تھانوں کے خدمتگار

ان لوگوں کے حال پر رونا چاہیئے جن کی آمدن پانچ اور خرچ دس ہو


[email protected]

مسئلہ نہایت گھمبیر تھا، کم از کم ہمارے لیے تو بہت بڑا مسئلہ تھا۔کیونکہ ہم بھی ان لوگوں میں سے ہیں جن کے لیے ایک پشتو کہاوت میں کہا گیا ہے،’’د ھغو خلقو پہ حال جڑا پکار دہ،چہ پینزہ ئے آمدن او خرس ئے لس وی‘‘۔ترجمہ یعنی ان لوگوں کے حال پر رونا چاہیئے جن کی آمدن پانچ اور خرچ دس ہو۔

گاڑی کے ٹائر اس حالت کو پہنچ گئے تھے کہ پنکچر لگانے والے نے صاف صاف کہہ دیا کہ یا تو ٹائر بدلو یا پنکچر کی دکان۔ہم نے اپنا رونا رویا اور سستے قسم کے سیکنڈ ہینڈ ٹائروں کا پوچھا۔

وہ تھوڑی دیر سوچتا رہا اور پھر خوشخبری کے انداز میں ایک شخص کا نام لیتے ہوئے بولا ، اس سے بات کرو مسئلہ حل ہوجائے گا۔اس شخص کو میں صرف اتنا جانتا تھا کہ پہلے چھوٹا موٹا چور ہوتا تھا اور ہر وقت تھانے میں زیرتفتیش ہوتا تھا۔

پھر اس کے تعلقات پولیس والوں سے آشنایانہ ہوگئے، پھر دوستانہ اور اب برادرانہ ہوچکے تھے۔ لوگ صبح تیار ہوکر دفتروں کو جاتے ہیں اور وہ بن ٹھن کر،یعنی بابو بن کر تھانے جاتا تھا۔بس اتنا ہی معلوم تھا، باقی نامعلوم تھا کہ وہ تھانے میں کرتا کیا،بھرتا کیا ہے اور دھرتا کیا ہے۔

پنکچر والے کے بتانے پر،توجہ دلانے پر اور مسئلہ حل کروانے پر متوجہ کیا۔تو ہم نے ایک دن اسے مسئلے سے آگاہ کیا، اس نے ہنس کرکہا، اتنی بات، چند روز میں ہوجائے گا۔ ایک رات دروازہ کٹھکٹھائے جانے پر باہر نکلا تو دروازے کے سامنے پک اپ گاڑی کھڑی تھی اور وہ شخص بھی۔

علیک سلیک کے بعد بولا،گاڑی کہاں ہے ؟ ہم نے دروازہ کھولا تو دو آدمیوں نے پک اپ میں سے چار ٹائر اتار لیے اور ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ہماری گاڑی کے ٹائر تبدیل ہوگئے۔ ایک دم نئے تو نہیں تھے لیکن بہت کم استعمال شدہ تھے۔

پرانے ٹائر پک اپ میں ڈال کر اور اپنا’’شکرانہ‘‘ وصول کرکے وہ چلے گئے۔صبح ہم نے اس پنکچر والے کو خوش خبری بھی سنائی اور اس کا ڈھیروں شکریہ بھی ادا کیا۔ وہ ہنستے ہوئے بولا ، مشکل میں کام آنے وا لا آدمی ہے اور بھی کسی چیز کی ضرورت ہو، بیٹری وغیرہ کی، اسلحہ وغیرہ کی توا سی سے کہنا۔

پوچھا، یہ سب کچھ لاتا کہاں سے ہے؟ وہ اور زور سے ہنس پڑا، بولا’’ تھانے رہے نا‘‘تھانے کا خدمتگار؟ تفصیل بتاتے ہوئے اس نے کہا کہ یہ کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کہیں اندراج ہوتا ہے اور نہ تنخواہ وغیرہ۔لیکن آمدنی کے لحاظ سے نمبرون ہوتا ہے ۔

