چنڈی گڑھ: بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر کروکشیتر میں ایک شخص کے لرزہ خیز قتل کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں پولیس نے اس کی اہلیہ پر قتل کے بعد لاش کو کاٹنے اور جسم سے بعض اعضا نکالنے کا الزام عائد کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق راجیش اور اس کی اہلیہ وِملا دیوی کروکشیتر میں ایک کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔ واقعے کے روز مکان کے مالک رِنکو نے شام کے وقت دونوں کے درمیان جھگڑے کی آوازیں سنیں اور چھت کی جانب گیا۔
مکان مالک کے مطابق وہاں راجیش خون میں لت پت پڑا تھا جبکہ وِملا مبینہ طور پر اس کے جسم سے باہر آنے والی آنتوں کو ایک تھیلے میں رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مالک کو دیکھ کر خاتون نے مبینہ طور پر چھت سے چھلانگ لگا دی۔
پولیس کے مطابق خاتون چھت سے گرنے کے باعث زخمی ہوئی اور اسے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ پولیس اس کا بیان ریکارڈ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق راجیش کے پیٹ پر تقریباً 35 سینٹی میٹر گہرا زخم تھا، جو کسی تیز دھار آلے سے لگایا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کے پیٹ سے آنتیں باہر آگئی تھیں، جبکہ جگر کا ایک بڑا حصہ اور دایاں گردہ بھی موجود نہیں تھا۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے مختلف سائز کے تین چاقو برآمد کیے ہیں اور فرانزک ٹیم نے شواہد جمع کرلیے ہیں۔ حکام لاش سے مبینہ طور پر غائب اعضا کے معاملے کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق راجیش کا تعلق اتر پردیش کے ضلع سیتاپور کے دھام پور گاؤں سے تھا اور وہ تقریباً ایک سال سے اپنی اہلیہ کے ساتھ کروکشیتر میں مقیم تھا۔ وہ پانی کی ایک کمپنی کے سپلائی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا تھا۔
مکان مالک کے مطابق وِملا مبینہ طور پر روایتی علاج اور جھاڑ پھونک سے متعلق سرگرمیوں میں بھی ملوث تھی، جبکہ میاں بیوی کے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے تھے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی اصل وجہ ابھی سامنے نہیں آسکی۔
راجیش اور وِملا کی شادی کئی سال قبل ہوئی تھی تاہم ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ پولیس میاں بیوی کے تعلقات، سابقہ جھگڑوں اور قتل سے پہلے پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لے رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیس کی تحقیقات خاتون کے بیان، فرانزک شواہد اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں آگے بڑھائی جائیں گی۔