پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں 3.57 کھرب روپے تک پہنچ گیا

عالمی سطح پر بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث درآمدی اخراجات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ


ویب ڈیسک August 31, 2026

اسلام آباد:

پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی کے دوران بڑھ کر 1.28 ارب ڈالر ( تقریباً 3 کھرب 57 ارب روپے تک جا پہنچا)، جس سے ملک پر درآمدی دباؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

عالمی سطح پر بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث درآمدی اخراجات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران فوسل فیول درآمد کرنے والے ممالک کو مجموعی طور پر تقریباً 330 ارب ڈالر کے اضافی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔

سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ ایران سے متعلق کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں ہیں، جنہوں نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا۔

اضافی مالی بوجھ کے حوالے سے یورپی یونین سب سے زیادہ متاثر رہی، جسے تقریباً 78 ارب ڈالر اضافی ادا کرنا پڑے، جبکہ چین 35 ارب ڈالر اور بھارت 22 ارب ڈالر کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

دوسری جانب بھارت کے خام تیل کے درآمدی بل میں بھی 56 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتوں کا عکاس ہے۔