وہ تو ہمیں پہلے سے معلوم تھا کہ وہ جو پہلے ہمیشہ غربت کا شکار رہتا تھا، اب اس نے اپنے کھنڈر نما گھر کو بنگلہ بھی بنادیا ہے۔ ساتھ مکان کو خرید کر بہت بڑا ڈیرہ بھی بنالیا ہے جس میں ہر روز لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے کیونکہ اب وہ جرگہ نشین اور معززین میں سے ہوگیا بلکہ قرب وجوار کے دیہات کے لوگ بھی اسے جرگوں میں بلاتے ہیں۔

تھانے کا خدمتگار، ہر تھانے میں ایک دو ہوتے ہیں، جانے والا ایس ایچ او اسے آنے والے ایس ایچ او کی تحویل میں دیتاہے اور تھانے کی خدمت میں مستقل جاری رہتی ہے۔

دلچسپ معلومات حاصل ہورہی تھیں، اس لیے ہم نے مزید کریدا تو اس نے بتایاکہ یہ خدمت گار نہ صرف پولیس اور عوام بلکہ پولیس اور مجرموں کے درمیان پُل کاکام دیتا ہے اور دونوں کے درمیان ’’طے پا‘‘ کرتا ہے بلکہ پولیس والے جو چیزیں پکڑ لیتے ہیں مثلاً اصلی کلاشنکوف بندوقیں، پستول اورمنشیات وغیرہ تو اصلی جگہ نقل فراہم کرنا اورا صل کو خریداروں کے ہاتھ بیچنا بھی اس کی’’خدمت‘‘ میں شامل ہے۔

مگر یہ اتنی جعلی چیزیں لاتا کہاں سے ہے؟بولا، یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے، یہ پاکستان ہے بھائی! یہاں جعلی آدمی تک مل جاتے ہیں۔ ہاں جعلی مجرم بھی یہ فراہم کرتا ہے۔ کسی مجرم کے ساتھ جب معاملہ ’’طے پا‘‘ ہوجاتا ہے تو کسی قبرستان یا پلوں کے نیچے سے کسی نشئی کو پکڑ کر لایا جاتا ہے، اس کی نشان دہی بھی تھانے کا خدمت گار کرتا ہے کیونکہ وہ ایسے نشئیوں کو بھی رابطے میں رکھتا ہے، ہر قسم کی نقلی اور جعلی چیزیں تو پہلے سے اس کے گھر میں موجود ہوتی ہیں۔

کمال ہے؟ ہم نے حیرت سے کہا۔کمال نہیں جمال ہے بلکہ مثالوں کی مثال ہے مطلب یہ کہ بڑا اہم آدمی ہے۔اس سے بنا کر رکھنی چاہیئے، اس کا ایک ا ور دھندہ بھی ہے۔ وہ کیا؟اس کے لیے میں تجھے اپنے محلے کا واقعہ سناتا ہوں۔

ہمارے محلے میں کسی اور علاقے کا ایک ڈیری فارم کا مالک رہتا تھا ۔کافی بھنسیں اس نے پالی ہوئی تھیں اور دودھ بیچنے سے بہت مال بھی کماتا، اس کے ہاں لڑکے کی ولادت ہوگئی، اس سے پہلے صرف لڑکیاں تھیں، اولاد نرینہ کی خوشی میں اس نے مٹھائیاں بانٹیں، ہر طرح کی خوشیاں منائیں بلکہ دیگیں بھی چڑھائیں، جس میں ایک بھینس ذبح کرکے ڈالی گئی تھی۔

سب کچھ کرکے وہ رات کو گھر میں خوش بیٹھے تھے کہ دروازے سے باہر فائرنگ ہوئی، باہر نکل کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا لیکن ابھی گھر میں بیٹھا نہیں تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ دیکھا تو ایک حوالدار سپاہیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہوائی فائرنگ کے الزام میں تھانے چلنے کو کہہ رہا تھا۔

بیچارا قسمیں کھارہا تھا لیکن پولیس والے اسے پکڑ کر لے جانے لگے کہ اتنے میں راستہ گزرتے ہوئے خدمتگار کا نزول ہوگیا جس نے معاملہ پچیس ہزار میں ’’طے پا ‘‘کردیا ۔آگے جاکر دس ہزار خدمت گار کو مل گئے حالانکہ فائرنگ میں کارتوس پانچ سوکے بھی خرچ نہیں ہوئے تھے۔