریجویٹی ادا نہیں کی جاتی تھی۔ پروفیسر امین مغل نے پنجاب میں اساتذہ کی تنظیم کاری کے لیے جدوجہد میں حصہ لینا شروع کیا۔ اس زمانے میں مغربی پاکستان کے کالجوں میں اساتذہ کی مضبوط انجمنیں قائم ہوئیں، یوں پروفیسر مغل اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں سے تعلیم ریاست کی ذمے داری اور تعلیمی اداروں کو قومیانے کا نعرہ مقبول ہوا۔ پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی کے 1970ء کے انتخابی منشور میں ان مطالبات کو خصوصی اہمیت دی گئی۔
پروفیسر امین مغل صرف اساتذہ کی ٹریڈ یونین سے ہی وابستہ نہیں تھے بلکہ وہ کمیونسٹ پارٹی کے محاذ فرنٹ نیشنل عوامی پارٹی پنجاب کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے تھے، یوں انھوں نے محض نظریاتی علم کو عام کرنے پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس نظریہ کو قبول کیا کہ سماج میں تبدیلیاں سیاسی تحریک سے ہی آتی ہیں۔ اس بناء پر وہ عملی سیاست بھی کرنے لگے۔ 1967ء، 1968ء اور 1969ء پاکستان کی سیاست کے اہم سال تھے۔ پہلے آمر جنرل ایوب خان کے خلاف کراچی سے بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (N.S.F) پورے ملک میں پھیل گئی۔ اسی دوران سوشلسٹ نظام کے قیام کا نعرہ مقبول ہوا، اور دائیں بازو کی جماعتوں نے سوشلزم کے نعرہ کو غیر اسلامی قرار دیا، یوں پورے ملک میں ایک نظریاتی بحث شروع ہوئی۔ عوام کی اکثریت جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمہ کے حق میں تھی۔
پروفیسر ایرک سپرین اور پروفیسر امین مغل اپنے طلبہ کو شعور دینے کی کوششوں میں مصروف تھے جس پر اسلامیہ کالج، سول لائنز کی انتظامیہ نے ان دونوں اساتذہ کو ملازمت سے برطرف کیا۔ پروفیسر منظور، ایرک سپرین اور امین مغل نے شاہ حسین کالج قائم کیا۔ اس کالج میں نصاب کے ساتھ سیاسی شعور کی بھی تعلیم دی جاتی تھی۔ 1970ء میں صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (P.F.U.J) نے غیر صحافی عملے کو عبوری امداد دینے کے مطالبہ کو منظور کرانے کے لیے 12 روزہ تاریخی ہڑتال کی۔ اس ہڑتال کے دوران ملک بھر سے کوئی اخبار شائع نہ ہوا۔ ہڑتال کے خاتمے پر پورے ملک کے 100 سے زیادہ صحافیوں اور اخباری کارکنوں کو ملازمتوں سے برطرف کیا گیا۔
نیشنل پریس ٹرسٹ (N.P.T) کے اخبارات سے برطرف ہونے والوں میں عبداﷲ ملک، حمید اختر اور آئی اے رحمن بھی شامل تھے۔ ان تینوں صحافیوں نے لاہور سے ایک اخبار روزنامہ ’’آزاد‘‘‘ شائع کیا۔ پروفیسر امین مغل آزاد کی ایڈیٹوریل ٹیم کا حصہ بن گئے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں تعلیمی اداروں کو جب قومیایا گیا تو شاہ حسین کالج کو بھی قومیا لیا گیا، یوں پروفیسر امین مغل بھی سرکاری ملازم ہوگئے۔ پروفیسر امین مغل نے قانون کے عظیم وکیل محمود علی قصوری سے مشورہ کیا۔ قصوری صاحب نے کہا کہ دنیا بھر میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ عملی سیاست کرتے ہیں مگر ہمارے ملک میں ایسا ممکن نہیں ہے، یوں جب اساتذہ کی تنخواہوں اور مراعات میں خاطر خواہ اضافہ کا وقت آیا تو امین مغل صاحب نے سرکاری ملازمت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ جب مظہر علی خان نے لاہور سے ہفت روزہ View Point شائع کرنے کا فیصلہ کیا تو آئی اے رحمن اس کے ورکنگ ایڈیٹر تھے۔ پروفیسر امین مغل کو جنرل ضیاء الحق کے دور ا قتدار میں قیدوبند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انھیں لاہور کے شاہی قلعہ کی اندھیری کوٹھڑی میں رکھا گیا۔ جب 1981ء میں پی آئی اے کے طیارے کے اغواء کا واقعہ ہوا تو پورے ملک سے جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے ہزاروں سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور دانشوروں کو بھی گرفتار کرلیا ۔
