مکہ دفاعی معاہدہ، دعوت ملی تو بنگلہ دیش شمولیت پر مثبت غور کرے گا: وزیر خارجہ

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مکہ مکرمہ میں طے کیا تھا


ویب ڈیسک August 28, 2026

ڈھاکا: بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ اگر اسے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی دعوت دی گئی تو وہ اس پیشکش پر مثبت انداز میں غور کرے گا۔

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمن نے پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مکہ معاہدے میں شمولیت کا فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا، کیونکہ اس کا انحصار معاہدے کے بانی ممالک کی خواہش پر ہے۔ تاہم دعوت ملنے کی صورت میں ڈھاکا اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے گا اور ممکنہ فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔

خلیل الرحمن نے مکہ معاہدے کو مسلم دنیا کے لیے اجتماعی دفاع کا ایک نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم ممالک کا باہمی معاملہ ہے۔

اس سے قبل بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر نے بھی کہا تھا کہ ڈھاکا نے مکہ معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اس معاملے کو مثبت انداز میں دیکھا جارہا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مکہ مکرمہ میں طے کیا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون اور اجتماعی سکیورٹی کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کرنے کا اصول بھی شامل ہے۔

ترکیہ کی جانب سے پہلے ہی توقع ظاہر کی جاچکی ہے کہ مصر آئندہ مرحلے میں اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔ اب بنگلہ دیش کی جانب سے بھی ممکنہ شمولیت پر مثبت غور کرنے کے بیان سے معاہدے کے دائرہ کار میں مزید توسیع کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