ترقی کس کے لیے

ہمیں مصنوعی ذہانت چاہیے مگر ایسی مصنوعی ذہانت نہیں جو صرف طاقتور اداروں اور بڑی کمپنیوں کو مزید طاقتور بنادے۔


زاہدہ حنا September 02, 2026

میں ترقی کے خلاف نہیں ہوں، ترقی ہونی چاہیے اور صرف اتنی نہیں جتنی ہم نے اب تک دیکھی ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ۔ مصنوعی ذہانت آئے، نئی ٹیکنالوجی آئے، صنعتیں لگیں، شہر جدید ہوں، اسپتال بہتر ہوں، تعلیم کے نئے دروازے کھلیں اور پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو جو آنے والے زمانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ مجھے اس میں کوئی اعتراض نہیں بلکہ میری خواہش ہے کہ یہ سب کچھ جلد ہو۔

 لیکن اس سارے ترقی کے شور میں ایک سوال مسلسل میرے ذہن میں دستک دیتا ہے، اس ترقی میں غریب آدمی کہاں ہے؟ ہم ایک ایسے زمانے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت انسان کے بہت سے کام کرنے لگی ہے۔ مشینیں حساب لگا سکتی ہیں، زبانیں ترجمہ کرسکتی ہیں ،بیماریوں کی تشخیص میں مدد دے سکتی ہیں، فصلوں کے بارے میں پیش گوئی کرسکتی ہیں ،ٹریفک کو منظم کرسکتی ہیں اور حکومت کے انتظامی نظام کو پہلے سے کہیں زیادہ موثر بنا سکتی ہیں۔ یہ سب حیرت انگیز ہے، دنیا بدل رہی ہے اور جو قومیں اس تبدیلی کو سمجھنے سے انکار کریں گی، وہ آنے والے برسوں میں مزید پیچھے رہ جائیں گی۔

پاکستان کو بھی اس تبدیلی کا حصہ بننا چاہیے، مگر سوال یہ ہے کہ کس پاکستان کو؟ وہ پاکستان جس میں چند لاکھ لوگ جدید ترین ٹیکنالوجی تک رسائی رکھتے ہیں یا وہ پاکستان جس میں کروڑوں انسان آج بھی بنیادی سہولتوں کے لیے ترستے ہیں۔ ہم مصنوعی ذہانت کی بات کرتے ہیں مگر ہمارے سرکاری اسکولوں کی حالت کیا ہے؟ ہم ڈیجیٹل پاکستان کی بات کرتے ہیں مگر کتنے بچوں کے پاس ایسا موبائل فون یا کمپیوٹر ہے جس پر وہ دنیا کے نئے علم تک رسائی حاصل کرسکیں؟ ہم مستقبل کی معیشت کی بات کرتے ہیں مگر آج کا مزدور اپنی آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو کیسے طے کرے؟یہ سوال مصنوعی ذہانت کے خلاف نہیں، یہ سوال انسان کے حق میں ہے۔ ترقی کا تصور اگر صرف بلند عمارتوں، موٹرویز ، جدید ٹیکنالوجی، بڑے منصوبوں اور سرمایہ کاری کے اعداد و شمار تک محدود ہوجائے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس ترقی کے ثمرات کس کی زندگی میں داخل ہوئے ہیں۔

