حالیہ جنگ میں ایک ہزار اسرائیلی اہلکار ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، ایرانی فوج کا دعویٰ

اسرائیلی اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں سے متعلق بیان کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی


ویب ڈیسک September 01, 2026

تہران: ایرانی مسلح افواج کے سینیئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران ایک ہزار اسرائیلی اہلکار ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی سیکڑوں میں ہے۔

ایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ابوالفضل شکارچی نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کی اصل تعداد ظاہر نہیں کررہے۔ ان کے مطابق ماضی میں افغانستان اور عراق کی جنگوں کے دوران بھی امریکی فوج کی ہلاکتوں کے بارے میں مکمل معلومات فوری طور پر سامنے نہیں لائی گئیں۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ امریکا نے ماضی کی جنگوں میں ہلاک ہونے والے بعض فوجیوں کی باقیات بعد میں ان کے اہل خانہ کے حوالے کیں، جس کے باعث ہلاکتوں کی مکمل تفصیلات بعد میں سامنے آئیں۔

بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے امریکی فوج پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ’’ہالی ووڈ اور پروپیگنڈا فوج‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا مسلم ممالک کے وسائل کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ایرانی فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حالیہ جنگ نے امریکی فوج اور اسرائیلی فوج کی صلاحیتوں کے بارے میں ایران کا مؤقف دنیا کے سامنے واضح کردیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فوجی طاقت کے بارے میں کیے جانے والے دعوے عملی میدان میں مختلف نظر آئے۔

ابوالفضل شکارچی نے ان ممالک کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی اڈے رکھنے والے ممالک کو یہ سمجھ آگئی ہے کہ امریکا انہیں مکمل تحفظ فراہم نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکا خود اپنے فوجیوں اور مفادات کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کرسکتا تو دوسرے ممالک کو سکیورٹی فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھتا ہے۔

تاہم ایرانی فوج کی جانب سے اسرائیلی اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں سے متعلق بیان کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔ جنگ کے دوران دونوں جانب سے ہلاکتوں اور نقصانات کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں، اس لیے ان اعداد و شمار کو ایرانی مؤقف کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

ایرانی ترجمان کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ جنگ کے بعد تہران نہ صرف اپنے فوجی مؤقف پر قائم ہے بلکہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف سخت بیانیہ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس صورتحال میں خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خدشات بدستور موجود ہیں۔