5 ستمبر مودی سرکار کا آخری دن؟

اب لگتا ہے مودی حکومت کے دن پورے ہو گئے ہیں


عثمان دموہی August 30, 2026

مودی سرکار 2014 سے لے کر اب تک تین بار عام انتخابات جیت چکی ہے مگر یہ کہا جائے کہ وہ اپنے عوامی مفاد کے کاموں کی وجہ سے الیکشنز جیتی تو یہ غلط ہی ہوگا۔ ان کے الیکشنز جیتنے کا انحصار گودی میڈیا اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (EVM) پر رہا ہے اس کا EVM اور گودی میڈیا کے پروپیگنڈے کے ذریعے الیکشنز جیتنا اپوزیشن پارٹیوں میں واضح طور پر تنقید کا موضوع بنا ہوا ہے مگر اسے کیا کہیے کہ یہی تو دراصل مودی حکومت کی لائف لائن ہیں۔

ویسے اکثر EVM سے زیادہ گودی میڈیا حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان بحث کا موضوع بنا رہتا ہے۔ لفظ گودی میڈیا کا سب سے پہلے استعمال بھارتی صحافی رویش کمار نے کیا تھا، انھوں نے یہ اصطلاح بھارت میں جاری کسان احتجاج کے دوران استعمال کی تھی، یہ 2020-21 کی بات ہے۔

اب وہ خود اپنا چینل چلا رہے ہیں۔ اس وقت بھارت میں پچاس کے قریب چینل گودی میڈیا سے تعلق رکھتے ہیں ،یہ مودی سرکار کی تعریفوں کے پل باندھتے رہتے ہیں۔ گودی میڈیا نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی بلکہ راشٹریہ سیوک سنگھ کا پرچار کرنے میں محو ہے بلکہ مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنا روز کا معمول ہے۔

بھارتی غیر جانبدارتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب سے بی جے پی نے اقتدار سنبھالا ہے بھارتی صحافت کا جنازہ نکل گیا ہے۔ صرف اس سیاسی پارٹی کی وجہ سے بھارت میں صحافت کا کوئی معیار نہیں رہا ہے۔ گودی میڈیا کے ٹی وی چینلز اور اخباروں میں جھوٹی خبروں اور ہندو مسلمانوں میں نفرت بڑھانے والی رپورٹس کی بھرمار نظر آتی ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان زہر آلود خبروں اور تبصروں نے پورے بھارت میں انتشار اور دہشت گردی کو ہوا دی ہے اور معاشرے سے رواداری اور بھائی چارہ دشمنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی کی دہشت گردی اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب اس کے یا ان کے کسی بڑے لیڈر کے خلاف احتجاج کرنا تو درکنار بات کرنا بھی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوگیا ہے۔

مگر اب مودی کے اقتدار کے چودہ سالوں کے بعد اس کی پالیسی عام لوگوں کی سمجھ میں آنے لگی ہے ۔اب عام ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف بی جے پی کی نفرتی پالیسی کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل جین زی یعنی طلبا اور نوجوانوں نے پیپر لیک، تعلیمی بدنظمی اور خاص طور پر طلبا کے ساتھ ناانصافی پر پورے بھارت میں احتجاجی مہم شروع کی ہے۔

گزشتہ ماہ اس سلسلے میں دہلی کے جنتر منتر میدان میں ہزاروں طلبا اور عام نوجوانوں نے احتجاجی جلسہ منعقد کیا جس کو منعقد کرنے کا سہرا کاکروچ جنتا پارٹی کے سر ہے یہ ایک نئی سیاسی پارٹی ہے جو ابھی تک تو طلبا تک محدود ہے مگر لگتا ہے آگے یہ ایک بڑی سیاسی پارٹی بننے والی ہے۔

