پروٹین کو صحت مند غذا کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ جسم کے ٹشوز کی تعمیر و مرمت، انزائمز کی تیاری، پٹھوں کی صحت برقرار رکھنے اور وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے علاوہ پروٹین زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس بھی پیدا کرتی ہے اور جسم میں موجود اضافی چربی کم کرنے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔
تاہم کسی بھی غذائی جزو کی ضرورت سے زیادہ مقدار فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ پروٹین کا حد سے زیادہ استعمال بھی بعض صورتوں میں صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا کرسکتا ہے، اس لیے اس کی مقدار میں توازن رکھنا ضروری ہے۔
زیادہ پروٹین استعمال کرنے سے سب سے پہلے گردوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ خون میں موجود اضافی پروٹین کو گردوں کو فلٹر کرنا پڑتا ہے، اور اگر اس کی مقدار مسلسل زیادہ رہے تو گردوں کو معمول سے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، جو ان کی صحت کو متاثر کرسکتا ہے۔
پروٹین کی زیادتی جسم میں پانی کی کمی کا باعث بھی بن سکتی ہے، کیونکہ پروٹین اور پانی کے درمیان تعلق جسم کی ہائیڈریشن کو متاثر کرسکتا ہے۔ خصوصاً وہ افراد جو زیادہ پروٹین کے ساتھ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں، انہیں پانی کی مناسب مقدار لینے پر خاص توجہ دینی چاہیے، کیونکہ پسینے کے اخراج سے جسم میں پانی مزید کم ہوسکتا ہے۔
غذا میں پروٹین کی مقدار بہت زیادہ ہونے سے ہڈیوں کی صحت بھی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ زیادہ پروٹین کے نتیجے میں کیلشیم پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج ہوسکتا ہے اور طویل عرصے تک ایسا ہونے کی صورت میں ہڈیوں کی کمزوری کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔
اسی طرح پروٹین کا ضرورت سے زیادہ استعمال نظامِ ہاضمہ کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ اس سے ہاضمے کا عمل سست پڑنے کے باعث قبض اور بدہضمی جیسی شکایات سامنے آسکتی ہیں۔
زیادہ پروٹین کھانے کا ایک اثر پٹھوں میں کھنچاؤ اور درد کی صورت میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ جسم میں پانی کی کمی بتائی جاتی ہے جو پروٹین کی غیر معمولی مقدار استعمال کرنے سے پیدا ہوسکتی ہے۔
پروٹین کی زیادتی منہ کی صحت اور سانس کی بو پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ بعض امائنو ایسڈز کو جسم میں توڑنے کے عمل کے دوران سلفر مرکبات پیدا ہوتے ہیں، جن کی بو تیز اور ناگوار ہوتی ہے۔ یہی مرکبات سانس میں بدبو کا باعث بن سکتے ہیں۔
اس لیے پروٹین اگرچہ متوازن غذا کا اہم حصہ ہے، لیکن اسے ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے کے بجائے جسم کی ضرورت، مجموعی غذا اور روزمرہ سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب مقدار میں لینا زیادہ بہتر ہے۔