آبنائے ہرمز سے بلوچستان تک

پاک افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران اسی پس منظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔


ایڈیٹوریل August 26, 2026

کبھی کسی ملک کی خارجہ پالیسی کی اصل آزمائش سفارتی میز پر نہیں، اس لمحے ہوتی ہے جب دنیا کے دو متحارب فریق ایک دوسرے کے خلاف آخری حد تک جانے کی دھمکی دے رہے ہوں اور اس آگ کی تپش اس ملک کی اپنی معیشت، سرحدوں اور شہری زندگی تک پہنچنے لگے۔ پاکستان آج ایسے ہی ایک موڑ پر کھڑا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی، آبنائے ہرمز کی سلامتی، اقتصادی پابندیوں کی نئی لہر اور خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات نے اسلام آباد کو ایسے سفارتی میدان کا ایسا کھلاڑی بنا دیا ہے جو جنگ اور کشیدگی کو امن کی راہ پر ڈالنے کی جدوجہد کررہا ہے۔

پاک افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران اسی پس منظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ کوشش کہ امریکا اور ایران کے درمیان تعطل ختم ہو، کشیدگی کم ہو اور مذاکرات کا راستہ دوبارہ کھلے، تنازعے کا حتمی حل سامنے آجائے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی عسکری قیادت سے رابطے اور ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے پاکستان کے اثرورسوخ استعمال کرنے کی اطلاعات اس امر کی غماز ہیں کہ اسلام آباد کو اس بحران میں ایک اہم رابطہ کار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی، اسپیکر باقر قالیباف اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں اس سفارتی عمل کی اہم کڑیاں ہیں۔ ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کو سراہنا مثبت اشارہ ضرور ہے، مگر اصل کامیابی بیانات سے نہیں، عملی نتائج سے ثابت ہوگی۔

آنے والے دنوں میں مذاکرات کا راستہ کھلتا ہے، کشیدگی کم ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت بحال ہوتی ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ معاملات سلجھنے کی طرح بڑھے ہیں۔مسئلے کا زیادہ پیچیدہ پہلو امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں ہیں۔ یہ دباؤ اس امر کی علامت ہے کہ جدید جنگ کا میدان اب صرف توپ، میزائل اور طیارے نہیں رہے۔ بینکاری، تجارت، تیل، شپنگ اور مالیاتی نظام بھی طاقت کے ہتھیار بن چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اقتصادی جنگ فوجی جنگ کا متبادل بن رہی ہے یا دراصل وہ فوجی تصادم تک پہنچنے کا ایک نیا راستہ ہے؟پابندیوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ معاشی دباؤ کسی ملک کو کمزور تو کرسکتا ہے، لیکن لازماً اس کی سیاسی مزاحمت ختم نہیں کرتا۔ بعض اوقات بیرونی دباؤ حکومتوں کو داخلی مشکلات کا ذمے دار بیرونی دشمن قرار دینے کا موقع دیتا ہے اور قومی مزاحمت مزید شدت اختیار کرلیتی ہے۔ ایران کے بارے میں بھی یہی خطرہ موجود ہے، اگر مسلسل پابندیاں تہران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے بجائے اسے مزید سخت ردعمل کی طرف دھکیل دیں تو اقتصادی دباؤ کا مقصد ہی الٹا ہوسکتا ہے۔آبنائے ہرمز اسی خطرناک کشمکش کا سب سے حساس نقطہ ہے۔

خلیج فارس سے عالمی منڈی تک تیل کی ترسیل کے اس اہم راستے میں معمولی خلل بھی عالمی توانائی کی قیمتوں، شپنگ، انشورنس اور مہنگائی پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ انتباہ کہ اقتصادی جنگ جاری رہی تو آبنائے ہرمز سے تیل کا ایک قطرہ بھی گزرنے نہیں دیا جائے گا، محض ایک سیاسی بیان سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری طرف ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے بعض امریکی دعوؤں کو نفسیاتی جنگ قرار دینا بھی ظاہر کرتا ہے کہ دونوں جانب عسکری دباؤ کے ساتھ اطلاعاتی اور نفسیاتی محاذ بھی سرگرم ہے۔یہاں اصل سوال عالمی طاقتوں سے زیادہ ان ممالک کا ہے جو اس تنازع کے فریق نہیں۔ اگر ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو ایشیا کی وہ معیشتیں سب سے زیادہ متاثر ہوں گی جو مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرتی ہیں۔ پاکستان بھی ان میں شامل ہے۔

عالمی تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہمارے لیے صرف پٹرول مہنگا ہونے کا مسئلہ نہیں ہوگا، اس کے اثرات بجلی کی پیداوار، صنعت، ٹرانسپورٹ، زراعت، درآمدی بل اور عام آدمی کی قوتِ خرید تک پہنچیں گے۔ ایک بیرونی جنگ یوں خاموشی سے پاکستانی گھرانے کے ماہانہ بجٹ میں داخل ہوجائے گی۔

اسی لیے پاکستان کو واشنگٹن اور تہران دونوں پر یہ واضح کرنا چاہیے کہ آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کے خلاف دباؤ کے آلے میں تبدیل کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ امریکا کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتصادی پابندیوں کا ہر نیا دائرہ صرف ایران کو نہیں، عالمی تجارت کو بھی غیر یقینی سے دوچار کرتا ہے۔ ایران کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ آبنائے کی سلامتی کو ایسی دھمکیوں سے وابستہ کرنے سے گریز کرے جن کے اثرات خود ایرانی معیشت اور اس کے ہمسایوں پر پڑ سکتے ہیں۔ مشترکہ راستوں کی حفاظت مشترکہ ذمے داری ہوتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی اس عالمی سفارتی سرگرمی کا ایک تلخ داخلی حوالہ بھی ہے جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ بلوچستان میں ضلع پشین کے علاقے سرانان، سلیمان زئی میں سڑک کی تعمیر پر کام کرنے والے پانچ مزدوروں کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا، جب کہ ایک مزدور زخمی ہوا اور تعمیراتی مشینری کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مقتولین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کا تعلق پنجاب سے ہے۔ بی ایل اے نے اس کی ذمے داری بھی قبول کرلی ہے۔

