آئین کا فلسفہ(جیورسپروڈنس)

اسکندر مرزا کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تو ساتھ ہی آئین کو بھی معطل کیا گیا


جاوید قاضی August 30, 2026

اپنے پچھلے مضمون میںعرض کی تھی کہ ہمارا آئین دنیا کا ماڈرن آئین ہے،یعنی اس کی نمایاں خصو صیات وہ ہی ہیں جو دنیا کے کسی ماڈرن آئین میں موجود ہیں۔ ہمارے آئین کی مضبوطی کی Anatomyویسی ہی ہے جو دنیا کے کسی صحت مند و مضبوط آئین کی ہو سکتی ہے۔

دنیا کے جو ممالک آئین کا وجود رکھتے ہیں ،ان کے آئین پر بھی نشیب و فراز آئے اور کم و بیش ایسے ہی ہمارے آئین پر بھی، لیکن مجموعی طور پر ہمارے آئین پر اتار چڑھاؤ زیادہ آئے۔اس کی کئی وجوہات ہیں،یہ وجوہات تاریخی بھی ہیں اور سیاسی بھی،کیونکہ آئین کا فلسفہ قانونی ضرور ہے ،مگر اس کے بنانے والے ہمارے ملک کے عوام ہی ہیں، یعنی عوام کے چنیدہ نمائندے۔

 قدیم یونان میں روایت کچھ اس طرح سے تھی کہ رعایا کو ایک میدان میں جمع کیا جاتا تھا اور ان سے تیار کردہ عمرانی معاہدے کے مسودے پر ہاتھ اٹھا کر منظوری لی جاتی تھی،یہ عمل شفاف نہ تھا۔اس لیے یہ معاہدے اپنے ادوار کے اعتبار اور تقاضوں کے مطابق فطری ضرور تھے مگر ماڈرن نہیں تھے۔

جسٹس منیر جب ریٹائر ہوئے تو ایوب خان کی کچن کیبنٹ کا حصہ بنے۔ آمر وقت نے ان سے مشورہ لیا کہ وہ ملک کو آئین دینا چاہتے ہیں ،لہٰذا اس کا لائحہ عمل بتا ئیں، تو یہ آپشن بھی سامنے آئی تھی کہ ایک بھرے میدان میں لوگوںکو جمع کیا جائے اور ان سے ہاتھ اٹھوا کر رضامندی لی جائے،یہ بات مجھے ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر نے ایک انٹرویو میں بتائی۔

 1962 کا آئین جس اسمبلی نے بنایا، اس اسمبلی کو عوام نے براہ راست نہیں بلکہ بلواسطہ چنا تھا،یعنی لوکل باڈیز کے انتخابات ہوئے، ان کونسلرز نے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب کیے،پھر اس آئین کو ترتیب دیا گیا جو زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکا اور 1952 کے آئین کی طرح جلد ہی اپنے اختتام کو پہنچا۔

اسکندر مرزا کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تو ساتھ ہی آئین کو بھی معطل کیا گیا۔جب ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کیا تو نیاآئین بھی دینا پڑ گیا ،کیونکہ ملک میں کسی آئین کا وجود نہ تھا۔ ایوب خان رخصت ہوئے تو یحیٰ خان قزلباش حاکم بن گئے۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ 1962 کا آئین Consensus Document 1962 نہیںتھا یعنی باہمی رضامندی سے نہیں بنایا گیا تھا۔ آئین تعطل کا شکار ہو گیا۔جنرل یحییٰ نے بالغ رائے دہی کی بنیادوں پر پہلی مرتبہ عام انتخابات کا اعلان کردیا۔آمریت کو مغربی پاکستان سے اتنے چیلنجز کا سامنا نہ تھا، جتنا کہ مشرقی پاکستان سے تھا۔

مشرقی پاکستان میں زرعی اصلاحات ہوئیں اور مشرقی پاکستان میں مجموعی طور پر چوہدری، وڈیرے اور سردار نہیں تھے۔ایک مڈل کلاس اکثریت تھی اور وہ ہی قیادت مقبول تھی۔وہ چاہے دائیں بازو کی جماعت اسلامی ہو یا پھر سیکولر سوچ رکھنے والی عوامی لیگ۔ان تضادوں میں شیخ مجیب کی سیاست چمک اٹھی۔

