شہری ایک لیٹر پیٹرول پر کتنا ٹیکس اور مارجن ادا کرنے پر مجبور ہیں؟

اضافی بوجھ کی وجہ سے ایندھن کی قیمتیں عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں


ویب ڈیسک August 24, 2026
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

ملک میں عام آدمی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں شامل بھاری ٹیکسوں اور مارجنز کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

نجی ٹی وی  کی موجودہ اعداد و شمار کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہری ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 130 روپے 75 پیسے ٹیکس اور مختلف مارجنز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر یہ اضافی بوجھ 122 روپے 47 پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے جو کہ صارفین کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

ڈیزل کی بنیادی لاگت 245 روپے 82 پیسے ہے جبکہ مارکیٹ میں اس کی قیمت 368 روپے 29 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس فرق میں شامل 122 روپے 47 پیسے لیوی، ٹیکس اور مختلف مارجنز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں جس سے ایندھن کی قیمتیں عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں۔

یاد رہے کہ حکومت نے چند روز قبل ہی پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں ایک روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔  کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت پیٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز کا مارجن اب 8 روپے 64 پیسے سے بڑھ کر 9 روپے 98 پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