لاہور: ناکے پر روکنے کےدوران نوجوان کی موت، کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی پر لاش فیملی کودینے کا انکشاف

متوفی زین کی نماز جنازہ لاہور کے علاقے ساندہ میں ادا، ٹریفک وارڈن کو معطل کردیا گیا


اسٹاف رپورٹر September 02, 2026

لاہور میں اچانک سڑک پر آکر تیز رفتار بائیک والے کو روکنے اور حادثے میں نوجوان کی ہلاکت پر حکام نے نوجوان کی لاش روک لی اور اہل خانہ کو دستخط لینے کے بعد میت اس شرط پر واپس دینے کا انکشاف ہوا ہے کہ وہ کوئی قانونی کارروائی نہیں کریں گے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور کے علاقے شادمان میں گزشتہ روز ناکے پر میڈیا پرسن کے ساتھ آنے والے موٹرسائیکل سوار کو پولیس اہلکار نے روکا تاہم نوجوان کنٹرول کھو بیٹھا اور گاڑی سے گرا جبکہ میڈیا پرسن بھی واقعے میں زخمی ہوا تھا۔

حادثے میں 30 سالہ زین الیاس جاں بحق ہوگیا تھا جس کی لاش کو پولیس نے تحویل میں رکھا اور آج ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی گئی۔

فیملی ذرائع نے بتایا کہ زین کے ورثا سے کارروائی نہ کرنے کی شرط پر دستخط کرنے کے بعد لاش دی گئی ہے تاہم پولیس کی جانب سے اس الزام کی تردید کی جارہی ہے۔

اہل خانہ نے بتایا کہ زین کی نماز جنازہ بعد نماز عصر لاہور کے علاقے ساندہ میں ادا کی گئی۔ متوفی یر شادی شدہ اور پیشے کے اعتبار سے الیکڑیشن تھا۔

اُدھر سی ٹی او لاہور نے 30 سالہ زین کو سٹرک پر روکنے والے ٹریفک وارڈن سلطان الحق غفلت اور لاپرواہی برتنے پر معطل کر دیا گیا۔