بھارت کی ریاست کرناٹک کے ضلع بیلگاوی میں مرغی کے گوشت کے زیادہ ٹکڑے کھانے پر ہونے والے جھگڑے نے ایک شخص کی جان لے لی۔
پولیس کے مطابق شراب کے نشے میں دو دوستوں کے درمیان تلخ کلامی کے دوران ایک شخص نے اپنے ساتھی کے سینے میں چاقو گھونپ دیا، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ بیلگاوی کے موڈلاگی تعلقے کے گاؤں ہونشیال پی جی میں پیش آیا۔ مقتول کی شناخت اتر پردیش کے ضلع پیلی بھیت کے گاؤں کبیر گنج کے رہائشی ستی رام چندر دیو کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ گرفتار ملزم ارون کمار بالیشٹر چوان بھی اسی گاؤں کا رہائشی بتایا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق دونوں افراد ہونشیال پی جی میں ایک اسٹیل فیکٹری میں کام کرتے تھے اور دیگر مزدوروں کے ساتھ ایک شیڈ میں رہائش پذیر تھے۔
واقعے کے روز چار سے پانچ مزدور شیڈ میں بیٹھ کر مرغی کا گوشت کھا رہے اور شراب پی رہے تھے۔ اسی دوران ستی رام اور ارون کمار کے درمیان اس بات پر بحث شروع ہوگئی کہ ستی رام نے مرغی کے گوشت کے زیادہ ٹکڑے لے لیے ہیں۔
بیلگاوی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے راماراجن کے مطابق بحث شدت اختیار کرگئی اور ارون کمار نے قریب پڑا ہوا چاقو اٹھا کر ستی رام کے سینے پر وار کردیا۔ چاقو لگنے سے ستی رام کو شدید خون بہنے لگا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ملزم نے مبینہ طور پر قتل چھپانے کی کوشش کی۔ وہ ستی رام کی لاش کو گوکاک کے سرکاری اسپتال لے گیا اور ڈاکٹروں کو بتایا کہ ستی رام ویلڈنگ کے دوران بلندی سے گر کر زخمی ہوا تھا۔
تاہم اسپتال میں ڈاکٹروں نے مقتول کے سینے پر گہرا زخم دیکھا تو انہیں معاملہ مشکوک محسوس ہوا۔ پولیس کو بھی واقعے کے بارے میں اطلاع دی گئی اور تفتیش شروع کردی گئی۔
پولیس نے جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ستی رام کی موت بلندی سے گرنے کے باعث نہیں ہوئی بلکہ اسے چاقو مارا گیا تھا۔
بعد ازاں گھٹ پربھا پولیس نے معاملے کو حل کرتے ہوئے ارون کمار کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے مبینہ طور پر قتل میں استعمال ہونے والا چاقو بھی برآمد کرلیا ہے۔