میئر کراچی نے کس حیثیت سے میر رضا کیس پر پریس کانفرنس کی، وکیل

کوئی مرتضیٰ وہاب کو قانون پڑھائے کہ عدالتی کمیشن کو قتل کیس کی تفتیش کا اختیار کس قانون کے تحت حاصل ہے؟


ناصر بٹ August 24, 2026

کراچی:

 

میر رضا کیس کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کس قانونی اور سرکاری حیثیت میں میر رضا کیس کے حوالے سے پریس کانفرنس کی؟ اگر وہ اس معاملے میں بات کر رہے ہیں تو انہیں مکمل تیاری کے ساتھ سامنے آنا چاہیے، کیونکہ وہ خود بیرسٹر اور وکیل ہیں، اس لیے مجھے توقع تھی کہ وہ قانون سے واقف ہوں گے۔

ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ میئر کراچی نے پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 1969 کے قانون کے تحت عدالتی کمیشن قتل کیس کی تحقیقات کرسکتا ہے۔ جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ کوئی مرتضیٰ وہاب کو قانون پڑھائے کہ عدالتی کمیشن کو قتل کیس کی تفتیش کا اختیار کس قانون کے تحت حاصل ہے؟ آج تک وہ کتنے قتل کے مقدمات میں بطور وکیل پیش ہوئے ہیں، اس کا جواب بھی دیں۔

جبران ناصر نے کہا کہ آج عدالت میں بھی عدالتی کمیشن کے ٹی او آرز پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ہمیں اطلاعات مل رہی ہیں کہ یہ عدالتی کمیشن میر رضا کیس کی تحقیقات کرے گا لیکن سوال یہ ہے کہ کمیشن قتل کیس کی تفتیش کس طرح کرسکتا ہے؟ قانون کے تحت کمیشن کو یہ اختیار دیا ہی نہیں جاسکتا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس کی سابقہ تفتیشی ٹیم نے میر رضا کیس کے کئی شواہد ضائع کیے یا انہیں ضائع ہونے دیا۔ ان کے بقول کمیشن کو پہلے پولیس کی سابقہ تفتیشی ٹیم کے کردار کی تحقیقات کرنی چاہیے اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ عدالتی کمیشن میر رضا کے قتل کی تحقیقات کرے گا تو یہ کیسے ممکن ہے؟

جبران ناصر نے کہا کہ کمیشن کے سربراہ ایک بہترین اور قابل جج ہیں تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہی پولیس ٹیم کمیشن کے ساتھ تحقیقات میں تعاون کرے گی جس کی کارکردگی پر ہم پہلے ہی سوالات اٹھا چکے ہیں؟ ہم نے آئی جی سندھ کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمیشن کے ٹی او آرز میں دیگر تحقیقاتی، خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے معاونت حاصل کرنے، انہیں طلب کرنے اور تحقیقات میں شامل کرنے کا واضح اختیار دیا جائے۔

جبران ناصر نے کہا کہ اگر حکومت کو پولیس کی تحقیقات پر اعتماد ہے تو ٹھیک، لیکن اگر ہم پولیس پر اعتماد نہیں کر رہے تو حکومت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مدد کیوں نہیں لے رہی؟ انہوں نے واضح کیا کہ میر رضا کے اہل خانہ اس کمیشن کے موجودہ ٹی او آرز کو تسلیم نہیں کرتے۔

جبران ناصر نے کہا کہ وزیر داخلہ سندھ نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کی میڈیکل رپورٹ پر سوالات اٹھائے ہیں جبکہ پولیس کی تفتیش تاحال خودکشی کی تھیوری کے گرد گھوم رہی ہے اس معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بننی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میئر کراچی اس کیس میں کیوں آئے ہیں؟ اگر وہ میر رضا کیس پر قانونی بحث کرنا چاہتے ہیں تو میں حاضر ہوں میں اس کیس سے متعلق ہر رائے، قانونی کارروائی اور عدالت سے رجوع میر رضا کے اہل خانہ کی مشاورت سے کررہا ہوں۔