اسلام آباد:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سانحہ پمز پر جوڈیشل انکوائری کے لیے دائر درخواست پر وزیراعظم کو پیش کی جانے والی رپورٹ اور کارروائی کی رپورٹ طلب کرلی۔
عدالت نے وفاق کو کیس میں تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دیا جب کہ دوران سماعت چیف جسٹس نے واقعے کو خوفناک قرار دیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے وکیل قاسم اقبال جلالی کی درخواست پر سماعت کی، جس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ وکیل نے کہا کہ حکومت کی بنائی ہوئی دونوں کمیٹیوں میں بیوروکریٹس ہی ہیں۔
وکیل قاسم اقبال جلالی نے سوال اٹھایا کہ بیوروکریٹ اپنے ہی ڈیپارٹمنٹ کی کیسے انکوائری کرسکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ انکوائری رپورٹ میں ذمہ داری فکس نہیں کی گئی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالت کس قانون کے تحت جوڈیشل انکوائری کی ہدایت دے سکتی ہے اور انکوائری ایکٹ میں کہاں لکھا ہے کہ عدالت ہدایت دے سکتی ہے؟
وکیل قاسم اقبال جلالی نے بتایا کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی واقعے پر کمیشن مقرر ہوا تھا۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ وہ کمیشن عدالت نے تشکیل نہیں دیا تھا، یہ کام حکومت ہی نے کرنا ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہمارے ہاں کوئی معاملہ ہوگا تو میں اسے دیکھنے کے لیے اپنے کسی جج کو ہی کہوں گا نا۔
وکیل قاسم اقبال جلالی نے دلائل میں کہا کہ کوئی بھی اپنی کی ہوئی کا جج نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بیوروکریٹس کی انکوائری اپنے ساتھیوں کے خلاف کیسے قابل قبول ہوگی؟ اس پر چیف جسٹس نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں، وہ یہ معاملہ آرمی کو بھیج دیتے؟
دوارن سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے بتایا کہ جس دن واقعہ ہوا، سیکرٹری صحت اسی روز معطل کیے گئے تھے۔ ابھی عبوری رپورٹ پر پمز آفیشلز کو معطل کیا گیا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بہت خوفناک واقعہ ہے، 14 بچوں کی جانیں گئی ہیں۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ایکشن لے بھی رہے ہیں تو کیا پھر بھی عدالت پر کوئی آرڈر کرنے پر پابندی ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پوچھ لیتے ہیں کہ ابھی تک ہوا کیا ہے۔