پمز واقعے میں زندہ بچنے والی واحد نومولود کی خالہ کے ہوشربا انکشافات، انتظامیہ کا پول کھول دیا

پمز انتظامیہ مجھ سے رابطہ کر کے کہہ رہی ہے کہ میں کسی اور کا بچہ لے گئی: خالہ نے موقف مسترد کردیا


ویب ڈیسک August 26, 2026

اسلام آباد:

پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے میں زندہ بچ جانے والی واحد نومولود کی خالہ نے ہوشربا انکشافات کر دیے۔

خالہ کے مطابق آگ لگنے کے وقت وہ موقع پر موجود تھیں، جیسے ہی آگ بھڑکی وہ وارڈ کی جانب دوڑیں جہاں ایک لیڈی ڈاکٹر اپنی جان بچا کر باہر نکل رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود اندر جا کر اپنی مدد آپ کے تحت بھانجی کو اٹھایا، اس دوران آگ ان کے بالوں اور کندھے تک پہنچی۔

زندہ بچ جانے والی نومولود کی خالہ نے بتایا کہ وارڈ میں کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود نہیں تھی اور عملہ اپنی جان بچانے میں مصروف تھا۔ وہاں ایک مرد ڈاکٹر تھا وہ بھی بھاگ گیا، اس کے علاوہ بھی سب جا چکے تھے، میری بہن کا آپریشن ہوا تھا میں نے اسے اور بچی کو لیا اور میں بھی بھاگی اور دوموں کو فوری طور پر پولی کلینک لے آئی۔

خالہ کا کہنا ہے کہ پمز انتظامیہ ہم سے مسلسل رابطہ کر رہی ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ ہم کسی اور کا بچہ لے آئے ہیں اور کبھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بچی کو کسی ڈاکٹر نے بچایا، انہوں نے پمز انتطامیہ کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا۔

واضح رہے کہ اس واقعے میں 15 نومولود جاں بحق ہوئے جبکہ ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ایئرکنڈیشن کمپریسر پھٹنے سے لگی تھی۔