پارلیمان میں متحدہ اپوزیشن بن گئی ہے۔ بالاآخر مولانا فضل الرحمٰن اور تحریک انصاف کے درمیان اکٹھے چلنے کی کوئی راہ نکلتی نظر آرہی ہے۔ کب تک اور کتنا عرصہ؟ یہ ایک الگ سوال ہے۔ لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ رسمی طور پر پارلیمان میں متحدہ اپوزیشن بن گئی ہے۔ اور اب اپوزیشن مل کر پارلیمان میں حکومت کو ٹف ٹائم دے گی۔ اپوزیشن کا متحد ہونا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہوتا، ہم نے دیکھا ہے کہ عام انتخابات کے بعد دو کیمپ بنتے ہیں۔ ایک حکومتی کیمپ، ایک اپوزیشن کا کیمپ۔ لیکن اس دفعہ اپوزیشن کے کیمپ کے اندر اتنے اختلافات تھے کہ ان کو اکٹھا ہونے میں اڑھائی سال لگ گئے۔
اس سے قبل کہ اس متحدہ اپوزیشن کے مستقبل اور اس کی حکمت عملی پر بات کی جائے، آج کی صورتحال کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ اپوزیشن کا یہ اتحاد کن مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے؟ کیا یہ حکومت گرانے کے لیئے بنایا گیا ہے؟ کیا یہ ملک میں نئے انتخابات کے لیے بنایا گیا ہے؟ کیا اس کا مقصد بانی کو ریلیف دلوانا ہے؟ اس ضمن میں ابھی کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے۔ اس اتحاد نے تاحال اپنی سمت واضح نہیں کی ہے۔ لہذا متحد ہونے والی اپوزیشن کے اہداف میں ابہام ضرور موجود ہے۔ یہ ابہام کب تک رہے گا اور کیسے دور ہوگا، اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔
فی الحال یہ اتحاد پارلیمان میں ہے۔ادھر تحریک انصاف نے پارلیمان کا آدھا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ وہ پارلیمان میں موجود تو ہے لیکن پارلیمان کی کمیٹیوںسے استعفیٰ دے چکی ہے ۔ یہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والی کہانی ہے۔ جب کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت پارلیمان میں بھی فعال ہے، اور پارلیمانی کمیٹیوں میں موجود ہے۔ اب اگر متحدہ اپوزیشن کی ایک پالیسی ہونی ہے تو کیا تحریک انصاف واپس کمیٹیوں میں آجائے گی یا مولانا کمیٹیاں چھوڑ دیں گے؟ جہاں تک مجھے مولانا کے انداز سیاست کا علم ہے، وہ پارلیمان کی کمیٹیاں چھوڑنے پر یقین نہیں رکھتے جب کہ تحریک انصاف کو واپسی کے لیے اپنے بانی کی اجازت چاہیے ۔ کیا تحریک انصاف صرف متحدہ اپوزیشن کے قائدین کی درخواست پر واپس پارلیمان کی کمیٹیوں میں آجائے گی؟ یہ اہم سوال ہے۔
حکومت یہی چاہتی ہے کہ تحریک انصاف سسٹم میں واپس آئے۔ اطلاع یہی ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان پارلیمان بھی یہی چاہتے ہیں۔ اسی لیے تو کئی ارکان نے رسمی استعفوں کے بعد بھی سرکاری گاڑیاں واپس نہیں کی ہیں۔ ہم نے کئی بار ان کو سرکاری گاڑیوں میں دیکھا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے بھی ان سے گاڑیاں اور مراعات واپس نہیں لی ہیں۔ اس لیے میری رائے میں پہلا کام تو یہ ہوسکتا ہے کہ تحریک انصاف متحدہ اپوزیشن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پارلیمان کی کمیٹیوں میں واپس آجائے۔ اپنے حامیوں کو مطمئن کرنے کے لیے یہ کہا جائے کہ ہم نے متحدہ اپوزیشن کے دباؤ میں یہ فیصلہ کیا ہے۔
جہاں تک تحریک انصاف اور مولانا کے درمیان کسی دائمی اتحاد کی بات ہے تو وہ ابھی ممکن نظر نہیں آرہا۔آپ دیکھیں کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تو متحدہ اپوزیشن بن گئی۔ یعنی تحریک انصاف اور مولانا اکٹھے چلنے پر تیار ہو گئے ہیں۔ لیکن صوبہ خیبر کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ وہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور مولانا کی جماعت اپوزیشن میں ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ وفاق میں اتحاد ہوگا، صوبے میں اپوزیشن ہوگی۔ خیبر اسمبلی میں تحریک انصاف کی کھل کر مخالفت کی جائے گی۔ اور قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تحریک انصاف کے ساتھ چلا جائے گا۔ یہ بھی آدھا تیتر آدھا بٹیر والی ہی کہانی ہے۔
