انتظامی یونٹس کے بعد ہم خود بلدیاتی اداروں کو ٹھیک اور مضبوط کر لیں گے، مصطفیٰ کمال

27 ستمر کو سہراب گوٹھ  پر صرف پختونوں کا جلسہ ہوگا،کراچی حیدرآباد میر پور خاص کے بعد لاڑکانہ میں جلسہ کریں گے


اسٹاف رپورٹر August 30, 2026

کراچی:

ایم کیو ایم پاکستان کے زیر اہتمام اتوار کو اورنگی ٹائون کے آفتاب گرائونڈ میں ہونے والے ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سنیئر رہنما اور وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ انتظامی یونٹس کے بعد ہم خود بلدیاتی اداروں کو ٹھیک اور مضبوط کر لیں گے، صوبہ بنانا کوئی غیر آئینی بات یا غداری نہیں، ہمیں انتظامی یونٹس پر برا یا گالی بکنے والوں کا ہم سے اختلاف نہیں، وہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کرتا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کے  لیے اسمبلی سے دو تہائی اکثریت چاہیے تو اس آئین میں 27 ترمیم ہوچکی ہیں، اسکا مطلب ہے کہ آئین کی کتاب میں سقم ہے تو جب بھٹو کے بنائے گئے آئین میں 27 ترمیم ہوچکی ہیں تو ایک ترمیم اور ہوسکتی ہے، یہ حکومت ہمارے وجود کو ماننے کے لیے تیار نہیں، وسائل دینا تو دور کی بات یہ ہمیں صحیح گننے کو تیار نہیں اللہ کا شکر ہے ایم کیو ایم کا وجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے غلط مردم شماری پر وفاق کا دروازہ کٹکٹھایا،آج بھی ہم دو کڑور تین لاکھ کی گنتی کو صیح نہیں مانتے ، پیلے اسکول کا نظام تباہ ہوگیا  صحت کا نظام ختم ہوگیا اگر جیب میں پیسے نہیں تو پرائیوٹ تعلیم یا صحت نہیں مل سکتی  ،اسی فیصد کراچی کو پانی نہیں ملتا ہمارا پانی چوری کرکے ٹینکر سے ہمیں ہی بیچا جاتا ہے، ٹینکر کو کیا پانی افغانستان سے ملتا ہے ہمارے شہری کوٹے کو بھی جعلی ڈومیسائل بنا کر نوکری بیچ دیتے ہیں۔

ہماری بلدیاتی آئینی ترمیم پر 26 ویں اور 27 ویں ترمیم پر پیپلز پارٹی نے مخالفت کی ہماری آئینی ترمیم کی منظوری پر پیپلز پارٹی نے دھمکی دی کہ ہم ترامیم پر ووٹ نہیں دیں گے وفاقی حکومت نے دونوں آئینی ترمیم پر ہم سے درخواست کی کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں کیونکہ پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم منظور نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں آئندہ آنے والی نسلوں کا فیصلہ کرنا ہے کیا ہمیں ایسے ہی سسک کر مرنا ہے یا اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہے دنیا کے واحد ملک کا صوبہ اور منفرد صوبائی حکومت ہے جس نے اپنے وجود سے آج تک ہمیں اور ہماری گنتی کو قبول نہیں کیا وہ پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کو نہیں مانتے انکو حکمرانی دلانے اور انگریزوں سے چھٹکارا دلانے کے لیے ہمارے اجداد نے بیس لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا کئی کوٹہ سسٹم نہیں ہے لیکن اس صوبے میں کوٹہ نفاذ ہے۔

صدر زرداری ٹی وی پر کہے چکے یہ ساڑھے تین کڑور سے زیادہ کی آبادی کا شہر ہے مردم شماری میں ایک کڑور تیس لاکھ گن کر مردم شماری بند کردی گئی ، پیپلز پارٹی کی بدترین حکمرانی کی کہیں مثال نہیں ملتی،اللہ نے بڑے بڑے فرعونوں کو نیست و نابود کیا ہےاب پیپلز پارٹی والوں تمھاری بھی باری آنے والی ہے ظلم زیادہ عرصے نہیں چل سکتا اس وقت سے ڈرو جب پورے کراچی کو آواز دی جائے گی کہ آؤ باہر نکلو اور ان حکمرانوں کو بتاؤ کہ کراچی کیا چاہتا ہے۔

انہوں نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج لگتا ہے کہ انتظامی یونٹس پر بات کرنا کفر ہے،آئین کی کتاب میں آرٹیکل 239 ذوالفقار بھٹو نے ڈالا ہے اور صوبہ بنانا کوئی غیر آئینی بات یا غداری نہیں ، آرٹیکل 239 میں نے نہیں بنایا،   پنجاب 172 ملکوں سے بڑا ہے، سندھ 165 ملکوں سے بڑا ہے،  بلوچستان 185 ملکوں سے بڑا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آگ لگنے کا واقعہ ہوا اس واقعے میں 14 بچے جان سے گئے اس واقعے پر افسوس اور رنج ہے میں نے اس واقعے پر کسی پر الزام نہیں لگایا میں نے پارلیمان میں کہا کہ پاکستان میں ہر سال چار لاکھ بچوں کی اموات ہوتی ہیں ہر دن تیرہ سو بچوں کی موت ہوتی ہے ان کو کوئی بیماری نہیں بلکہ وہ غذا کی کمی ، گندا پانی ، خون کی کمی سے مررہے ہیں جنکو بچوں کا درد ہے انکو چار لاکھ بچوں کی اموات کا بھی دکھ ہونا چاہیے اگر بچوں کا درد ہے تو کیوں نہیں اس ملک کی جماعتیں کیوں سر جوڑ کر بیٹھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پاکستان میں گیارہ ہزار مائوں کی زچگی کے دوران ہلاکت ہو جاتی ہے 55 فیصد پاکستان میں صاف پینے کا پانی نہیں،ملک میں اگر پانی صاف ہو جائے تو 68 فیصد لوگ مرنے سے بچ جائیں 22 ہزار ارب روپے اس صوبے میں آئے یہ معمولی رقم نہیں،  اس شہر کی حالت دیکھو، کہاں   گئے بائیس ہزار ارب روپے، کتنا بڑا ڈاکا ہے یہ اتنے پیسے ہیں کہ پچاس دفعہ سندھ بلڈوز ہوکر بن جاتا۔

انہوں نے کہا کہ دبئی میں ویلاز اور پراپرٹی بن رہی ہیں یہ انہی پیسوں سے بنی ہیں پاکستان چلانے والوں کو احساس ہوگیا ہے کہ اس نظام کے تحت اب پاکستان نہیں چل سکتا،27 ستمر کو سہراب گوٹھ  پر صرف پختونوں کا جلسہ ہوگا،کراچی حیدرآباد میر پور خاص کے بعد لاڑکانہ میں جلسہ کریں گے۔