کراچی: این آئی سی ایچ میں فائر سیفٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھ گئے

این آئی سی ایچ میں مؤثر فائر سیفٹی الارم سسٹم موجود نہ ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے


ویب ڈیسک August 27, 2026

قومی ادارہ برائے امراضِ اطفال این آئی سی ایچ میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق این آئی سی ایچ میں موجود متعدد فائر ایکسٹنگوشرز خراب ہیں، جبکہ طویل عرصے سے ان کی ٹیسٹنگ اور مانیٹرنگ نہیں ہوئی۔ این آئی سی ایچ میں مؤثر فائر سیفٹی الارم سسٹم موجود نہ ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ دس سالوں میں ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملے کو فائر سیفٹی ڈرل یا تربیت نہیں دی گئی۔ بچوں کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں ایمرجنسی ایگزٹس بھی بند ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

این آئی سی ایچ میں گزشتہ 6 سال کے دوران آگ لگنے کے دو بڑے واقعات پیش آچکے ہیں۔ جنوری 2020 میں انکیوبیٹر میں آگ لگنے سے نومولود بچہ جاں بحق ہوا تھا، جبکہ 30 جون 2026 کو این آئی سی ایچ کے تیسرے فلور پر بچوں کے میڈیکل وارڈ میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

ڈاکٹرز اور عملے نے بچوں کو بحفاظت ریسکیو کیا جبکہ فائر بریگیڈ نے آگ پر قابو پالیا، واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ 30 جون کی آتشزدگی میں بچوں کے وارڈ کا نصف انفراسٹرکچر جل کر تباہ ہوگیا، آتشزدگی کے تقریباً دو ماہ بعد بھی وارڈ کا نصف حصہ بند ہے اور مریضوں کے داخلے شدید متاثر ہیں۔

ڈائریکٹر این آئی سی ایچ پروفیسر ناصر کے مطابق اسپتال کے ایمرجنسی اخراج کے دروازے سیکیورٹی کے لیے بند کیے گئے ہیں، ماضی میں چوری کی وارداتیں کافی ہوئی ہیں۔ ان دروازوں کی چابیاں اسپتال انتظامیہ کے پاس موجود ہیں اور عملے کو بھی چابیاں دے کر رکھی گئی ہیں۔

پروفیسر ناصر کا کہنا ہے کہ کچھ ناخوشگوار ہوتا ہے تو ذمہ دار وہ ہوں گے۔ اسپتال میں فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہیں، تاہم عملے کی فائر فائٹنگ ٹریننگ نہیں ہوئی۔ اس حوالے سے میٹنگ کر رہے ہیں۔