کیا عنوان دوں؟

یہ ایک بڑی تشویش ناک صورت حال سامنے آ رہی ہے لوگوں کے رویے اب بدل رہے ہیں


شہلا اعجاز August 30, 2026

اس کی اکثر مخبری ہو جاتی تھی، کبھی گھر کے قریب گلی کے کونے پر، کبھی دکان سے نکلتے کچھ فاصلے پر یہاں تک کہ ایکسپریس وے تک پر صرف یہی نہیں بلکہ ڈکیتوں کو یہ بھی پتا ہوتا تھا کہ کون سی سیٹ کے نیچے اور کس طرح رقم چھپائی گئی ہے۔کہا گیا کہ بھائی رقم کی منتقلی کے لیے یہ کیش کی بجائے بینک کا ذریعہ اپناؤ، محفوظ ہے، تو جواب ملا اٹھارہ لاکھ کے نقصان سے بہتر آٹھ لاکھ کا نقصان ہے۔

یہ ایک بڑی تشویش ناک صورت حال سامنے آ رہی ہے لوگوں کے رویے اب بدل رہے ہیں، اعتماد اٹھ رہا ہے، ذاتی حفاظت کا خیال مضبوطی پکڑ رہا ہے۔ کسی کو آپ کی فکر نہیں ہے آپ کو خود اپنی فکر کرنا ہے۔ دنیا میں بہت سی تبدیلیوں کے ساتھ ہمارے ملک میں بھی بہت کچھ تبدیل ہو رہا ہے۔

یہاں تک کہ دس سے بارہ سال قبل جب چوری چھپے کام کرنے والے گندمی رنگت کے ہوا کرتے تھے، اب صاف ستھری رنگت میں بدل چکے ہیں۔ آلودگی بھرے ہاتھ خوشبویات سے معطر ہیں پر دل…

کراچی کی بات کریں تو یہاں کے حالات ہی بالکل مختلف ہیں، پورے ملک کو دیکھ اور کراچی کی حالت دیکھ لیں ظاہری صورت سے لے کر اندرونی صورت تک، ابتری کی جانب جس تیزی سے سفر کر رہی ہے وہ خطرناک ہے۔

دن کی روشنی کے کرپشن، چوریاں الگ اور دن ڈھلتے کی الگ، پر رات کی تاریکی گہری ہو تو الگ، فجر کی اذان سے پہلے کے الگ اور صبح آفس، اسکول، کالج جانے والوں کے الگ، یہ دستور اب ایسے ہوتے جا رہے ہیں کہ شہری حیران پریشان ہیں۔ جہاں گیس کے میٹر لوگوں کے چلتے پھرتے وقت پچھلی گلیوں سے اتار لیے جاتے ہیں۔

یہ ذکر ہے کراچی کے مشہور اس علاقے کا جہاں جنرل پرویز مشرف نے اپنا بچپن گزارا اور بعض سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے اپنا سیاسی سفر ترقی کی جانب بڑھایا تھا، اسی بلاک میں معروف کرکٹ کے کمنٹیٹر منیر حسین اور اسپنر اقبال قاسم کے علاوہ ڈھیروں مشہور شخصیات نے رہائش اختیار کی جن کا تعلق سیاست، ادب اور شوبز کی دنیا سے رہا، صرف یہی نہیں بلکہ تعلیم کے حوالے سے بھی یہ خاصا معروف رہا ہے لیکن آج حال یہ ہے کہ چوڑی چوڑی گلیاں پورشنز کے بوجھ تلے سکڑی جا رہی ہیں۔ آبادی کا ایک گنجلک سلسلہ ایسا پھیلا ہے کہ کیسے سمٹے گا۔

’’ہمارے گھر میں اچانک ایک تیز آواز گونجی جیسے گیس خارج ہوتی ہے وقت تھا ساڑھے گیارہ یا ساڑھے بارہ رات کا۔ ہمیں عجیب سا لگا تو میں نے سوچا کہ کسی نے ہماری گیس کا پائپ کاٹ لیا ہے (ان دنوں اس علاقے میں چوری کی عجیب و غریب وارداتیں جاری ہیں) میں نے بچے سے کہا بیٹا! فوری چیک کرو گیس آ رہی ہے ، اس نے چیک کی، بولا جی بابا آ رہی ہے۔

میں پرسکون ہوا، لیکن ایک احساس تھا تو بچے سے کہا نیچے جا کر دیکھ کر آؤ کہ کیا ہوا ہے، وہ نیچے گیا تو پڑوس کا بچہ میری بائیک اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا، جو گری پڑی تھی۔ میرے بچے نے فوری بائیک اٹھائی تو دیکھا کہ اس کا سائلنسر کوئی لے اڑا تھا، اس نے مجھے فون کیا، میں نیچے آیا تو دیکھا کہ کارروائی تو ہو چکی تھی۔