 ایک ملک کی ترقی کا سب سے خوبصورت منظر اس کا جدید ترین شہر نہیں ہوتا۔ اصل منظر وہ گھر ہے جہاں باپ کو یہ خوف نہ ہو کہ اگر وہ بیمار ہوگیا تو بچوں کی فیس کیسے ادا ہوگی۔ وہ ماں جسے بازار جاتے ہوئے ہر روز یہ حساب نہ لگانا پڑے کہ گوشت خریدے یا بچوں کے دودھ کے پیسے بچائے۔ وہ نوجوان جسے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کے لیے دوسرے ملک جانے کا خواب دیکھنا نہ پڑے بلکہ اپنے ملک میں باعزت زندگی گزارنے کا امکان نظر آئے۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان نوجوانوں کا ملک ہے۔ یہ بات درست ہے لیکن نوجوان صرف ایک آبادیاتی عدد نہیں۔ ان کے کچھ خواب ہیں، ان کی خواہشات ہیں اور ان کا مستقبل اس ملک میں کتنا محفوظ ہے۔اگر مصنوعی ذہانت لاکھوں ملازمتوں کی نوعیت بدلنے والی ہے تو ہمیں یہ سوال بھی پوچھنا ہوگا کہ ان لوگوں کے لیے کیا ہوگا جن کے موجودہ کام مشینیں سنبھال لیں گی ،اگر ایک کمپنی پہلے سو افراد سے کام لیتی تھی اور مصنوعی ذہانت کے بعد بیس افراد سے وہی کام کرسکتی ہے تو باقی اسی افراد کہاں جائیں گے۔ یہاں سے حکومت کا کردار شروع ہوتا ہے۔

ریاست کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ نئی ٹیکنالوجی ملک میں لے آئے۔ ریاست کا کام یہ بھی ہے کہ وہ اس تبدیلی سے متاثر ہونے والے انسانوں کو تنہا نہ چھوڑے۔ نئی معیشت کے لیے نئی تعلیم، نئی تربیت، ہنر سکھانے کے ادارے، سماجی تحفظ اور روزگار کی نئی شکلیں پیدا کرنا ہوں گی۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی بحث ہورہی ہے کہ مستقبل کے سماج میں دولت کس طرح تقسیم ہوگی، کام کی نوعیت کیا ہوگی، مشین اور انسان کا تعلق کیا ہوگا اور کیا ریاست ہر شہری کو بنیادی معاشی تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔ ہماری بحث ابھی اس مقام تک بھی نہیں پہنچی۔ہمیں ترقی چاہیے مگر ہمیں انسان دوست ترقی چاہیے۔

ہمیں مصنوعی ذہانت چاہیے مگر ایسی مصنوعی ذہانت نہیں جو صرف طاقتور اداروں اور بڑی کمپنیوں کو مزید طاقتور بنادے۔ ہمیں ایسی ٹیکنالوجی چاہیے جو کسان کو بہتر پیداوار میں مدد دے مریض کو بہتر علاج میسر کرے طالب علم کو علم فراہم کرے چھوٹے کاروبار کو بڑے کاروبار سے مقابلہ کرنے کا موقع دے اور عام شہری کے لیے ریاستی اداروں کے دروازے آسان کرے۔اگر ٹیکنالوجی سے حکومت کا کام تیز ہوسکتا ہے تو اس کا فائدہ سب سے پہلے اس شہری کو ملنا چاہیے جو سرکاری دفتر کے ایک چھوٹے سے کام کے لیے دن بھر قطار میں کھڑا رہتا ہے۔اگر مصنوعی ذہانت سے تعلیم بہتر ہوسکتی ہے تو اس کا فائدہ صرف مہنگے نجی اسکول کے طالب علم کو کیوں ملے دیہات کے بچے کو بھی وہی علم ملنا چاہیے جو لاہور کراچی یا اسلام آباد کے کسی مہنگے ادارے میں پڑھنے والے بچے کو حاصل ہے۔

یہی اصل سوال ہے ٹیکنالوجی کس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا فائدہ کس کو مل رہا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر صنعتی انقلاب نے نئی دولت پیدا کی لیکن اس دولت کی تقسیم خود بخود منصفانہ نہیں ہوئی۔ صنعتی انقلاب نے کارخانے بنائے پیداوار بڑھائی اور نئی منڈیاں پیدا کیں، مگر مزدوروں کے حقوق کی جنگ بھی اسی دور میں پیدا ہوئی۔ آٹھ گھنٹے کام مناسب اجرت، چھٹی ،پنشن ،علاج اور انسانی کام کے حالات کسی سرمایہ دارانہ نظام نے ازخود تحفے میں نہیں دیے۔ یہ حقوق محنت کش انسانوں کی جدوجہد سے حاصل ہوئے۔

