میٹا کے مالک اور انکی اہلیہ کا 125 ملین ڈالر سے چلنے والا فلاحی اسکول کیوں بند ہوا؟

کم آمدن والے خاندانوں کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے والے دی پرائمری اسکول میں 125 ملین ڈالرز خرچ ہوئے


ویب ڈیسک August 25, 2026
دی پرائمری اسکول 2016 میں مارک زکربرگ اور ان کی اہلیہ نے قائم کیا تھا

میٹا کے مالک مارک زکر برگ کی اہلیہ ڈاکٹر پریسیلا چان کا کم آمدن والے خاندانوں کے بچوں کو مفت تعیم فراہم کرنے والا پرائمری اسکول 125 ملین ڈالرز کی خطیر سرمایہ کاری کے باوجود ایک دہائی بعد بند ہوگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مارک زکر برگ اور ان کی اہلیہ نے ’’دی پرائمری اسکول‘‘ 2016 میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر ایسٹ پالو آلٹو میں قائم کیا گیا تھا۔

اس اسکول کو مارک زکر برگ کی اہلیہ کے فلاحی ادارے چان زکربرگ انیشی ایٹو کی جانب سے بڑے پیمانے پر مالی معاونت حاصل رہی ہے جون تقریباً 125 ملین ڈالرز ہے۔

اسکول کا مقصد کیا تھا؟

دی پرائمری اسکول کا بنیادی تصور روایتی تعلیم سے مختلف تھا۔ اس کا مقصد کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو صرف مفت تعلیم فراہم کرنا نہیں بلکہ ان کی صحت اور سماجی ضروریات کو بھی تعلیمی نظام کا حصہ بنانا تھا۔

اسکول میں مفت تعلیم کے ساتھ بچوں کے دانتوں کا معائنہ، صحت سے متعلق سہولیات، ابتدائی طبی و نشوونما کی اسکریننگ اور والدین کے لیے فلاحی و صحت سے متعلق معاونت فراہم کی جاتی تھی۔

اس ماڈل کو ’مکمل بچے‘ کے تصور پر استوار کیا گیا تھا جس کے تحت یہ سمجھا گیا کہ غربت، صحت اور خاندانی مسائل بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔

125 ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری

رپورٹس کے مطابق چان زکربرگ انیشی ایٹو نے اسکول پر 125 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔ اسکول کے دو کیمپس تھے اور بند ہونے کے وقت تقریباً 540 بچے زیر تعلیم تھے۔ 

تاہم اتنی بڑی مالی معاونت کے باوجود اسکول تعلیمی نتائج کے حوالے سے وہ اہداف مسلسل حاصل نہ کرسکا جو اس کے قیام کے وقت مقرر کیے گئے تھے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسکول کو طلبہ کی تعلیمی کارکردگی، قیادت میں بار بار تبدیلی اور مسلسل بیرونی مالی معاونت پر انحصار جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ 

بند کرنے کا فیصلہ کس نے کیا؟

دستیاب رپورٹس کے مطابق اسکول کو بند کرنے کا فیصلہ براہِ راست مارک زکربرگ یا پریسیلا چان نے اکیلے نہیں کیا بلکہ اسکول کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بندش کا فیصلہ کیا۔

چان زکربرگ انیشی ایٹو نے 2025 میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2025-26 تعلیمی سال کے بعد اسکول کی فنڈنگ جاری نہیں رکھے گا۔

بعد ازاں اسکول کے بورڈ نے بندش کی منظوری دی اور جون 2026 میں دونوں کیمپس بند ہوگئے۔ چان زکربرگ انیشی ایٹو کا مؤقف تھا کہ اسکول ایک الگ ادارہ تھا اور اس کی بندش کا حتمی فیصلہ اسکول کے بورڈ کا تھا۔ 

چان زکربرگ انیشی ایٹو نے فنڈنگ کیوں روکی؟

اس فیصلے کے پس منظر میں چان زکربرگ انیشی ایٹو کی ترجیحات میں تبدیلی بھی اہم عنصر تھی۔ حالیہ برسوں میں اپنی توجہ سماجی منصوبوں کے بجائے سائنس، بائیومیڈیکل تحقیق اور مصنوعی ذہانت سے متعلق تحقیق کی جانب زیادہ مرکوز کی ہے۔

دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ اسکول اپنے تقریباً دس سالہ سفر میں کچھ شعبوں، خصوصاً بچوں کی فلاح اور سماجی و جذباتی نشوونما میں کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود اپنے تعلیمی اہداف مسلسل حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

400 سے زائد بچوں کا مستقبل متاثر

اسکول کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر کم آمدنی والے خاندان ہوئے۔ ایسٹ پالو آلٹو کے کیمپس میں 400 سے زیادہ بچے زیر تعلیم تھے جنہیں اب دوسرے تعلیمی اداروں میں منتقل ہونا پڑا ہے۔

مقامی حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسکول بند ہونے کے بعد علاقے کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے پہلے ہی محدود تعلیمی وسائل پر دباؤ بڑھے گا۔ 

50 ملین ڈالر کی منتقلی معاونت

اسکول بند کرنے کے باوجود چان زکربرگ انیشی ایٹو نے متاثرہ کمیونٹی کو مکمل طور پر چھوڑنے کے بجائے 50 ملین ڈالر کی معاونت کا اعلان کیا۔

یہ رقم ایسٹ پالو آلٹو، بیلے ہیون اور ایسٹ بے کے علاقوں میں بچوں، خاندانوں، ابتدائی تعلیم، صحت اور والدین کی معاونت کے پروگراموں کے لیے استعمال کی جائے گی۔ مقامی اسکول ڈسٹرکٹ کو بھی اس منتقلی کے مرحلے میں مالی مدد فراہم کی گئی ہے۔ 

ایک مہنگا فلاحی تجربہ کیوں ناکام ہوا؟

دی پرائمری اسکول کا تجربہ اس بحث کو دوبارہ زندہ کر گیا ہے کہ کیا ارب پتی افراد کی فلاحی سرمایہ کاری طویل عرصے تک عوامی تعلیمی نظام کا متبادل بن سکتی ہے۔

اس منصوبے میں تعلیم، صحت اور سماجی معاونت کو ایک ہی ادارے میں جمع کرنے کا منفرد ماڈل اپنایا گیا تھا، لیکن اسکول کو مسلسل مالی معاونت کی ضرورت رہی اور مطلوبہ تعلیمی نتائج بھی حاصل نہ ہوسکے۔