سندھ ہائیکورٹ؛ میر رضا قتل کیس تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست مسترد

درخواست گزاروں کے وکیل نے کمیشن کی تشکیل پر سنجیدہ اعتراض نہیں کیا بلکہ اس پر اعتماد کا اظہار کیا، سندھ ہائی کورٹ


ناصر بٹ September 02, 2026
فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے نوجوان میر رضا کے قتل کی تحقیقات کے لیے ان کے اہل خانہ کی جانب سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کے لیے دائر درخواست مسترد کردی اور تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس محمد جعفر رضا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مقتول میر رضا کے اہل خانہ کی درخواست پر سماعت کی اور جسٹس محمد جعفر رضا نے 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا، درخواست میر رضا علی خان کے والدین اور بہن کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

عدالت نے میر رضا کے قتل کے معاملے میں جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست مسترد کی اور تفتیشی افسر کو قانون کے مطابق غیر جانب دارانہ، شفاف، مؤثر اور جلد تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کردی اور کہا کہ براہ راست مداخلت کرنا عدالتی دائرہ اختیار کے اصولوں کے خلاف ہوگا،۔

میر رضا کے والدین اور بہن کی جانب سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ میر رضا کی موت کے معاملے کی پولیس تفتیش پر اہل خانہ کو اعتماد نہیں رہا، اس لیے عدالت اپنے آئینی اختیار کے تحت جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دے۔

درخواست گزار کے وکیل جبران ناصر نے عدالت کو بتایا کہ جاری تحقیقات میں متعدد خامیاں اور تضادات موجود ہیں، جس کے باعث اہل خانہ کو موجودہ تفتیشی عمل پر اعتماد نہیں رہا۔

سندھ ہائی کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت سے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی استدعا کی اور اپنے مؤقف کی تائید میں مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیا جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست کی مخالفت کی۔

سرکاری وکلا نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ آئینی رٹ دائرہ اختیار کے تحت عدالت کو جاری فوجداری تفتیش میں مداخلت، جے آئی ٹی تشکیل دینے یا تفتیش کی نگرانی کرنے کا اختیار حاصل نہیں، تفتیش ابھی جاری ہے اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت حتمی رپورٹ بھی عدالت میں پیش نہیں کی گئی لہٰذا درخواست گزاروں کی جانب سے تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار قبل از وقت اور محض الزامات پر مبنی ہے۔

عدالت نے کہا کہ درخواست گزاروں کے وکیل کی جانب سے جے آئی ٹی تشکیل دینے کے لیے پیش کیے گئے دلائل عدالت کو قائل نہیں کرسکے، جاری تفتیش میں براہ راست مداخلت یا تفتیشی عمل کو اپنے ہاتھ میں لینا مناسب نہیں اور تفتیشی افسر نے یقین دہانی کرائی کہ وہ معاملے کی تحقیقات کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ ضرورت پڑنے پر قانون کے مطابق دیگر قانون نافذ کرنے والے یا تحقیقاتی اداروں کی معاونت بھی حاصل کی جاسکتی ہے، سندھ ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت ایک رکنی کمیشن تشکیل دیا گیا ہے اور مذکورہ کمیشن نے کارروائی بھی شروع کردی ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ درخواست گزاروں کے وکیل نے کمیشن کی تشکیل پر سنجیدہ اعتراض نہیں کیا بلکہ اس پر اعتماد کا اظہار کیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے فیصلے کے اختتام پر میر رضا علی خان کے اہل خانہ سے گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت ان کے کرب اور نقصان سے پوری طرح آگاہ ہے تاہم ہمدردانہ جذبات قانون کے طے شدہ تقاضوں پر غالب نہیں آسکتے۔

عدالت نے جے آئی ٹی تشکیل دینے سے متعلق درخواست نمٹاتے ہوئے تفتیشی افسر کو قانون کے مطابق تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