کراچی میں پاک بحریہ کی بڑی جنگی مشق ’سی اسپارک 2026‘ کا آغاز ہوگیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق نیول چیف نے مشق کی افتتاحی بریفنگ کی صدارت کی، جس میں مسلح افواج کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اس مشق کے دوران پاک بحریہ کی جنگی تیاری اور جدید بحری خطرات سے نمٹنے کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق ’سی اسپارک 2026‘ میں پاک بحریہ کے بحری جہازوں، آبدوزوں، طیاروں، بغیر پائلٹ نظام، میرینز اور اسپیشل فورسز کو شامل کیا گیا ہے۔ مشق میں پاک آرمی اور پاک فضائیہ بھی مشترکہ طور پر حصہ لے رہی ہیں، جس کے ذریعے تینوں سروسز کے درمیان بہتر انضمام کو جانچا جا رہا ہے۔
مشق کے دوران روایتی اور ابھرتے ہوئے بحری خطرات کے خلاف پاک بحریہ کی جنگی تیاری کا جائزہ لیا جائے گا۔
اس موقع پر نیول چیف نے پی این فلیٹ یونٹس کا دورہ بھی کیا اور جاری آپریشنز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بدلتے سیکیورٹی ماحول میں غیر معمولی جنگی تیاری اور مؤثر ردعمل کی ضرورت پر زور دیا۔
نیول چیف کا کہنا تھا کہ موجودہ سیکیورٹی ماحول میں تینوں سروسز کے درمیان بہتر انضمام اور مؤثر ردعمل ناگزیر ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ’سی اسپارک 2026‘ میں ملٹی ڈومین آپریشنز کی مشق کی جا رہی ہے، جس میں مختلف شعبوں کی صلاحیتوں کو مربوط کیا گیا ہے۔
مشق میں سمندری، فضائی، زمینی، سائبر اور خلائی صلاحیتوں کو ایک دوسرے سے مربوط کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ انفارمیشن ماحول میں آپریشنز کے ذریعے معلوماتی جنگ کے میدان میں فیصلہ کن برتری حاصل کرنے کی مشق بھی کی جا رہی ہے۔ یوں سمندری کارروائیوں کے ساتھ انفارمیشن وارفیئر کو بھی مربوط کیا گیا ہے۔