چند ہی مہینوں میں وہ بنگالیوں کی مڈل کلاس سیاست کے ہیرو بن جاتے ہیں۔مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو شملہ معاہدے پر دستخط کے مسئلے کی بدولت عوام میں مقبولیت حا صل کر لیتے ہیں۔بھٹو صاحب پنجاب کی سیاست کو سمجھتے تھے۔باقی صوبوں میں بیانیہ اتنی اہمیت کا حامل نہ تھا ، البتہ سندھ اربن کی سیاست اور پنجاب کے شہری ووٹرز کے درمیان بیانیہ معنی خیز تھا۔

کچھ حقیقتوں کا میں عینی گواہ ہوں۔میرے مرحوم والد، شہید سہروردی کے دور میں عوامی لیگ کے ممبر تھے۔میر رسول بخش تالپر عوامی لیگ سندھ کے صدر تھے اور میرے والد صاحب جنرل سیکریٹری۔ قصہ مختصراً یہ کہ اس وقت عوامی لیگ، ون یونٹ پرچھوٹے صوبوں کے ساتھ نہیں تھی۔

میرے والد اور کئی بشمول نوابزادہ نصراللہ خان اور مولانا بھاشانی نے عوامی لیگ چھوڑ دی۔ ان زمانوں میں نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد ڈھاکہ میں رکھی گئی اور بنیاد رکھنے والے رہنماؤںمیں میرے والد بھی شامل ہوئے۔

اگرتلہ سازش 1968 کیس کے بعد شیخ مجیب نے قمر الزماں کو ہمارے ہاں بھیجا کہ وہ عوامی لیگ میں شمولیت اختیار کریں اور عوامی لیگ ون یونٹ کے خلاف ، پارٹی کی قرارداد اور منشور میں بھی لایا جائے گا۔شیخ مجیب نہ صرف مشرقی پاکستان میں سیاسی طور پر مقبول ہوئے بلکہ انھوں نے مغربی پاکستان کی سیاست میں بھی جان ڈال دی۔

ایسا گمان ہو نے لگا کہ شیخ مجیب اب پاکستان کے وزیر اعظم بن جائیں گے۔یہ بات علی احمد راشدی نے کہی، وہ میرے والد کے انتقال پر اپنے مضمون میں رقم کرتے ہیں۔سندھ کے تمام وڈیرے بشمول پیر پگارا ، عوامی لیگ میں شامل ہوئے اور جب وہ بھانپ گئے کہ یحیٰ اور اس کے ساتھی ایسا نہیں چاہتے تو تمام وڈیروں نے اس جماعت کو خیر باد کہہ دیا۔

اب مغربی پاکستان سے شیخ مجیب کے ساتھ بس رہ گئے ہمارے والد، چند لوگ اور۔انھی دنوں میں طلبہ نے بھوک ہڑتال کردی کہ ووٹر لسٹ سندھ میں بنے، میرے والد بھی اس بھوک ہڑتال کا حصہ بنے۔بھٹو صاحب اس وقت جنرل یحییٰ کی کابینہ کے ممبر تھے۔

یہ معاملہ ون یونٹ کے خلاف ایک تحریک کی صورت میں ابھرا۔میرے والد کو بھوک ہڑتال سے اٹھا کر جیل بھیج دیا گیا،ان کے شانہ بشانہ تھے کامریڈ غلام محمد لغاری ۔ بھٹو صاحب خود چل کر حیدرآباد آئے۔

انھوں نے میرے والد سے ملاقات کی مگر میرے والد بھوک ہڑتال ختم کرنے کے حق میں نہ تھے۔اس اثناء میں جب شیخ مجیب کی ملاقات جنرل یحییٰ صدر پاکستان سے ہوئی تو انھوں نے ون یونٹ کوتوڑنے مطالبہ کردیا ۔

بنگالی جنرل یحییٰ پر بھاری پڑنے لگے اورجنرل یحییٰ بنگالیوں سے سخت نالاں تھے۔جنرل ایوب بھی اپنی ذاتی گفتگو میں بارہا اس بات کا ذکر کرتے تھے ’’بنگالیوں سے کیسے جان چھڑائی جائے‘‘ میرے والد کو علالت کے باعث جیل سے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ (یہ تمام باتیں میرے والد قاضی فیض محمد کی سوانح حیات’’ میرا سفر‘ ‘سے ماخوذ ہیں)۔

