سندھ اسمبلی چاہے تو صوبوں کے حوالے سے قرار منظور کرسکتی ہے، سعید غنی

کسی ملازم کواس کا ادارہ حکومت کے مقررہ کم سے کم اجرت نہیں دے رہاتو وہ شکایت کرے ہم ایکشن لینے کے پابندہیں، صوبائی وزیر


ویب ڈیسک August 28, 2026
فوٹو: ایکسپریس نیوز

وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی نے صوبوں کے حوالے سے ایک مفصل قرارداد 6 ماہ قبل ہی منظور کی ہے، اس لیے دوبارہ اس قرارداد کو پیش کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی، اگر اسمبلی چاہے تو قرارداد بھی منظور کرسکتی ہے۔

سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ 6 ماہ بھی پورے نہیں ہوئے سندھ اسمبلی نے صوبوں کے حوالے سے ایک مفصل قرارداد منظور کی ہے، اس لیے میری رائے میں دوبارہ اس قرارداد کو پیش کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

انہوں نے کہا کہ آج نثار احمد کھوڑو نے اسی حوالے سے صوبائی اسمبلی میں ایک تحریک التوا پیش کی ہے، جس کا مقصد بھی یہ ہوتا ہے کہ اس معاملے پر بات کی جائے اور اس کے نتیجہ میں اگر اسمبلی چاہے تو ایک قرارداد بھی منظور کرسکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پروموشن جو نہیں لے رہے ان کو زبردستی پروموشن دینا چاہیے اور اگر وہ نہیں لیتے تو ان کو نوکریوں سے نکال دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال نے کیا ساری زندگی فلسطین میں گزاری ہے جو یہ کہتا ہے کہ وہ کراچی میں رہتا ہے تو پیپلز پارٹی والوں کو تکلیف ہوتی ہے، وہ ساری زندگی کراچی میں ہی رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس کے ذہن میں یہ غلط فہمی ہے کہ وہ کراچی میں بیٹھے گا تو کچھ کرلے گا تو 7 دن نہیں 7 مہینے کراچی میں آکر بیٹھ جائے، ایک اور سوال پرانہوں نے کہا کہ کم سے کم اجرت کے حوالے سے میں نے اسمبلی کے فلور پر بھی کہا ہے کہ میں کوئی جن یا بھوت نہیں کہ مجھے معلوم ہوسکے کہ فلاں ملازم کو کم سے کم اجرت نہیں مل رہی۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ جس ملازم کو حکومت کے مقرر کردہ کم سے کم اجرت اس کا ادارہ اگر نہیں دیتا وہ اس کی شکایت کرے ہم اس پر ایکشن لینے کے پابند ہیں اور ایسا کیا بھی جارہا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملازم ہمیں آگاہ تو کرے۔