صرف سائلنسر کی نہیں بلکہ برابر والوں کے گھر سے نہ صرف دو گیس کے میٹر بلکہ پائپ تک کاٹ کر لے گئے تھے اور وہ بے چارے گیس کمپنی والوں کے منتظر تھے کہ وہ آئیں گے۔ بے چارے ایک میٹر جو شاید اس کے کاٹنے سے رہ گیا تھا وہ گود میں اٹھائے اٹھائے پھر رہے تھے اور پتا نہیں کہ کمپنی والے آئے یا نہیں، رات بہت ہو چکی تھی، پھر بعد میں پتا چلا کہ ان کے بڑے پیسے خرچ ہو گئے۔ ہمارے پڑوس کے بھی ایسے ہی پائپ چوری ہوئے اور بے چاروں کے ساٹھ ستر ہزار روپے خرچ ہو گئے تھے۔

یہ بات ہے اس گھر کی جو ایک معروف سیاسی پارٹی کے حوالے سے بھی خاصا مشہور ہے جس کے اطراف بڑے بڑے حالیہ لیڈران بھی آیا کرتے تھے، بہرحال کراچی کا کیا کوئی پرسان حال ہے یا نہیں۔

’’آج سے بیس سے پندرہ سال پہلے ایسا نہیں تھا لیکن اچانک بنگالی چوروں نے شور اٹھایا تھا، وہ خالی گھروں سے پائپ میٹرز اہم تنصیبات وغیرہ اکھیڑ کر لے جاتے تھے، صرف یہی نہیں بلکہ جو لوگ جاب کی غرض سے جاتے تھے اور اپنے گھروں کو لاک کرکے سالہا سال سے جا رہے تھے ان کے گھر بھی غیر محفوظ ہو گئے تھے۔

ان کا پورا ایک گینگ تھا جس میں بچے بھی شامل تھے جو بظاہر کھیل رہے ہوتے تھے لیکن مخبری کرتے تھے اور لوگوں کا دھیان بھٹکانے کو بلاوجہ لڑائی جھگڑے کرتے تھے۔ اس کے بعد نئے قسم کے چور نظر آئے جو ان سے زیادہ دلیر تھے، وہ سڑکوں کے گرد لوہے کی حفاظتی باڑھ کاٹنے لگے اور یہ کام دن دیہاڑے بھی انجام دیے گئے ہیں۔

آپ نے کتنی ویڈیوز دیکھی ہوں گی کہ یونیورسٹی روڈ کی جانب لوہے کے پل کی سیڑھیاں تک اڑا لے گئے، یہ لوگ گورے چٹے اب یہ افغانی تھے کون تھے لیکن ان میں سے بظاہر نشئی بھی بنے رہتے تھے۔ کراچی سے ذرا دور پانی کا پمپنگ اسٹیشن جو ہمارے اداروں کی نااہلی کے باعث ویران پڑا تھا، وہاں سے کیا کچھ اکھاڑا نہیں گیا۔

اب تو حد یہ ہے کہ تین ہٹی کا پل جو کس قدر اہم ہے اس کے پلرز وہ ستون جو پل کو لیے کھڑے ہیں اس میں سے سریے لوہا کاٹ کر نکالا جا رہا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں۔۔۔۔ کیا یہ جن، بھوت ہیں جو کسی کو نظر نہیں آتے، یہ کہاں جا کر بیچتے ہیں کہ سب ہوا میں بھک اڑ جاتا ہے۔ معاف کیجیے گا ایک بڑا مافیا سرگرم ہو چکا ہے جو پہلے چھوٹے پیمانے سے شروع ہوا تھا اب اس میں بڑے ہاتھی شامل ہو چکے ہیں۔‘‘

’’بڑے ہاتھیوں سے مراد کیا سرکاری اداروں کی ہے؟‘‘

’’سوال کا جواب اتنا آسان نہیں ہے کہ بتائیے تو یہ سرکاری اسکولوں پر قبضے کی صدائیں ابھی کی بات ہے کہ نہیں سنی گئی اور یہ چلتے پھرتے روڈ پر جسے ہمارے قائد اعظم کے نام سے منسوب کیا گیا ہے کیسے بڑے بڑے وہ گھر جو ہمارے بچپن سے بند پڑے تھے اب کیسے ان کے تالے ٹوٹ گئے۔

کوئی ہے جواب اس کا؟ ہم حفاظت کر رہے ہیں اس شہر کے لوگوں کی جانوں مالوں کی عزتوں کی۔ اس کا جواب آسان نہیں ہے، میرا یہ شہر تو اتنا بدقسمت ہے کہ جو بھی آیا اس نے اسے لوٹا ہے۔

بس مال غنیمت سمجھ کر بھنبھوڑا ہے اور اوپر سے اس شہر میں پورے پاکستان سے کیا ساری دنیا سے آنے والے قسم قسم کے مجرمانہ ذہن رکھنے والی الگ الگ قومیتوں کے لوگ بھی بھبنھوڑ رہے ہیں کہ روک سکتے ہو تو روک لو۔

کیا کریں روکنے والے نہیں روک رہے جب کہ ایسا نہیں ہے کہ ہمارے ادارے نہیں کر سکتے۔ جناب بہت کچھ کر سکتے ہیں، پر کیا کریں، میرے قائد اعظم کا یہ شہر جہاں انھوں نے جنم لیا تھا سسک رہا ہے، پاکستان زندہ باد! سب شاد رہیں آباد رہیں۔‘‘

ایک دکھی دل کی دعا اور آگے الفاظ ہی نہیں تھے سوائے آمین کے۔