اسلام آباد میں پمز کے زچگی کے وارڈ میں آگ لگی اور چودہ نومولود بچے جل کر یا دم گھٹنے سے مر گئے۔ نرسری میں پندرہ بچے تھے، صرف ایک کو بچایا جا سکا۔ سرکاری اور معتبر ذرائع اس وقت ہلاکتوں کی تعداد چودہ بتا رہے ہیں، اگرچہ ابتدائی خبروں میں پندرہ کا ذکر بھی ہوا۔
چودہ کا ہندسہ یہ محض ایک عدد نہیں۔ چودہ زندگیاں ہیں، چودہ گھروں میں آنے والی وہ خوشی جسے چند لمحوں میں چھین لیا گیا اور ان گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ ان بچوں نے ابھی دنیا دیکھی ہی نہیں تھی۔
انھوں نے ابھی ماں کی گود کو پوری طرح محسوس نہیں کیا تھا۔ باپ کی انگلی شاید ابھی ان کی مٹھی میں ٹھیک سے آئی بھی نہ تھی۔ ان کے نام شاید ابھی محبت سے پکارے جانے شروع ہی ہوئے تھے۔ زندگی ابھی شروع ہی نہیں ہوئی تھی کہ ختم ہوگئی۔
سوال یہ ہے کہ انھیں کس نے مارا۔
ہم کہیں گے کہ ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹا۔ کوئی کہے گا شارٹ سرکٹ تھا ،کوئی آکسیجن کی موجودگی کو آگ کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ بتائے گا۔ تحقیقات ہوں گی کمیٹیاں بنیں گی رپورٹ آئے گی ، لیکن ایک سوال اس سب سے بڑا ہے کیا یہ صرف ایک حادثہ تھا۔
اسپتال کی نرسری میں ایسے بچے ہی ہوتے ہیں جو خود چل نہیں سکتے ،دروازے تک نہیں پہنچ سکتے دھواں دیکھ کر بھاگ نہیں سکتے ،آگ سے بچنے کے لیے کھڑکی نہیں توڑ سکتے ،تو ان کی حفاظت کی ذمے داری کس پر ہے۔ غلطی ان بچوں کی تو نہیں تھی۔
غلطی اگر ہوئی ہے تو بڑوں سے ہوئی ہے۔ اداروں سے ہوئی ہے، انتظامیہ سے ہوئی ہے۔ اس نظام سے ہوئی ہے جس میں عمارتیں بن جاتی ہیں مگر ان کی حفاظت کا انتظام نہیں ہوتا ،اسپتال قائم ہوجاتے ہیں مگر ہنگامی راستے نہیں ہوتے، مشینیں نصب ہوجاتی ہیں، مگر ان کی دیکھ بھال کا کوئی ذمے دار نہیں ہوتا۔
خبر میں یہ بھی سامنے آیا کہ عینی شاہدین نے امداد میں تاخیر بند دروازوں اور ہنگامی راستوں کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ان دعوؤں کی باقاعدہ تحقیقات ضروری ہے۔ ہمیں یہ سوال بھی پوچھنا چاہیے کہ اگر یہ بچے کسی نجی اسپتال میں ہوتے تو کیا ہم اسی طرح خاموش رہتے اور اگر یہ کسی غریب عورت کے بچے تھے تو کیا ان کی زندگی کی قیمت بھی غریب آدمی کی زندگی کی طرح کم سمجھی جائے گی۔
پمز کوئی دور افتادہ وسائل سے محروم دیہاتی ڈسپنسری نہیں، یہ ملک کے دارالحکومت کا بڑا سرکاری اسپتال ہے۔ یہاں وہ لوگ آتے ہیں جن کے پاس مہنگے نجی اسپتالوں کے دروازے کھٹکھٹانے کی استطاعت نہیں۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ ایسے اسپتالوں کو محض عمارت اور بستروں کا مجموعہ نہ بنائے بلکہ انھیں محفوظ باوقار اور قابلِ اعتماد بنائے۔
ہم نے دنیا کے دوسرے ملکوں میں دیکھا ہے کہ ایک بچے کی موت پورے نظام کو ہلا دیتی ہے۔ وہاں یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا حفاظتی ضابطے پر عمل ہوا ؟کیا فائر الارم کام کر رہا تھا؟ کیا عملے کو تربیت دی گئی تھی؟
کیا ہنگامی راستے کھلے تھے ،کیا آلات کی بروقت جانچ ہوئی تھی ،کیا کسی افسر نے اپنی ذمے داری پوری نہیں کی۔ ہم بھی یہ سوال پوچھ سکتے ہیں۔ بلکہ ہمیں ضرور پوچھنا چاہیے،کیونکہ اگر آج ہم صرف افسوس کریں گے، کل تعزیتی بیان پڑھیں گے اور پرسوں سب کچھ بھول جائیں گے تو کسی اور اسپتال کی کسی اور نرسری میں پھر یہی المیہ جنم لے سکتا ہے۔
پاکستان میں آگ لگنے کے واقعات نئے نہیں۔ عمارتوں میں حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی، ناقص برقی نظام ،ہنگامی راستوں کا غیر محفوظ ہونا اور نگرانی کا فقدان بارہا انسانی جانوں کو نگل چکا ہے۔
