اسرائیل قابض ہے، گولان کی پہاڑیاں شام کی سرزمین ہیں؛ امریکی سفیر

اسرائیل کا گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، ٹام بارک


ویب ڈیسک August 22, 2026
اسرائیل نے 60 کی دہائی میں گولان پر قبضہ کیا اور 1981 میں اپنا قانون نافذ کیا

امریکا کے شام کے لیے خصوصی ایلچی اور ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام بارک نے کہا ہے کہ اسرائیل کا شام کی گولان کی پہاڑیوں پر کنٹرول قبضہ ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی نظام کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

قطری خبر رساں ادارے کے مطابق واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹام بارک نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے تحت گولان کی پہاڑیاں شام کی ملکیت ہیں۔

امریکی ایلچی نے کہا کہ اسرائیل اب بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی نظام کی مخالفت کرتے ہوئے گولان پر قابض ہے، جبکہ عالمی برادری کا مؤقف ہے کہ گولان شام کا حصہ ہے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد کیا ہے؟

گولان کی پہاڑیوں سے متعلق 1981 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اہم قرارداد نمبر 497 منظور ہوئی تھی جس میں اسرائیل کی جانب سے گولان پر اپنے قوانین، عدالتی اختیار اور انتظامی نظام نافذ کرنے کے فیصلے کو ’’باطل اور کالعدم‘‘ قرار دیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کی قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں شام کلی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا تھا اور اپنی ملکیت کا متنازع اعلان کیا تھا اور 1981 میں اپنا قانون اور انتظامی نظام بھی نافذ کر دیا۔

تاحال اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی اکثریت نے اسرائیل کی گولان کی پہاڑیوں پر ملکیت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

رواں سال اپریل میں شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں گولان کی پہاڑیوں کو بدستور مقبوضہ شامی علاقہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔

انھوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 497 پر عمل درآمد اور اسرائیلی افواج کی 4 جون 1967 کی جنگ سے قبل والی حد تک واپسی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