گرفتار ہونے والوں میں پروفیسر امین مغل بھی شامل تھے۔ کئی ماہ تک پنجاب کی مختلف جیلوں میں انھیں نظربند رکھا گیا۔جب پروفیسر امین مغل جیل سے رہا ہوئے تو انھوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا، وہ 1984ء میں لندن چلے گئے جہاں انھوں نے مختلف اخبارات میں کام کیا۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف یورپ میں ہونے والے مظاہروں میں پروفیسر امین مغل ہمیشہ متحرک رہے۔ امین مغل نے کبھی برطانیہ کا پاسپورٹ حاصل نہیں کیا۔
معروف صحافی آئی اے رحمن کے صاحبزادے احمر رحمن نے پروفیسر امین مغل کے ساتھ اپنی یادداشتوں کو یوں قلم بند کیا ہے۔ ’’Viewpoint کے دفتر کے دو حصے تھے یا یوں سمجھ لیجیے کہ دو بلاکس تھے، ایک جہاں پرنٹنگ پریس لگی ہوئی تھی، de-patch plateلگتی تھی، letterpress machine تھی اور ایک کمرہ میں رحمن صاحب اور پبلشر عزیز ضیاء صاحب بیٹھتے تھے اور دوسرے بلاک میں مظہر صاحب کا کمرہ تھا اور ایک بڑے ہال میں کوثری صاحب (میں اگر نام بھول نہ رہا ہوں تو)، میاں صاحب کا ریفرنس سیکشن بھی تھا اور ایک میز پر میرے ایک دوست بیٹھتے تھے جن کا نام تھا امین مغل (انکل)۔ امین مغل باتیں کم کرتے تھے اور سگریٹیں پیتے ہوئے سوچتے زیادہ، تو میری کبھی ان سے زیادہ گفت و شنید ہوئی نہیں۔ بیگم ایلس فیض بھی تھیں، ایک دن لارنس روڈ پر ریگل کی طرف جاتے ہوئے امین مغل (انکل) نے مجھے بتایا کہ یہ سامنے گلی میں ہم نے کالج شروع کیا تھا۔ شاہ حسین کالج۔ پھر وہ نہیں چلا۔ مجھے اس وقت معلوم نہ ہوسکا کہ کیا وجہ ہوگی، مگر میں ایک اندازہ لگانا شروع کرچکا تھا کہ یہ کوئی بہت پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ اب میرا دل چاہتا ہے کہ ان سے کچھ ایسے سوال کروں جس سے میری لیاقت بھی جھلکے۔ ایک دن وہ ہی منظر، کوثری صاحب اخبار کاٹ رہے ہیں، میاں نظام مارکنگ کر رہے ہیں، امین مغل اسی طرح سگریٹ سلگاتے کچھ سوچ رہے ہیں اور میں نے کہیں سن لیا کہ انگریزی میں "Q" کے بعد "U" ضرور لگتا ہے تو پوچھا ’’علامہ اقبال کے نام میں ہم U کیوں نہیں لگاتے؟‘‘ بولے ’’آپ نے بہت اچھا سوال کیا ہے، اکثر ہم Proper Nounsکی Spellingsمیں تھوڑی لبرٹی لے لیتے ہیں۔‘‘ ہمارے محلے میں بھینسوں کا باڑہ تھا۔ مجھے ایک دفعہ کہنے لگے کہ آپ اس کی تصویر بنائیں، ہم کسی اداریے میں اسے استعمال کریں گے، میں یہ کر نہیں پایا۔ Viewpoint عام فہم نام پرچہ تھا اور پرچہ اس وقت جمعہ کی چھٹی والے دن چھپتا تھا اور ہفتہ کو Distribute ہوتا تھا۔ وہاں چھٹی بھی ہفتہ کو ہی ہوتی تھی۔ (جس کو بعد میں Rescheduleکیا)۔ اسی وجہ سے رحمن صاحب اپنی تسلی کے لیے جمعرات کو جب تک پلیٹیں نہیں لگ جاتی تھیں وہیں رہتے اور دیر سے گھر جاتے۔ ایک دن میں امین مغل (انکل) کے پاس بیٹھا تو کہنے لگے کہ’’ ان کا بس چلے تو بستر بھی یہیں لگوالیں۔‘‘ پھر ایک ایسا خوفناک وقت آیا۔ ایک صبح معلوم ہوا کہ سب لوگ پکڑے گئے ہیں۔ جنھوں نے پکڑا اس نے Viewpoint کی ٹیم کو مزید ساتھ وقت گزارنے کا موقع دے دیا۔ واقعی بسترے بھی وہیں لگ گئے۔ بڑے صاحب برہم بھی ہوئے کہ’’ تم نے تو کہا کہ سب کو پکڑ لیا ہے پھر یہ چھاپ کیسے رہے ہیں؟‘‘ مجھے آج تک نہیں معلوم امین مغل (انکل) کس کس مشکل سے گزرے۔ میں پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ گھر کیسے چلتا تھا۔ یہ ضرور یاد ہے کہ کوٹ لکھپت جیل جاتے تھے اور بہت سے موقعوں پر زبیر بھائی جوکہ امین مغل (انکل) کے بھانجے ہیں ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔ لمبی واک، کبھی ہاتھ میں بسترا پکڑے، کبھی تھیلوں میں کچھ کھانے پینے کا سامان لیے۔ پھر معلوم ہوا کہ وہ ناراض ہوکر اپنی زمین چھوڑ کر چلے گئے۔ بتایا گیا تمام عمر سبز پاسپورٹ سنبھال کر رکھا۔ امین مغل (انکل) مجھ سے ملنے دوبارہ پاکستان نہیں آئے۔ میری بہن اور ان کے شوہر جوکہ ولایت میں اکثر ان سے ملنے جاتے تھے۔ ان کے بچے امین مغل (انکل) کو بکس (Books) والے دادا کہتے ہیں۔ 14اگست 2026ء کو ایک شخص کو ولایت میں ہی دفنا دیا گیا۔ کہتے ہیں پچھلی صدی میں ایک شخص نے غلام ملک میں اپنی تدفین نہ کرنے کی وصیت کی تھی۔ یہ اشعار امین مغل کی جدوجہد کی مکمل عکاسی کرتے ہیں۔
نہ رہا جنون رخ وفا، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنھیں جرم عشق پہ ناز تھا وہ گناہگار چلے گئے