پمز میں بھی اس سے پہلے انتظامی اور بنیادی سہولتوں کے حوالے سے سنگین مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ہم ہر حادثے کے بعد کہتے ہیں اللہ کی مرضی تھی۔مگر سچ تو یہ ہے کہ ہر موت پہ اللہ کی مرضی کہہ کر اپنے فرائض سے فرار حاصل کرنا یہ ناقابل قبول ہے۔
قدرتی آفت اور انسانی غفلت میں فرق ہوتا ہے، اگر ایک عمارت میں آگ سے بچاؤ کا مناسب انتظام نہ ہو، اگر ہنگامی راستے بند ہوں،اگر آلات کی دیکھ بھال نہ کی جائے ،اگر عملہ تربیت یافتہ نہ ہو اور اگر کسی کو معلوم ہی نہ ہو کہ آگ لگنے کی صورت میں نومولود بچوں کو کیسے محفوظ مقام پر منتقل کرنا ہے تو پھر اسے محض حادثہ کہنا درست نہیں ،یہ غفلت ہے اور غفلت کے نتیجے میں چودہ معصوم بچے مر جائیں تو اس غفلت کی ذمے داری طے ہونی چاہیے۔
آج ان بچوں کی مائیں اپنے گھروں کو خالی گود کے ساتھ لوٹیں گی۔ گھر والے ان بچوں کا انتظار کرتے رہے اور وہ موت کی نیند سو گئے۔ سوچ کر روح کانپ جاتی ہے کہ کیسے والدین اور رشتہ داروں کے دل کا خون ہوا۔ ایسی غفلت ہمارے ملک میں ہی کیوں ہوتی ہے۔ ہم کب تک بے گناہ انسانوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔
وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیا ہے اور حکومت نے ذمے داروں کے تعین اور کارروائی کی بات کی ہے۔ یہ ضروری ہے لیکن ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ آگ کیسے لگی ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ آگ لگنے سے پہلے کہاں غفلت ہوئی۔
کیوں حفاظتی نظام کی جانچ نہیں کی گئی۔ کس نے خطرے کو نظرانداز کیا۔ کس نے ذمے داری پوری نہیں کی۔ اگر کسی نے خبردار کیا تھا تو کس نے اس کی بات نہیں سنی۔
تحقیق ایسی ہونی چاہیے جس کا مقصد صرف کسی ایک ماتحت ملازم کو قربانی کا بکرا بنانا نہ ہو۔ ذمے داری اوپر سے نیچے تک طے ہونی چاہیے۔ جس ادارے کے پاس اختیار تھا اس کے پاس جواب دہی بھی ہونی چاہیے۔ وہ چودہ بچے واپس نہیں آئیں گے، کوئی تحقیقات انھیں زندہ نہیں کرسکتی، کوئی معافی ان ماؤں کی گود نہیں بھر سکتی۔
لیکن اگر اس سانحے کے بعد پاکستان کے ہر سرکاری اسپتال میں فائر سیفٹی کی مکمل جانچ ہوتی ہے اگر ہنگامی راستے کھولے جاتے ہیں اگر عملے کو تربیت دی جاتی ہے اگر ناقص آلات تبدیل ہوتے ہیں اور اگر ذمے دار لوگوں کو واقعی سزا ملتی ہے تو شاید ہم یہ سوچ سکیں کہ آیندہ ایسا نہیں ہوگا کوئی گود پھر نہیں اجڑے گی۔ ورنہ یہ واقعہ بھی ہمارے حافظے میں ایک خبر بن کر رہ جائے گا۔
روز روز اخبار میں ایسی خبریں پڑھ کر دل بوجھل رہتا ہے اور یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اگلے دن پھر کوئی دل دہلانے والی خبر ہماری منتظر ہوگی۔ پھر کوئی نیا سانحہ پھر تعزیتی پیغام جاری ہوں گے پھر نئی کمیٹیاں بنانے کا اعلان ہوگا اور پھر گہری خاموشی چھا جائے گی۔
آج ہمیں خاموش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان معصوم اور بے زبان بچوں کے لیے ہمیں اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔ ایک مہذب ریاست کا سب سے پہلا فرض یہی ہے کہ وہ اپنے شہری کی حفاظت کرے۔ چودہ نومولود بچے اس ریاست کی ذمے داری تھے۔
وہ مرے نہیں ہیں، ہماری بے حسی اور غفلت کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ ہم کب اس بے حسی سے باہر آئیں گے ؟کب ہمارے اندر یہ احساس پیدا ہوگا کہ اپنی کوتاہی اور غلطی پہ نادم ہوں اگر یہ حادثہ کسی اور ملک میں پیش آیا ہوتا تو متعلقین نے استعفیٰ دیا ہوتا، مگر ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا اور چند دن میں لوگ سب بھول جاتے ہیں۔