ہمارے عزیزوں میں ذرا سینئر نسل کے بزرگ تھے۔ وہ آخر میں وہی ہوگئے تھے جن کے بارے میں دوکہاوتیں زبان زد خاص وعوام ہیں، ایک یہ کہ جو ساٹھ کاہوجاتا ہے،گولی مارنے کیلائق ہوجاتا ہے ، دوسری یہ کہ وہ تو ریڈیو ہوگیا ہے ، اپنی کہتا ہے کسی اورکی نہیں سنتا اوریہ دونوں کہاوتیں ان پر صادق آتی تھیں۔ وہ بولتا رہتا تھا اورلوگ کانوں میں ون وے ٹریفک چلاتے …جب کہ ان کویہ شکایت رہتی تھی کہ لوگ میری سنتے نہیں لیکن پھر بھی بولتے رہتے ۔آج کل ہمیں بھی کچھ ویسا ہی عارضہ لاحق ہوچکا ہے کیوں کہ جدھر بھی دیکھتے ہیں کسی کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں ۔
اب مثال کے طورپر اس ’’سورج ‘‘ کو لے لئیجے، کتنے زمانے ہوگئے، اسے یہ بے ڈھنگی چال چلتے ہوئے ، اوراسے اتنی بھی عقل نہیں آئی کہ دن کو چڑھ کر ادھر ادھر مٹرگشتی اوربے فضول پھرنے کی بجائے ’’رات‘‘ کو نکلا کرے تو کچھ فائدہ بھی ہو ۔ کم سے کم بجلی والوں کے ’’اتیاچار‘‘ سے تو نجات پالیں گے ، خیر یہ تو ہماری خوش فہمی ہے، بجلی والے تو چیچک کے دانے ہیں ، چیچک کو پشتو میں ادھار کے دانے کہتے ہیں اورپرانے لوگوں کا عقیدہ تھا کہ چیچک سے کوئی بچ نہیں سکتا، اگر دنیا میں یا زندگی میں بچ جائے تو قبر میں ہڈیوں پر چیچک کے دانے نکلیں گے لیکن نکلیں گے ضرور…اورعالمی صحت والوں کایہ دعویٰ بھی باطل ہوگیا ہے کہ چیچک ختم ہوگئی ہے، ذرا پاکستان آکر حکومتوں اوران کے محکموں خاص طورپر بجلی، گیس اورپٹرولیم والوں کو دیکھیں ، کہاں ختم ہوئی چیچک؟ لیکن ہماری سنتا کون ہے اورسورج تو سارے ’’ڈھیٹوں‘‘ کا سربراہ اورڈھٹائی کا ایوارڈ ہولڈر ہے۔
ہماری کوئی سنتا توہم یہ مشورہ بھی دے دیتے کہ سارے غلطسلط موسموں یعنی گرمی، سردی کو کسی ہاون دستے میں کوٹ کوٹ کر پیس دیا جائے اورپھر اس آمیزے سے ایک ہی موسم بنایاجائے تو بڑا اچھا اورآرام دہ موسم بہار نکل آئے گا ۔ سوچئے تو سہی، اگر ایسا ہوجائے تو یہ سارے گرم اورسرد آلے نہیں خریدنا پڑیںگے اورلوگ آرام سے باغ وبہار موسم کے مزے لوٹیں گے، وہ بھی مفت میں ۔ کسی بجلی کے بل کے بغیر۔۔ لیکن ہماری سنتا کون ہے ؟
اوریہ جو حکومت نے بے شمار سفید ہاتھی پالے ہوئے ہیں۔ ڈیپرا،شیپرا، کیپرا، بوگرہ ، جوگرہ، موگرہ، ان سب کو اکٹھا کرکے کسی ’’کنٹینر‘‘ میں ڈالا جائے اورکنٹینر کو کسی جہاز کے پیچھے لے جاکر آبنائے ہرمز پہنچایا جائے اوروہاں کنٹینر کو چھوڑ کر یہ جا وہ جا ہوجایا جائے تو کتنااچھا ہو ۔۔ لیکن ہماری سنتا کون ہے ؟ آپ اخباروں کو تو پڑھتے ہوں گے۔ ان میں جو زورآور ابکائیاں لانے والے اورقے آور بیان چھپتے ہیں، وہ مجبوری ہوتے ہیں لیکن یہ تو کرسکتے ہیں کہ ان بیانوں کے ساتھ جو تصویریں ہوتی ہیں ، ان کی ذرا ڈھنگ کی خوب صورت پرکشش اورفرحت افزا قسم کی تصویریں دیا کریں۔۔ انجلیناجولی، کرینہ ،کترینہ ، شرداکپور ، سونا کشی ، مینا کشی، تاپسی پنوں ، تمنابھاٹیہ وغیرہ کی تصویریں تو مفت میں دستیاب ہیں ، فکرکرنے کی ضرورت نہیں ، بیان کوئی پڑھتا کب ہے ۔ اداکاراؤں کی تصاویر سیکم از کم اخبارات تو خوش نما اورپرکشش ہوجائیں گے ، لیکن ہماری سنتا کون ہے ؟ یہاں؟
اورہاں سب سے اہم ترین بات تو ہم بھول گئے ہیں ، دنیا میں آج تک بہت سی بے انصافیاں ہوتی رہی ہیں، کچھ طبقات پر بے پناہ ظلم ہوتے رہے ہیں اورمزید دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اورنصف نصف کے اس زمانے میں بھی بڑی زیادتی ہورہی ہے اوراس مظلوم طبقے کا نام ہے خادمان قوم وملک ووطن و دین ودنیا ۔ یہ سیلیکٹڈ طبقے کے وہ الیکٹڈ خدمت گار ہوتے ہیں جنھیں چالاک، ظالم، عیارومکار عوام کالانعام صرف ایک ووٹ دے کر منتخب کرلیتے ہیں اورپھر مسلسل ان سے خدمات وصول کرتے ہیں، بیچارے عوام نمائندے اپنے اوپر خواب وخورحرام کیے ہوئے رہتے ہیں ، نہ قیام وطعام بس کام ہی کام۔ لگے رہتے ہیں منابھائی کی طرح ۔۔۔
ان میں اکثر تو ایسے ہیں کہ پشتاپشت اورکئی نسل سے قوم ،ملک، عوام، مذہب اورجمہوریت کی خدمت میں پسینے پسینے ہورہے ہیں لیکن یہ ظالم، اتیاچاری، احسان فراموش عوام کالانعام انھیں چھٹی نہیں دے رہے ہیں بلکہ دن رات ان سے خدمات لے رہے ہیں ۔اب وقت آگیا ہے کہ ان بیچاروں خدمت گاروں کو آرام دیا جائے ، اس کے لیے ہمارے پاس تجویزہے کہ ان سب کو خاندانوں سمیت جہازوں میں بھر کر مڈغاسکرپہنچایاجائے اورہمیشہ ہمیشہ کے لیے ’’آرام‘‘ دیاجائے
عہد جوانی رورو کاٹا، پیری میں لی آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے، صبح ہوئی آرام کیا
لیکن ہماری سنتا کون ہے ، جب سے یہ ملک بنا ہے حکومتیں کوشش کررہی ہیں کہ ’’بیچاری کرپشن‘‘ کو ملک سے نکالا دیاجائے خاص طورپر جمہوری حکومتوں نے تو اس بیچاری کامکمل طورپر قلع قمع کردیا ہے ، اب پورے ملک میں چراغ، مشعل اورٹارچ لے کر گھومئیے، کرپشن کسی دوا میں ڈالنے کے لیے بھی نہیں مل رہی ہے جب کہ کرپشن بہت ہی شافی اورکئی امراض کے لیے تریاق ہے ۔ حکومت کوجیسے تیسے بھی کرکے تھوڑی سی کرپشن درآمد کرنی چاہیے تاکہ گلوں میں رنگ بھر ے باد نو بہارچلے ۔
لیکن ہماری سنتا کون ہے؟