ایپل نے آئی فون ایکس سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا

آئی فون ایکس نومبر 2017 میں متعارف ہوا تھا اور تقریباً 10 ماہ بعد ستمبر 2018 میں اس کی فروخت بند کردی گئی تھی


ویب ڈیسک August 23, 2026

ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنے معروف اسمارٹ فون آئی فون ایکس کو اپنی پروڈکٹ سپورٹ پالیسی کے سب سے محدود درجے ’آبسلیٹ‘ میں شامل کر دیا ہے، جس کے بعد اس ڈیوائس کے لیے ایپل کی جانب سے باضابطہ ہارڈویئر مرمت اور متبادل پرزوں کی فراہمی ختم ہوگئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایپل کی سپورٹ دستاویزات میں اب آئی فون ایکس کو ’آبسلیٹ‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس اسٹیٹس کے تحت ایپل اور اس کے مجاز سروس فراہم کنندگان عام طور پر اس ڈیوائس کی مرمت یا اس کے لیے متبادل پرزے فراہم نہیں کرتے۔

اس فیصلے کا مطلب ہے کہ اب بھی آئی فون ایکس استعمال کرنے والے صارفین کو خراب اسکرین، ختم ہوتی بیٹری یا خراب چارجنگ پورٹ جیسے مسائل کی صورت میں باضابطہ ایپل مرمت حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہوگا۔

ایپل عموماً کسی پروڈکٹ کی تقسیم اور فروخت بند ہونے کے سات سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد اسے ’آبسلیٹ‘ قرار دیتا ہے۔ اگرچہ، حتمی فیصلہ کمپنی خود کرتی ہے۔ آئی فون ایکس نومبر 2017 میں متعارف ہوا تھا اور تقریباً 10 ماہ بعد ستمبر 2018 میں اس کی فروخت بند کردی گئی تھی۔

’آبسلیٹ‘ کا درجہ ایپل کے ’ونٹیج‘ اسٹیٹس سے زیادہ سخت ہے۔ وِنٹیج ڈیوائسز کے لیے بعض صورتوں میں مرمت ممکن ہوتی ہے، بشرطیکہ مطلوبہ پرزے دستیاب ہوں۔

آئی فون ایکس کیوں اہم تھا؟

آئی فون ایکس نے ایپل کے اسمارٹ فون ڈیزائن میں ایک بڑی تبدیلی متعارف کرائی تھی۔ یہ پہلا آئی فون تھا جس میں فیس آئی ڈی اور او ایل ای ڈی ڈسپلے شامل کیے گئے جبکہ روایتی ہوم بٹن اور ٹچ آئی ڈی کو ختم کرکے تقریباً کنارے سے کنارے تک پھیلا ہوا نوچ ڈسپلے متعارف کرایا گیا۔

یوں آئی فون ایکس نے نہ صرف ایپل کے فلیگ شپ آئی فونز کے ڈیزائن کو تبدیل کیا بلکہ اسمارٹ فون انڈسٹری کے اگلے کئی سالوں کے ڈیزائن رجحانات پر بھی نمایاں اثر ڈالا۔