ویکیوم کلینر کے ذریعے بیوی کا افیئر پکڑنے والا شوہر، خود بھی عجیب مشکل میں پھنس گیا

بیوی کا افیئر پکڑنے پر شوہر کو 45 لاکھ ہرجانے کی رقم بھی ملی لیکن ساتھ اسے قید کی سزا بھی بھگتنی پڑی


ویب ڈیسک August 27, 2026
تائیوان میں بیوی کی جاسوسی کرکے افیئر پکڑنا شوہر کو مہنگا پڑ گیا

بیوی کے مبینہ معاشقے کا راز جاننے کے لیے روبوٹ ویکیوم کلینر کو جاسوس بنانے والا تائیوانی شہری عجیب و غریب قانونی صورتحال میں پھنس گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تائیوان میں مذکورہ شخص کی شادی 2021 میں ہوئی تھی اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ والدین کے گھر میں رہتا تھا جبکہ دونوں تعطیلات کے دوران ایک دوسرے گھر میں بھی قیام کرتے تھے۔

شوہر کو ستمبر 2023 میں بیوی پر شک اس وقت ہوا جب اسے تعطیلات والے گھر میں ایک ایسا ٹوتھ برش ملا جو اس کا نہیں تھا۔ جس پر شوہر نے پارکنگ کیمروں کی ریکارڈنگ دیکھی تو اسے ایک اجنبی شخص نظر آیا جو بیوی کو گاڑی میں گھر چھوڑ کر گیا تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ شک بڑھنے کے تقریباً تین ماہ بعد شوہر نے اپنے موبائل فون کی ایپ کے ذریعے تعطیلات والے گھر میں موجود روبوٹ ویکیوم کلینر کو دور بیٹھے فعال کیا۔

یہ کوئی عام ویکیوم کلینر نہیں تھا بلکہ اس میں آڈیو کا فیچر بھی موجود تھا جس کے ذریعے صارف گھر میں موجود شخص سے بات کرسکتا تھا۔

تاہم شوہر نے جب روبوٹ کو فعال کیا تو اسے وہ منظر نظر آگیا جس کا اسے خدشہ تھا۔روبوٹ کے کیمرے نے اس کی بیوی کو ایک دوسرے شخص کے ساتھ انتہائی نجی حالت میں ریکارڈ کرلیا۔

شوہر نے اس ویڈیو کو محفوظ کیا اور بعد ازاں بیوی اور مذکورہ شخص کے خلاف سول مقدمے میں بطور ثبوت پیش کردیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ دونوں کے تعلق نے ازدواجی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق شوہر نے ابتدا میں 20 لاکھ تائیوانی ڈالرز کے ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔

عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ بیوی اور دوسرے شخص کا تعلق محض دوستی تک محدود نہیں تھا جس کے بعد دونوں کو شوہر کو مجموعی طور پر 5 لاکھ تائیوانی ڈالر یعنی تقریباً 45 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔

یہاں تک تو شوہر کی جیت ہوگئی، لیکن اصل مشکل اس کے بعد شروع ہوئی۔ شوہر کا بیوی کے افیئر کے بارے میں ثبوت جمع کرنا خود جرم بن گیا۔

جس پر بیوی نے شوہر کے خلاف الگ مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس نے اس کی اجازت کے بغیر نجی لمحات کی خفیہ ویڈیو بنائی ہے۔

شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ یہی ویڈیو سول مقدمے میں ثبوت کے طور پر قبول کی گئی تھی اس لیے اس کی ریکارڈنگ بھی جائز سمجھی جانی چاہیے۔

تاہم عدالت نے یہ دلیل مسترد کردی اور فیصلہ دیا کہ ازدواجی رشتہ کسی شخص کے حقِ رازداری کو ختم نہیں کرتا۔ ویڈیو ریکارڈنگ جان بوجھ کر کی گئی تھی۔

عدالت نے شوہر کو نجی تصاویر اور ویڈیو غیر قانونی طور پر ریکارڈ کرنے کے جرم میں 5 ماہ قید کی سزا سناتے ہوئے ڈیڑھ لاکھ تائیوانی ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا جو اس نے بیوی کو ادا کیا۔

یاد رہے کہ تائیوانی قانون کے تحت کسی شخص کی نجی سرگرمیوں یا انتہائی ذاتی معلومات کو اس کی اجازت کے بغیر خفیہ طور پر ریکارڈ یا افشا کرنا قابلِ سزا جرم ہے جس پر سخت قید اورلاکھوں ڈالر جرمانہ ہوسکتا ہے۔