مسلسل اٹھارہ دنوں کی بھوک ہڑتال سے ان کی طبیعت شدیدبگڑ گئی۔ اس زمانے میں ہمارے گھر میں مشرقی پاکستان سے ٹیلیگرام موصول ہوتے تھے، پوری عوامی لیگ میرے والد کی طبیعت کے لیے بے حد فکر مند تھے جو میں نے ان ٹیلیگرامز میں پڑھا اور محسوس کیا۔

30  جون 1970 کوجنرل یحییٰ نے ریڈیو پر خطاب کر کے ، ون یونٹ توڑنے کا اعلان کردیا۔اس طرح سے ووٹر لسٹ سندھ میں بھی شائع ہو ئی ۔اس حوالے سے میری ناقص رائے یہ ہے کہ ون یونٹ نہ ٹوٹتا، اگر بنگالیوں کا ڈر نہ ہوتا۔پھر ملک بھی میں انتخابات ہوئے لیکن ہوا کیا؟ ہم نے انتخابات کے نتائج کو ماننے سے انکار کردیا۔بھٹو صاحب اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے رہے۔

1948میں بنگالیوں پر اردو ایک قومی زبان کے طور پر نافذ کی گئی۔1952کے انتخابات میں مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ کو بھرپور شکست کا سامنا کرنا پڑا،لیکن قومی اسمبلی میں جو بنگالی ممبر تھے وہ مستقل طور پر رہے جب کہ وہ ان ہی ریاستی اسمبلیوں کے ووٹ سے منتخب ہو کر آئے تھے، انھوں نے استعفیٰ دینا چاہا لیکن ان کو روک دیا گیا،جو قومی اسمبلی اپنے پانچ سال کی مدت پوری کر چکی تھی وہ اپنی معیاد قرارداد پاس کر کے آگے بڑھاتی رہی۔

1954 کا آئین دے دیا گیا، جب کہ آئین کا فلسفہ (جیورسپروڈنس ) یہ کہتا ہے کہ کوئی بھی اسمبلی خود اپنی معیاد نہیں بڑھا سکتی۔بالکل اسی طرح سے جیسے ایک انسان کہنے سے اپنی عمر خود نہیں بڑھا سکتا۔ سترہویں صدی میں برطانیہ میں بھی جب ہاؤس آف کامن کا وجود نہ تھا تو ہاؤس آف لارڈز نے اپنی معیاد بڑھائی۔یہ وہ ہی موقع تھا ،جنرل کرام ویل کے لیے جب اس نے شب خون مارا۔

جسٹس منیر ڈوسو کیس میں درست کہتے ہیں کہ جب انقلاب آتا ہے( ان کا اشارہ شب خون کی طرف تھا) تو آئین کی کوئی حیثیت نہیں رہتی کیونکہ انقلاب اپنا نظام خود لاتا ہے،یوں جسٹس منیر نے پاکستان میں آئین کے فلسفے (جیورپروڈنس) میں، آئین کے فلسفے کے پروفیسر ہینز کیلسن کی تھیوری نظریہ ضرورت متعارف کرائی۔

اسی تھیوری کو آج تک عدالتیں لے کر چل رہی تھیں، اس میں بھی بریک تب آیا جب یہ ملک اس نظریے کے با ر بار استعمال ہونے کے بعد دو لخت ہوا۔ جیورسپروڈنس یہ بھی کہتی ہے کہ جب ملک آئین پر نہیں چلتا تو سول وار نا گزیر ہو جاتی ہے۔

 بالاخر1973 میں ملک کو آئین دیا گیا۔اس ملک کے آزاد ہونے کے چھبیس سال بعد ایک ایسی اسمبلی نے جو براہِ راست عوام کی چنیدہ تھی اور یہ ڈاکیومنٹ عوام کی متفقہ رائے یعنی Consensus بنا۔ ماسوائے ایک یا دو ممبران کے 99% فیصد ووٹ سے بنا۔

1973 کے آئین کے مطابق صوبوں کی سرحدوں کو چھیڑنا ناممکن ہے،وہ اس لیے کہ جب بھی ایسا کیا جاتا ہے ون یونٹ لاگو کیا جاتا ہے۔شب خون مارے جاتے ہیں۔نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے دیے جاتے ہیں۔پھر سقوط ڈھاکہ جیسے واقعات جنم لیتے ہیں اور ملک دو لخت ہوتا ہے۔میں اسی موضوع کو مزید آگے لے کر چلوں گا۔