وفاقی حکومت پمز کے نرسری میں آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے نومولود کے لواحقین کے لیے فی کس 50 لاکھ روپے مالی معاوضے کا اعلان کردیا۔
حکومت پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم اور دکھ میں برابر کی شریک ہے اور مالی معاوضے قیمتی انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ جاں بحق ہونے والے بچے واپس نہیں لائے جا سکتے تاہم حکومت کی جانب سے یہ معاونت غمزدہ خاندانوں کی مشکلات کم کرنے اور ان کے دکھ میں کچھ مداوا کرنے کی ایک کوشش ہے۔
وفاقی حکومت نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون اور معاونت فراہم کرے گی۔
خیال رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز میں گزشتہ روز آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود دم توڑ گئے تھے اور لواحقین اور عینی شاہدین کی جانب سے انتظامیہ سمیت حکومت کو لاپرواہی اور غیرذمہ داری کا مرتکب قرار دیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور اسی طرح پمز اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے بھی الگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، دونوں کمیٹیاں 48 گھنٹوں کے اندر اپنی رپورٹ جمع کرائیں گی، جس میں واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