عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کریں، کل کو ہم بھی حکومت میں آ سکتے ہیں، سینیٹر علی ظفر

سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن اور حکومت بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر آمنے سامنے، گرما گرم بحث


ویب ڈیسک August 25, 2026

اسلام آ باد:

سینیٹر علی ظفر نے سینیٹ میں بحث کے دوران کہا ہے کہ عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کریں، کل کو ہم بھی حکومت میں آ سکتے ہیں۔

سینیٹ کا اجلاس پریذائڈنگ افسر شہادت اعوان کی زیر صدارت ہوا، جس میں بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال لے جانے اور سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید بحث ہوئی۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ وہ ایک قرارداد پیش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے حضرت علی کا قول بیان کرتے ہوئے کہا کہ معاشرہ کفر کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے، ظلم کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 204 کہتا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے سے توہین عدالت لگ سکتی ہے۔

علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو حکم دیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال لایا جائے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، جس میں ڈاکٹر فیصل بھی شامل ہوں۔ بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال نہیں لے جایا گیا اور نہ میڈیکل بورڈ بنایا گیا۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ سیکیورٹی ایشو ایک بہانہ ہے ، حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کیا۔ حکومت نے عدالت کے فیصلے کو خود ہی تبدیل کیا ہے۔ حکومتی وزرا سے کہتا ہوں کہ بانی پی ٹی آئی یا ان کی جماعت سے مخالفت ہے لیکن کسی کی صحت سے نہ کھیلیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہ کریں، کل کو ہم بھی حکومت میں آسکتے ہیں۔ اگر عدالت کا فیصلہ ٹھیک نہیں لگتا تھا تو عدالت سے مزید ہدایت لی جاسکتی تھی۔ جب بھی حکومتوں نے عدالتوں کے حکم ماننا بند کیے، آمر آتے رہے۔

علی ظفر نے کہا کہ اگر عدالتوں کو کمزور کیا جائے گا تو انصاف کی حکمرانی نہیں ہوگی ، عوام کا اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ عدالت نہ بنے، اپنا کام کرے ، عدالتی حکم پر عمل کرے۔ وہ اسی معاملے پر قرارداد لانا چاہتے تھے۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ قرارداد میں کہا تھا کہ سینیٹ آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔ پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم قرارداد کی حمایت تو کرتے ہیں، اس پر دستخط نہیں کریں گے۔ قرارداد میں بانی پی ٹی آئی کو شفا میں علاج کروانے کی بات بھی کی گئی تھی۔ علی ظفر نے کہا کہ سائن نہ کرکے حکومت اور اس کے اتحادیوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ آئین کی بالادستی نہیں چاہتے۔

اس موقع پر مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کل طے ہوچکا ہے کہ عدالتوں میں زیر بحث معاملات پر قرارداد نہیں آسکتی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت آئین کے تابع ہے اور تمام عدالتیں بھی آئین کی تابع ہیں۔ نظرثانی کا آپشن بھی اسی لیے رکھا گیا ہے کہ عدالت کے نوٹس میں کوئی آئینی نقطہ لانا چاہیں تو لاسکیں۔ 18 اگست کو سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا، جس پر عملدرآمد سے متعلق علی ظفر کا ایک موقف ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عدالت کا حکم تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا لایا جائے اور میڈیکل بورڈ چیک اپ کرے۔ سپریم کورٹ نے اسی حکم میں یہ بھی لکھا تھا کہ سیکیورٹی انتظامات ضلعی انتظامیہ دیکھے گی۔ بانی پی ٹی آئی کو عدالتی حکم پر لایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا موقف ہے کہ شفا کے باہر ایسی صورتحال بن سکتی تھی کہ وہاں امن وامان کا مسئلہ بن سکتا تھا۔ آخری لمحے میں بانی پی ٹی آئی کو سرکاری اسپتال لایا گیا، ان کا مکمل چیک اپ کیا گیا اور انہیں واپس جیل بھیج دیا گیا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے۔ حکومت کو عدالت نہیں بننا چاہیے تو اپوزیشن کو بھی عدالت نہیں بننا چاہیے۔ عدالت فیصلہ کرے گی کہ اس کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