اس کے احتجاج کو مودی سرکار نے ناپسندیدہ قرار دے کر اسے منتشر کرنے کے لیے پولیس کے علاوہ اپنے کارکنوں کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اس میں طلبا کے خلاف لاٹھیوں، لوہے کے راڈوں کے علاوہ پیلٹ گنز کا بھی استعمال کیا گیا جس سے کئی طلبا و طالبات شدید زخمی ہوگئے تھے، اس پرکانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے سخت احتجاج کیا اور نریندر مودی کی رہائش گاہ پر جا کر احتجاج ریکارڈکرایا وہ تھانے بھی گئے اور امیت شا کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جس کے لیے انھیں کئی گھنٹوں تک دھرنا بھی دینا پڑا مگر وہ ڈٹے رہے۔

اس ایف آئی آر میں طلبا پر تشدد کرنے اور پیلٹ گن استعمال کرنے والے پولیس اہلکاروں اور بی جے پی کے غنڈوں کو بھی گرفتار کرکے سزا دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ ساتھ ہی امیت شا جو بھارت کے وزیر داخلہ ہیں ان کو بھی استعفیٰ دینے کی مانگ کی گئی ہے۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان پہلے ہی استعفیٰ دے چکے ہیں اب بات مودی کے استعفے تک پہنچنے والی ہے۔

طلبہ کے علاوہ عام لوگ بھی مودی حکومت سے سخت نالاں ہیں ملک میں مہنگائی، بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے۔ معیشت کا حال روز بہ روز خراب ہوتا جا رہا ہے، روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ آ رہی ہے۔

مودی کی خارجہ پالیسی مذاق بن گئی ہے۔ اس کی عربوں کے خلاف اسرائیل کی دل جوئی اور حربی مدد نے اس کے عربوں سے تعلقات خراب کر دیے ہیں۔ ایران اب اسرائیل کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی اپنا دشمن قرار دے رہا ہے کیونکہ مودی نے اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے میں بھرپور مدد کی تھی۔ مشرق وسطیٰ کے بحران کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ملک میں چینی کی قلت بڑھتی جا رہی ہے۔

کرپشن عام ہے۔ خود مودی سرکار بڑے صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں سے بڑی بڑی رقمیں لے کر اپنے سیاسی اخراجات پورے کر رہی ہے جس کی وجہ مودی کو ان لوگوں کو بھرپور رعایتیں دینا پڑ رہی ہیں جس سے ملک کے محصولات پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔مودی ملک یا ملک کے غریب عوام کے لیے کچھ کرنے کے بجائے اپنے چہیتے سرمایہ کاروں کی ترقی کے لیے دن رات ایک کر رہے ہیں۔

بی جے پی نے بابری مسجد کو اپنی عدلیہ کی مدد سے مسمار کرایا تھا، وہاں اب مندر تو بن گیا ہے مگر اس رام مندر میں چندہ چوری کا بڑا اسکینڈل منظر عام پر آیا ہے جس نے مودی کا سر شرم سے جھکا دیا ہے، اسے نہ صرف اس اسکینڈل پر بلکہ بابری مسجد کی جگہ ناجائز مندر بنانے پر سیاست سے کنارہ کش ہو جانا چاہیے مگر وہ تو اگلا الیکشن جیتنے کی تیاری کر رہا ہے۔

تاہم اب لگتا ہے مودی حکومت کے دن پورے ہو گئے ہیں کیونکہ جین زی نے 5 ستمبر کو پورے بھارت میں احتجاج کی کال دی ہے کیونکہ اسے دھوکہ دیا گیا ہے اور اس کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے ہیں ،جس پیمانے پر وہ 5 ستمبر کی تیاری کر رہے ہیں، اس سے لگتا ہے کہیں یہ دن مودی سرکار کا آخری دن ثابت نہ ہو۔ اب تو گودی میڈیا بھی اتنا بدنام ہو چکا ہے کہ وہ بھی مودی کو ڈوبنے سے نہیں بچا سکے گا۔