آبنائے ہرمز میں 6 ماہ کے دوران 68 خطرناک واقعات، 20 افراد جاں بحق

آبنائے ہرمز میں مسلسل واقعات نے عالمی شپنگ کمپنیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کردی ہیں


ویب ڈیسک August 25, 2026

آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کے سمندری علاقوں میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری چھ ماہ کی جنگ کے دوران تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔

عالمی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران خلیج اور اس سے ملحقہ سمندری علاقوں میں تجارتی جہازوں سے متعلق 68 واقعات کی تصدیق ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کی میری ٹائم ایجنسی کے مطابق ان واقعات کے دوران کم از کم 20 بحری کارکن یا بندرگاہوں کے ملازمین جاں بحق ہوئے، جبکہ 35 افراد زخمی اور ایک شخص لاپتا ہوا۔

اعداد و شمار کے مطابق چھ ماہ میں 68 واقعات کا مطلب ہے کہ اوسطاً ہر 2.6 دن بعد ایک واقعہ پیش آیا۔ ان واقعات نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی اور عالمی توانائی کی ترسیل کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اسی وجہ سے خطے میں جاری جنگ کے دوران اس علاقے میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت خصوصی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔

IMO کے مطابق ان واقعات میں تقریباً نصف واقعات آئل ٹینکرز سے متعلق تھے۔ مجموعی واقعات میں تقریباً 20 فیصد کنٹینر جہاز جبکہ 15 فیصد بلک کیریئرز شامل تھے۔

برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے ان 68 واقعات میں سے 47 کو حملوں کے طور پر درجہ بند کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں تجارتی بحری جہازوں کو درپیش خطرات صرف حادثات یا معمول کے سمندری واقعات تک محدود نہیں رہے بلکہ متعدد جہاز براہ راست حملوں کا بھی نشانہ بنے۔

جھنڈے کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے جہاز لائبیریا کے پرچم بردار تھے۔ ایسے جہاز 13 واقعات میں شامل رہے۔ اس کے بعد پاناما اور مارشل آئی لینڈز کے پرچم بردار جہازوں کا نمبر آتا ہے، جن میں سے ہر ملک کے 10 جہاز مختلف واقعات میں متاثر ہوئے۔

آبنائے ہرمز میں مسلسل واقعات نے عالمی شپنگ کمپنیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کردی ہیں۔ جہازوں کی حفاظت، انشورنس اخراجات، متبادل بحری راستوں اور تیل و گیس کی عالمی ترسیل پر اس صورتحال کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