راولپنڈی:
عسکری اپارٹمنٹمس میں قومی اسمبلی کی ڈیجیٹل میڈیا ایگزیکٹو حنا جاوید کے قتل میں ملوث دونوں ملزمان کو لیکر پولیس ٹیم ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے لاہور روانہ ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق پولیس ٹیم دنوں ملزمان کو کڑی سیکورٹی میں لیکر لاہور روانہ ہوئی، دونوں ملزمان کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مقتولہ کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے پوسٹ مارٹم کے دوران ہی لے لیے گیے تھے، دنوں ملزمان کو آج ہی ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد لاہور سے واپسی راولپنڈی منتقل کردیا جائے گا۔
پولیس کی ابتک کی تفتیش میں گھریلو ملازم ذیشان کے اعترافی بیان نے تمام کڑیاں کھول کر رکھ دی ہیں، ملازم ذیشان نے پولیس تفتیش میں بیان دیا تھا کہ میاں بیوی فیصل اصغر امام اور حنا جاوید کے مابین جھگڑا ہوا تھا، اہلیہ پر تشدد کے دوران فیصل اصغر امام نے مدد کے لیے بلایا تو گیا۔
ملزم نے بتایا تھا کہ تشدد کے دوران حنا جاوید نے جان بچانے کے لیے بھاگنے کی کوشش کی تو پکڑ کر گلا دبایا، بعد ازاں نعش کو تار کے ساتھ باتھ روم کے شاور سے باندھ دیا تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق ذیشان حنا جاوید کے پرس اور گھر میں رکھی رقم بھی چراتا رہتا تھا، پولیس کو واقعے کی اطلاع مقتولہ کے سسر نے یہ کہہ کردی کہ گھر میں چور گھس آئے ہیں، پولیس موقع پر پہنچی تو مقتولہ کی نعش باتھ روم سے برآمد ہوئی۔
پولیس نے مقتولہ کے خاوند فیصل اصغر امام اور ملازم ذیشان کو باقاعدہ گرفتار کر رکھا ہے جو ریمانڈ پر ہیں، سسر اصغر امام بھی شامل تفتیش ہیں لیکن گرفتاری التواء میں رکھی گئی ہے۔
مقتولہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد اور گردن کی ہڈی ٹوٹنے کی تصدیق ہوئی ہے۔
آر پی او راولپنڈی بار سرفراز الپا کے مطابق ہائی پروفائل قتل کیس کے لیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن سیف اللہ کی سربراہی میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے رکھی ہے۔ کیس کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر تفتیش جاری ہے۔