آج مصنوعی ذہانت بھی ایک نئے انقلاب کی شکل اختیار کررہی ہے۔ اس انقلاب سے نئی دولت پیدا ہوگی۔ سوال صرف یہ ہے کہ وہ دولت کہاں جائے گی،اگر نئی ٹیکنالوجی کی ملکیت چند بڑی کمپنیوں چند سرمایہ داروں اور چند طاقتور اداروں کے پاس رہے گی تو ممکن ہے کہ دنیا میں دولت کا ارتکاز پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جائے، لیکن اگر ٹیکنالوجی کو عوامی مفاد تعلیم صحت روزگار اور سماجی بہبود کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی انقلاب انسانی زندگی کو پہلے سے کہیں بہتر بنا سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں ٹیکنالوجی سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں غیر مساوی ترقی سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ غریب آدمی صرف امداد کا مستحق نہیں ہوتا۔ وہ شہری ہے اور شہری ہونے کے ناتے اسے ترقی میں حصہ لینے کا حق ہے۔ اسے اچھا اسکول چاہیے خیرات نہیں۔ اسے روزگار چاہیے وقتی راشن نہیں۔ اسے علاج چاہیے صرف اسپتال کے باہر ایک پرچی نہیں۔ اسے عزت چاہیے، سرکاری دفتر میں سفارش نہیں۔ سب سے بڑھ کر اسے ایسا سماج چاہیے جس میں اس کے بچے اپنے والدین کی غربت وراثت میں لے کر پیدا نہ ہوں۔

ہماری سب سے بڑی ناکامی شاید یہ نہیں کہ پاکستان نے ترقی نہیں کی۔ ہم نے ترقی کی ہے، شہر پھیلے ہیں ،سڑکیں بنی ہیں ،یونیورسٹیاں بڑھی ہیں، صنعتیں قائم ہوئی ہیں ،ٹیکنالوجی آئی ہے۔ ناکامی یہ ہے کہ ترقی کے ثمرات کی تقسیم ہماری سماجی ناہمواری کو ختم نہیں کرسکی۔

اب ہمیں ترقی کی رفتار کے ساتھ اس کی سمت پر بھی بات کرنی ہوگی۔ ہمیں یہ پوچھنا ہوگا کہ کیا ایک ایسا پاکستان ممکن ہے جہاں جدید ترین ٹیکنالوجی بھی ہو اور بھوکا بچہ بھی نہ ہو۔ جہاں مصنوعی ذہانت بھی ہو اور ہر بچے کے لیے معیاری اسکول بھی جہاں جدید اسپتال بھی ہوں اور غریب آدمی علاج کے لیے در در کی خاک نہ چھانے جہاں سرمایہ کاری بھی آئے اور مزدور کی اجرت اس کی ضرورتوں کو پورا کرسکے۔ یہ ممکن ہے لیکن اس کے لیے ترقی کو صرف معاشی اصطلاح نہیں بلکہ انسانی اصطلاح بنانا ہوگا۔

ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ کسی ملک کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ اس کی معیشت کتنی بڑی ہوگئی، اس کے پاس کتنے جدید منصوبے ہیں یا اس نے کتنی مصنوعی ذہانت اختیار کرلی ہے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ اس ملک میں رہنے والا عام انسان، کتنی عزت، آزادی، تعلیم ،صحت اور معاشی تحفظ کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔اگر ترقی کے بلند ترین مینار کے سائے میں ایک غریب آدمی اپنے بچے کی فیس ادا نہ کرسکے تو ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا ہوگا کہ ہماری ترقی کا مطلب کیا ہے۔ ترقی ضرور ہونی چاہیے۔ مصنوعی ذہانت بھی آنی چاہیے۔ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا بھی چاہیے لیکن ترقی کا آخری سوال مشین کا نہیں انسان کا ہے۔ جب ہم اگلی بار یہ فخر سے کہیں کہ پاکستان ترقی کررہا ہے تو ہمیں اپنے آپ سے صرف ایک سوال پوچھنا چاہیے اس ترقی میں غریب آدمی کہاں کھڑا ہے۔