اسلام آباد:
خالص ہائیڈل منافع کی ادائیگی پر خیبرپختونخوا نے وفاق پر پنجاب سے ترجیجی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین سال کے دوران پنجاب کو161 ارب، خیبرپختونخوا کو صرف 88 ارب ادا کئے گئے۔
پاور ڈویژن کے نام خط میں خیبرپختونخوا حکومت نے کہا کہ آئینی اصول ہے صوبوں کو پن بجلی پیداوار کے ماحولیاتی، سماجی و معاشی اثرات کے مطابق ہائیڈل منافع ملے۔
2024-25 میں خیبرپختونخوا کے ہائیڈل ذرائع نے21.4 ارب یونٹ بجلی پیدا کی جو کل ملکی ہائیڈل پیداوار کا70 فیصد ہے۔
اس کے برعکس پنجاب کے ہائیڈل ذرائع سے 8 ارب یونٹ بجلی پیدا ہوئی۔ دونوں صوبوں کو پن بجلی پیداوار کی مد میں موصول فنڈزکا فرق ظاہر کرتا ہے کہ وفاق آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا جو آرٹیکل161(2) کی خلاف ورزی ہے۔
خیبر پختونخوا نے کہا کہ واپڈا نے ایک رپورٹ میں تسلیم کیا کہ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی گارٹنی شدہ ادائیگی میں تاخیر بلاجواز ہوئی ، صرف دسمبر2024ء کی انوائس پر ادائیگی کی گئی، بقایاجات16ماہ سے واجب الادا ہیں، کلیئرنس کیلئے واپڈا نے پاور پرچیز ایجنسی سے ماہانہ17 ارب روپے ادا کرنے کی درخواست کی ہے،مگر صرف 3 ارب ماہانہ مل رہے جو کلیئرنس کیلئے ناکافی ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن نیخیبرپختونخوا حکومت کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال پنجاب کو 96.8 ارب روپے نہیں، صرف 23 ارب دیئے گئے جو پشاور کو منتقل رقم سے10 ارب روپے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی مجموعی ٹیرف میں واپڈا کو خالص ہائیڈل منافع کی رقم دیتی ہے جس میں آپریشن اور مرمت اور دیگر منظور شدہ اخراجات شامل ہوتے ہیں۔