چند دن قبل ایسی خبریں آئی تھیں کہ تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا کوئی معاہدہ ہو رہا ہے۔تاکہ اگلا الیکشن ملکر لڑا جا سکے ۔ لیکن پھر یہ بات کہیںگم ہوگئی ہے۔ جب تک یہ معمہ حل نہیں ہوتا، بات آگے نہیں چل سکتی۔ جب تک مستقبل کا منظر نامہ واضع نہیں ہوگا، حال کی بات کیسے کی جا سکتی ہے۔
شائد تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان انتخابات کا روڈ میپ ہی کلئیر نہیں ہے۔ جے یو آئی (ف) کے اند یہ سوچ بھی موجود ہے کہ ا گر تحریک انصاف کی مکمل بحالی ہو گئی اور بانی کو ریلیف مل گیا تو صورتحال بدل جائے گی۔ پھر بانی کے یوٹرن کی بات بھی تو ہے۔ ابھی تک بانی تحریک انصاف کا جے یوآئی (ف) اور مولانا کے حق میں کوئی براہ راست بیان نہیں آیا۔ اس لیے مولانا کے خدشات ابھی موجود ہیں۔
ابھی تک تو یہی کہا گیا ہے کہ متحدہ اپوزیشن پارلیمان میں ملکر چلے گی۔ قانون سازی پر ملکر حکمت عملی بنائی جائے گی۔ ماضی میں مولانا نے 26ویں آئینی ترمیم کوووٹ دیا تھا۔ جب کہ 27ویں ترمیم کے لیے ان کے ووٹوں کی ضرورت ہی ختم ہو گئی تھی۔ آجکل 28ویں ترمیم کی بازگشت ہے۔ نئے صوبے بنانے کی بازگشت ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ متحدہ اپوزیشن اس ضمن میں کیا کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح اہم تقرریاں بھی رکی ہوئی ہیں۔ اس لیے ان پر بھی ایک واضح لائن کی ضرورت ہے۔ جوابھی تک موجود نہیں ہے۔
کیا متحدہ اپوزیشن کا نیا قائد ہوگا؟ ابھی کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا۔ محمود اچکزئی قائد حزب اختلاف ہیں۔ لیکن وہ اپنی جماعت کے اکیلے رکن اسمبلی ہیں۔ ان کے پاس نہ عوامی طاقت ہے اور نہ ہی پارلیمانی طاقت ہے۔ وہ تحریک انصاف کی طاقت پر قائد حزب اختلاف ہیں۔ لیکن مولانا کے پاس تو اپنی عوامی طاقت بھی موجود ہے اور اپنی پارلیمانی طاقت بھی موجود ہے۔ وہ محمود اچکزئی کے ماتحت کیسے بیٹھ جائیں گے؟ میری رائے میں اگر متحدہ اپوزیشن کو کا میاب کرنا ہے تو مولانا فضل الرحمٰن کو قائد حزب اختلاف بنانا پڑے گا ۔ کے پی میں جے یو آئی (ف) کو صوبائی اقتدار میں حصہ دینا پڑے گا۔
تب ہی یہ گاڑ ی آگے چل سکتی ہے۔ ورنہ یہ ایک رسمی اتحاد ہوگا۔ جو کسی کے لیے خطرہ نہیں ہوگا۔اس میں وہ کاٹ نہیں ہوگی جو اپوزیشن کے اتحاد میں ہونی چاہیے۔ تحریک انصاف کے پاس اسمبلی میں بے شک عددی برتری ہے۔ لیکن عوامی احتجاج اور پارلیمانی سیاست کے رموز میں پی ٹی آئی کے پارلیمنٹیرینز اور سیاستدان ابھی مولانا کے سامنے طفل مکتب ہیں۔ مولانا راستے بنانے جانتے ہیں۔
جہاں تک اسٹبلشمنٹ کی بات ہے تو آجکل مولانا اسٹبلشمنٹ سے ناراض ہیں۔ جب کہ تحریک انصاف اسٹبلشمنٹ کی قربت میں نظر آرہی ہے۔ تحریک انصاف مفاہمت کی سیاست کی طرف واپس آرہی ہے۔ جب کہ مولانا کا لہجہ سخت ہے۔ پہلے بھی جے یو آئی اور تحریک انصاف کے درمیان فاصلے اسٹبلشمنٹ سے رابطوں پر ہی ہوئے تھے۔ تحریک انصاف نے ایک طرف مولانا کے ساتھ بات چیت شروع کی، دوسری طرف اسٹبلشمنٹ سے بات شروع کر دی۔ مولانا کا موقف تھا اکیلے اکیلے بات نہیں ہونی چاہیے۔ اب کیا حکمت عملی ہوگی؟ یہ بھی دلچسپ ہوگا۔ الگ الگ بات ہوگی یا مل کر بات ہوگی۔