پاکستان میڈیکل انسٹیٹیوٹ آف سائنسز (پمز) کے بچہ وارڈ کی نرسری میں ہونے والے سانحے کی 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی نے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن مکمل ہونے پر پمز نرسری سانحے کی عبوری انکوائری رپورٹ جمع کرائی جس کو جاری کردیا گیا ہے۔
’آگ لگنے کی حتمی وجہ معلوم نہ ہوسکی‘
رپورٹ میں آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہ ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ انکیوبیٹر، وارمر، اے سی، پلگ، ساکٹ یا وائرنگ سے آگ لگنے کا امکان ہے جبکہ آئیسکو ریکارڈ میں بیرونی بجلی کی لائن میں خرابی یا ٹرپنگ کا ثبوت نہیں ملا۔
’ڈاکٹرز، نرسز اور اہلکاروں نے بچوں کو بچانے کی کوشش کی‘
رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ پمز نرسری میں آگ تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر نظر آئی، صرف دو منٹ میں نرسری دھوئیں اور آگ سے تقریباً مکمل گھر چکی تھی اس دوران ڈاکٹرز، نرسرسز اور سیکیورٹی اہلکاروں نے بچوں کو بچانے کی کوشش کی جو سی سی ٹی وی فوٹیجز سے ثابت ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرنٹ لائن ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کے بچوں کو چھوڑ کر فرار ہونے کا عمومی الزام درست ثابت نہیں ہوا، اسٹاف نرس رضیہ نے جلتی نرسری سے ایک نومولود کو بحفاظت باہر نکالا اور چارج نرس نسرین نے فوری طور پر مدد طلب کی جس پر سکیورٹی گارڈ ماریہ بھی نرسری میں داخل ہوئی۔
’آتشزدگی کی اطلاع 16 منٹ کے فرق سے دی گئی‘
رپورٹ میں نرسری سانحہ پر بیرونی امدادی ادارے کو اطلاع دینے میں مبینہ تاخیر کا معاملہ کو بھی رکھا گیا ہے۔ جس میں بتایا گیا کہ سی سی ٹی وی کے مطابق ہنگامی صورتحال 6:38 بجے شروع ہوئی، سی ای ایس کو پہلی کال 6:54 پر موصول ہوئی اور پھر انہوں نے 6:55 پر عملہ روانہ کیا جو تقریبا 07:01 پر وقوعہ پہنچا۔
رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ کال میں 16 منٹ کے فرق کی ذمہ داری فی الحال کسی فرد یا ادارے پر عائد نہیں کی گئی جبکہ کمیٹی نے پمز کنٹرول روم، ٹیلی فون ریکارڈ اور سی ای ایس کال ریکارڈ سے تاخیر کی مزید تحقیقات کی سفارش کی ہے۔
’نرسری کیلیے مخصوص فائر اور بچوں کے انخلا کا ایس او پی نہیں تھا‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمز نرسری کے لیے مخصوص فائر اور نومولود بچوں کے انخلا کا جامع SOP سامنے نہ آسکا، آگ کی صورت میں الارم بجانے، مطلع کرنے کا کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں تھا۔
کمیٹی کی عبوری رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ نومولود بچوں کے انخلا، آکسیجن و بجلی بند کرنے اور واقعے کی کمان کے واضح طریقہ کار کا فقدان تھا جبکہ پمز سکیورٹی SOP میں فائر سیفٹی ایگزٹس، آلات اور عملے کی تربیت کی ذمہ داری واضح تھی۔
رپورٹ میں فائر ایگزٹس بند یا رکاوٹ زدہ ہونے کا انکشاف کیا گیا اور لکھا گیا ہے کہ فائر فائٹرز کو بعض دروازے توڑ کر کھولنا پڑا، سی ای ایس نے پمز میں فائر اور لائف سیفٹی انتظامات کو ناکافی اور متاثرہ قرار دیا۔
رپورٹ میں ایمرجنسی راستوں کی صورتحال پر ذمہ داران کے تعین کی سفارش کی گئی ہے جبکہ 6 جولائی کے پمز نرسنگ ہاسٹل آتشزدگی واقعے کو بھی انکوائری میں انتہائی اہم قرار دے دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ جولائی کی آگ کی انکوائری میں بھی اسموک ڈیٹیکشن، الارم، فائر ڈرلز اور انخلا اور فائر سیفٹی کی خامیوں کی نشاندہی ہوئی تھی، جس کے بعد 25 اگست کو نرسری سانحہ سے ایک روز قبل، انکوائری رپورٹ پر مزید ترامیم کی جا رہی تھیں۔
