اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔
حکومت کے حامی نشریاتی ادارے چینل 14 کے ساتھ ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ان کے ایک بیٹے کو نشانہ بنایا اور قتل کرنے کی کوشش کی۔
تاہم، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے دو بیٹوں یائر یا اونر میں سے کس کو نشانہ بنایا گیا، اور نہ ہی انہوں نے کوئی خاص تفصیلات فراہم کیں۔
چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ ایک قاتلانہ حملہ اس وقت ہوا جب بڑا بیٹا یائر نیتن یاہو بیرون ملک مقیم تھا حالانکہ اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ براہ راست ہدف تھا یا نہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی حکام کو کئی ماہ سے اس معاملے کا علم تھا مگر انہوں نے تفصیلات کو فوجی سنسر شپ کے تحت رکھا ہوا تھا۔
ٹائمز آف اسرائیل نے اطلاع دی ہے کہ ان بیانات کو شن بیت سیکیورٹی سروس کی جانب سے سیکیورٹی کوریج بڑھانے اور ان کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو کو تاحیات سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے کیے گئے ایک حالیہ معاہدے کے دفاع کے طور پر دیکھا جارہا ہے.