دیکھنا یہ کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اختر مینگل اور دیگر قومی پرست لیڈران اس پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کا قتل دراصل پاکستان کے اس تصور پر حملہ ہے جس میں ایک صوبے کا شہری دوسرے صوبے میں روزگار، تعمیر اور زندگی کا حق رکھتا ہے۔سڑک بنانے والے مزدور کو نشانہ بنانا علامتی اعتبار سے بھی گہرا پیغام رکھتا ہے۔ سڑک صرف پتھر، تارکول اور مشینری کا نام نہیں، وہ بازار، اسپتال، اسکول، روزگار اور ریاستی رابطے تک پہنچنے کا راستہ ہوتی ہے، جو دہشت گرد تعمیراتی کارکنوں کو قتل کرتے ہیں، وہ دراصل ترقی کے امکان کو خوف میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے بلوچستان میں ایسے حملوں کا جواب صرف مذمتی بیانات سے نہیں دیا جاسکتا۔ دہشت گردوں کے نیٹ ورک، سہولت کاروں، مالی ذرائع اور نقل و حرکت کے راستوں کو توڑنا ہوگا، جب کہ مقامی آبادی کو ریاستی حکمت عملی کا فعال شریک بنانا بھی ضروری ہے۔

مختلف علاقوں میں مسلسل پرتشدد واقعات یہ تقاضا کرتے ہیں کہ داخلی سلامتی کو صرف طاقت کے استعمال کے زاویے سے نہ دیکھا جائے۔ موثر انٹیلی جنس، پولیس اور لیویز کی استعداد، سیکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ، مقامی انتظامیہ کی فعالیت اور شہریوں کے اعتماد کی بحالی ایک ہی حکمت عملی کے مختلف حصے ہیں۔ جہاں ریاست صرف حملے کے بعد پہنچتی ہے وہاں دہشت گردی اپنا نفسیاتی اثر پہلے ہی قائم کرچکی ہوتی ہے۔یہاں بیرونی اور داخلی سلامتی کے مسائل ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ ایران کے ساتھ سرحدی علاقوں کا امن، افغانستان کی صورتِ حال، بلوچستان میں دہشت گردی، خلیج کی کشیدگی اور عالمی توانائی کی قیمتیں الگ الگ واقعات نہیں۔ یہ سب پاکستان کی قومی سلامتی کے ایک ہی بڑے نقشے کے حصے ہیں۔

بیرونی دنیا میں امن کی سفارت کاری کرنے والے ملک کو اپنے اندر بھی ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں مزدور سڑک بناتے ہوئے خوفزدہ نہ ہو، تاجر سفر کرتے ہوئے جان کا خطرہ محسوس نہ کرے اور مقامی آبادی ریاست کو محض ایک دور کی طاقت نہیں بلکہ اپنے تحفظ کی ضمانت سمجھے۔پاکستان چاہتا ہے کہ اس کے ہمسایہ ملکوں میں امن رہے کیونکہ اس کے ذریعے ہی نان سٹیٹ ایکٹرز کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے ۔پاکستان چاہتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ ختم ہوجائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں بے یقینی کا ماحول ختم ہو، پاکستان کے لیے تجارتی راستے اور منڈیا کھل جائیں۔ امریکا کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچائے بغیر ایران کے ساتھ رابطہ، خلیجی ممالک کے ساتھ مشاورت، چین اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی ہم آہنگی اور خطے میں تنازعات کے پرامن حل کی مسلسل کوشش وہ راستہ ہے جو پاکستان کے مفاد میں ہے۔ لیکن اس سفارتی کردار کی قوت اسی وقت بڑھے گی جب داخلی محاذ پر ریاست اپنی رٹ، شہریوں کا اعتماد اور ترقیاتی سرگرمیوں کا تحفظ یقینی بنائے۔

دنیا آج ایک ایسے بحران کے کنارے کھڑی ہے جہاں ایک بندرگاہ، ایک آبنائے، ایک پابندی یا ایک غلط فہمی عالمی معیشت کو ہلا سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے دانش مندی یہ ہے کہ وہ اس طوفان میں جذباتی صف بندی کے بجائے قومی مفاد کی سمت نما تھامے رکھے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا دروازہ کھلوانا اہم ہے، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا ضروری ہے، عالمی توانائی کی منڈی کو جنگ سے بچانا ناگزیر ہے، ساتھ ہی بلوچستان کے ان پانچ مزدوروں کے خون کا حساب بھی ریاستی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے جنھیں اپنے ہاتھوں سے سڑک بناتے ہوئے موت دے دی گئی۔

کیونکہ امن کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ بڑے ایوانوں میں کتنے معاہدے لکھے گئے،اصل سوال یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی کتنی محفوظ ہوئی، پاکستان دنیا کو جنگ سے بچانے کے لیے کوششیں کررہا ہے ، دشمنوں کو شاید ہی کردار پسند نہیں ہے، اسی لیے وہ پاکستان میں دہشت گردی کرانے میں مصروف ہے۔ بیرونی امن اور داخلی امن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک ہی قومی سفر کے دو راستے ہیں۔