مصنوعی ذہانت کی دنیا میں جاری رسہ کشی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اوپن اے آئی نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ کرسر کو مزید اپنے اے آئی ماڈلز فراہم نہیں کرے گا۔
معروف کوڈنگ ٹول کمپنی کرسر ایلون مسک کی کمپنی اسپیکس کیس کی ملکیت ہے۔
اوپن اے آئی کا یہ فیصلہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین اور ایلون مسک کے درمیان کئی برس سے جاری تلخ تنازعے میں ایک اور بڑی پیش رفت ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق کمپنی کے اس قدم کی وجہ یہ خدشہ ہے کہ اسپیس ایکس اس کی ٹیکنالوجی کو کمپنی کی شرائط کے مطابق استعمال نہیں کرے گی۔
کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ اسے ایلون مسک کی ملکیت یا زیرِ انتظام کمپنیوں کے ساتھ سابقہ تجربات کی بنیاد پر یہ اعتماد نہیں کہ اوپن اے آئی کی ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق معاہدوں کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔
سیم آلٹمین اور ایلون مسک کے درمیان اختلافات کئی سال پرانے ہیں، تاہم رواں سال یہ تنازع اس وقت انتہائی سنگین شکل اختیار کر گیا جب مسک کی جانب سے اوپن اے آئی کے خلاف دائر کیے گئے 150 ارب ڈالر کے مقدمے نے عدالت کا رخ کیا۔
کرسر کو اے آئی ماڈلز کی فراہمی روکنے کا فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آلٹمین اور مسک کے درمیان محض قانونی جنگ ہی نہیں بلکہ اے آئی ٹیکنالوجی تک رسائی اور کاروباری تعلقات کی سطح پر بھی مقابلہ مزید سخت ہو رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اوپن اے آئی اور ایلون مسک دونوں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