انہوں نے پی ٹی آئی عہدیداران کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پریس کانفرنس کے مطابق بانی پی ٹی آئی ایک صحت مند انسان ہیں۔ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو بہترین میسر طبی سہولیات دی ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ملاقات کے معاملے پر میڈیا سے بات نہیں کریں گے۔ پریس کانفرنس میں بانی پی ٹی آئی کا یہ پیغام بھی دیا گیا کہ کام اٹھا کے رکھیں، جبکہ یہ پیغام وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے تھا، پریس کانفرنس میں کیوں بولا گیا؟

انہوں نے کہا کہ ان کی صحت سے متعلق نہ پہلے کوئی کوتاہی کی گئی ہے، نہ آئندہ کریں گے۔ رانا ثناء اللہ نے سوال کیا کہ آپ نے جو پریس کانفرنس کی ہے، کیا وہ صحت پر سیاست نہیں ہے؟ قانون میں یہ بات موجود نہیں کہ ایک قیدی کا نجی اسپتال سے علاج کروایا جائے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس کے بعد ہزاروں قیدی اگر کہیں کہ وہ نجی اسپتال سے علاج کروانا چاہتے ہیں تو کیا کریں گے؟ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ حکومت نے بڑے پن کا مظاہرہ نہیں کیا۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ ہم ایسا نہیں کریں گے کہ کہیں سے کوئی آرڈر آیا اور عدم اعتماد آگئی۔ سیاستدان ملک کا معزز ترین طبقہ ہے اور یہی طبقہ دہشتگردی کے مقدمات جھیل رہے ہیں۔ میری گزارش ہے کہ اب بھی ہوسکتا ہے، آپ ابھی ان کو وہاں لے جاکر میڈیکل چیک اپ کروالیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے اوپر کوئی پریشر ڈالتا ہے تو ہم حکومت کا ساتھ دیں گے۔ سینیٹرز کی کمیٹی بننی چاہیے جو جیلوں میں جاکر صورتحال کو دیکھے۔ ہمیں قرارداد پیش کرنے کی اجازت دیں۔ اگر ہمیں افہام و تفہیم کا مشورہ دے رہے ہیں تو خود بھی اس پر عمل کریں۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جب آپ نے پریس کانفرنس میں بانی پی ٹی آئی کے وائٹلز بتائے کہ وہ صحت مند ہیں، اگر وائٹلز درست ہیں تو آپ بانی پی ٹی آئی کو بیمار کیوں ثابت کرنا چاہتے ہیں؟

سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر ناصر بٹ نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی پر عدالتوں کے احترام نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔

ناصر بٹ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عدالتی حکم کے باوجود پریس کانفرنس کی۔ یہ شفا اسپتال پر کیوں ڈٹے ہوئے ہیں، کیا شفا اسپتال میں آپ نے اپنے بندے بٹھا رکھے ہیں؟ آپ کے پاس بانی پی ٹی آئی کی صحت کے علاوہ بیچنے کو کوئی اور چورن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک گھنٹے کی پریس کانفرنس عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔ شہباز شریف اور مریم نواز نے کبھی نہیں پوچھا کہ بانی پی ٹی آئی کو کیا سہولیات ہیں۔

سینیٹر مشعال یوسفزئی نے کہا کہ یہ بتایا جائے کہ آج تک بانی پی ٹی آئی کے خون کے ٹیسٹ کیوں نہیں کیے گئے اور ان کی انجیوگرافی کیوں نہیں کروائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پمز کی سی پی انجیوگرافی مشین خراب ہونے کی بات ہم نے نہیں، وزیراعظم نے کی ہے۔

مشعال یوسفزئی نے کہا کہ نوازشریف کی سزا معطل کرکے انہیں شریف میڈیکل کمپلیکس لایا گیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی نوازشریف کی طرح جیل سے شریف میڈیکل کمپلیکس اور وہاں سے لندن نہیں جائیں گے۔ انہیں تکلیف ہے کہ ہم نے توہین عدالت میں محسن نقوی کا نام کیوں نہیں دیا۔

مشعال یوسفزئی کی باتوں پر ایوان میں بیٹھے محسن نقوی مسکراتے رہے اور ان کی باتیں سن کر ہنستے رہے۔

بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