ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ شنگلز ویکسین دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرتی پائی گئی ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کے استعمال سے ہر سال ہزاروں اموات کو روکا جا سکتا ہے۔
امریکا میں 70 ہزار افراد کے طبی ریکارڈز پر مبنی تحقیق سے معلوم ہوا کہ شِنگریکس ویکسین لگوانے والے افراد میں اگلے ساڑھے تین سال کے دوران قلبی بیماری کی تشخیص کا خطرہ 12 فی صد کم تھا۔
سائنس دانوں کے مطابق اگر اس نتیجے کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ فائدہ روزانہ بلڈ پریشر کم کرنے والی دوا لینے کے برابر ہوسکتا ہے۔
تحقیق کی قیادت کرنے والے آکسفورڈ یونیورسٹی کے کلینیکل لیکچرر ڈاکٹر میکسم ٹاکے نے کہا کہ اگر کلینیکل ٹرائلز میں بھی ان نتائج کی تصدیق ہوگئی تو بزرگ افراد کو شنگلز کی ویکسین لگانے سے دنیا بھر میں دل کی شریانوں کی بیماری، فالج اور ہارٹ فیلئر کے لاکھوں کیسز روکے جاسکتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ عمر رسیدہ افراد کے دل اور دماغ کے تحفظ کے لیے انتہائی مؤثر اقدامات میں سے ایک ثابت ہوسکتا ہے اور اس کے اثرات بہت بڑے ہوسکتے ہیں۔
شنگلز ایک تکلیف دہ اور سنگین بیماری ہے جو چکن پاکس کا سبب بننے والے وائرس کے دوبارہ فعال ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ وائرس چکن پاکس ہونے کے بعد جسم میں غیر فعال حالت میں موجود رہتا ہے۔
شنگلز کی وجہ سے جسم پر دانے اور اعصابی درد ہوسکتا ہے جو بعض اوقات دانے ختم ہونے کے بعد بھی کئی ماہ یا سال تک برقرار رہتا ہے۔ اس پیچیدگی کو پوسٹ ہرپیٹک نیورلجیا کہا جاتا ہے۔