کمیٹی نے پمز میں پہلے سے معلوم فائر سیفٹی خامیوں پر کارروائی نہ کرنے کے ذمہ دار کے تعین کو اہم قرار دیا اور فائر سیفٹی کی خامیوں سے متعلق سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں ہیں۔
کمیٹی نے پمز کے پورے اسپتال کا فوری فائر اور لائف سیفٹی، نرسری، این آئی سی یو، آئی سی یوز اور آپریشن تھیٹرز کے آڈٹ کرانے کی سفارش جبکہ تمام فائر ایگزٹس، اسموک ڈیٹیکٹرز، الارم، ایمرجنسی لائٹس اور فائر ایکسٹنگوشرز کی فوری جانچ کی سفارش کی ہے۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ تمام انکیوبیٹرز، وارمرز، اے سی، پلگز، ساکٹس، وائرنگ اور برقی نظام کی فوری تکنیکی جانچ کی جائے، خطرناک حصوں میں خودکار فائر سیفٹی نظام ناکافی ہونے پر عارضی فائر واچ تعینات، ڈاکٹرز، نرسز، سکیورٹی اور انجینئرنگ عملے کے لیے عملی فائر اور نیونیٹل ایویکیویشن ڈرلز کرائی جائے۔
کارروائی کی سفارش
اس کے علاوہ انکوائری رپورٹ میں انتظامی اور محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی، رپورٹ میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر مطاہر شاہ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل چوہدری وارث علی رضا، ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر نوشیلا امجد، فائر سیفٹی اور سیکیورٹی چین میں ذمہ دار افسران کے خلاف شوکاز اور محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سی ای ایس اور سیکیورٹی کمپنی کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
پمز سانحہ، کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے کردار پر بھی سوالات اٹھ گئے
رپورٹ میں جولائی کی آگ کے بعد پمز میں فائر سیفٹی خامیوں پر مناسب اقدامات نہ کرنے پر سی ای ایس کو بھی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ڈی جی کیپیٹل ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر عبدالرؤف/عبدالرحمن کے خلاف معطلی اور کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سئکیورٹی محمد عثمان کے خلاف ڈیوٹی سے غیر حاضر اور فرائض میں غفلت پر کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
کمیٹی نے لکھا کہ بیلفورٹ سیکیورٹی سروسز کی جانب سے معاہداتی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا ابتدائی تعین کیا گیا اور بیلفورٹ سکیورٹی سروسز کے خلاف متعلقہ قانون اور معاہدے کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ بعض معاملات میں فوجداری تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جبکہ ایمرجنسی فائر ایگزٹس کے بند یا رکاوٹ زدہ ہونے کے معاملے کو فوجداری تحقیقات کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔
فائر ایگزٹس کے ذمہ دار افراد کی غفلت ثابت ہونے پر فوجداری کارروائی کی سفارش
کمیٹی نے جولائی میں نشاندہی شدہ فائر سیفٹی خامیوں پر جان بوجھ کر یا مجرمانہ غفلت سے عمل نہ کرنے کی تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی سروسز کو کال میں قابلِ الزام تاخیر ثابت ہونے پر فوجداری ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔
رپورٹ میں کمیٹی نے واضح کیا کہ فوجداری جرم کا حتمی فیصلہ تفتیشی اور عدالتی اداروں کا اختیار ہوگا۔
انتظامی، محکمانہ، معاہداتی اور فوجداری ذمہ داریوں کو الگ الگ رکھنے کی سفارش
رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ احتساب صرف آگ لگنے والی پہلی چنگاری تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ کمیٹی کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آگ تباہ کن کیسے بنی اور حفاظتی نظام کیوں ناکام ہوئے۔
جامع رپورٹ میں ذمہ داری کا حتمی تعین فرض، علم، کوتاہی اور نتیجے کے مکمل شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