حملے کی تیاری؟ امریکی فضائیہ کا طیارہ غیر متوقع اور پُراسرار طور پر روس پہنچ گیا

طیارے نے جس فوجی اڈے سے اُڑان بھری وہ امریکی صدر اور اعلیٰ حکام کے سرکاری فضائی سفر کے لیے استعمال ہوتا ہے


ویب ڈیسک August 25, 2026
امریکی فضائیہ کا طیارہ ماسکو پہنچ گیا

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور امریکا ایران جنگ کے شدید تناؤ کے دوران امریکی فضائیہ کا ایک طیارہ اس طرح ماسکو پہنچ گیا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوسکی۔

پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار24 کے مطابق امریکی فضائیہ کا C-17 گلوب ماسٹر طیارہ منگل کو تقریباً صبح 7 بجے جی ایم ٹی پر لٹویا کے دارالحکومت ریگا سے ماسکو پہنچا۔ طیارے پر امریکی رجسٹرڈ ٹیل نمبر بھی موجود تھا۔

فلائٹ ریڈار24 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی طیارہ 23 اگست کو واشنگٹن کے قریب امریکی فضائی اڈے کیمپ اسپرنگز پہنچا اور اتوار کی سہ پہر میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز سے ماسکو کے لیے روانہ ہوا تھا۔

خیال رہے کہ جوائنٹ بیس اینڈریوز امریکی صدر اور اعلیٰ حکام کے سرکاری فضائی سفر کے لیے اہم فوجی اڈہ سمجھا جاتا ہے تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ امریکی طیارے میں کون سی شخصیت موجود تھی۔

رپورٹ کے مطابق یورپ سے براہ راست روس جانے والی آخری امریکی رجسٹرڈ پرواز جنوری میں ہوئی تھی جب یوکرین جنگ کے حوالے سے امن مذاکرات کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر روس پہنچے تھے۔

ادھر روسی حکومتی دفتر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی طیارے کی آمد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں اور رواں ہفتے کسی بھی امریکی حکام کے ساتھ کوئی ملاقات بھی طے نہیں تھی۔

C-17 گلوب ماسٹر ایک بھاری بھرکم فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ ہے جو فوجیوں اور فوجی سازوسامان کو طویل فاصلے تک منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ماسکو میں اس کی اچانک آمد نے اس کے ممکنہ مقصد کے بارے میں مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔

برطانوی اخبار دی آئی پیپر کے مطابق ممکنہ طور پر یہ پرواز کسی سفارتی سرگرمی یا قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ہوسکتی ہے۔ یہ قیاس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اگست میں سابق امریکی میرین رابرٹ گلمن کی رہائی اور اس سے قبل روس اور امریکا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے ہوچکے ہیں۔

اگرچہ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات میں نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی اور بات چیت تعطل کا شکار ہے، تاہم امریکا اور روس کے درمیان کسی غیراعلانیہ سفارتی رابطے کا امکان مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔

فی الحال امریکی حکام کی جانب سے طیارے کی ماسکو آمد کے مقصد پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