اسپتال وہ بہت محفوظ جگہ ہے جہاں انسان تکلیف اور بیماریوں میں مبتلا ہو کر جاتا ہے لیکن وہاں انسانیت کے مسیحاؤں کے ہاتھوں شفا یاب ہو کر صحت و تندرستی کے ساتھ مسکراتا ہوا گھر لوٹتا ہے۔ پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد کے معروف سرکاری اسپتال پمز میں گزشتہ ہفتے 26 اگست کو جن ماؤں نے اپنے بچوں کو جنم دیا تھا اور ان کے سہانے مستقبل کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے تھے وہ سب آگ کے شعلوں کی نذر ہو کر ان کے آنسوؤں میں بہہ گئے۔
پمز اسپتال کے شعبہ اطفال کی نرسری میں اچانک ہونے والی آتشزدگی نے 14 نومولود نونہالوں کی جان لے لی۔ وہ کلیاں جنھیں ابھی پھول بن کے مہکنا تھا اور اپنے ماں باپ کی محبت بھری باہنوں میں جھولنا تھا، انھیں سوختہ حالت میں ماں باپ کے سپرد کر دیا گیا۔ جو اپنے بچوں کی مسکان دیکھنا چاہتے تھے وہ ان کا تصور کرنے سے بھی قاصر تھے۔ ’’حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے۔‘‘
پمز اسپتال کے دل خراش سانحے نے ملک کے ماحول کو سوگوار کر دیا۔ متاثرہ ماؤں کے جگر چھلنی ہو گئے۔ ان کی آہ و فغاں نے ہر آنکھ کو اشک بار کر دیا۔ اپنے نومولود بچوں کی جدائی کا دکھ ساری زندگی بھول نہ پائے گا۔ لاکھوں روپے کی امداد چیک بھی ماں کے آنسوؤں کو خشک نہ کر سکیں گے۔ سانحے کی شفاف تحقیقات کے حکومتی دعوے، انکوائری کمیٹیاں، افسران کی معطلی اور ذمے داروں کے خلاف مقدمات اور انھیں سزاؤں کی یقین دہانیاں اپنی جگہ درست سہی کہ وطن عزیز میں ہمیشہ سے یہ روایت رہی ہے کہ جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو تمام متعلقہ حکومتی ادارے حرکت میں آ جاتے ہیں۔
حکومتی سطح پر فوری تحقیقات کا حکم دے دیا جاتا ہے، انکوائری کمیٹی بٹھا دی جاتی ہے۔ متاثرین کی اشک شوئی کے لیے لاکھوں روپے کے امدادی چیک دے کر گویا ان کی زبان بندی کر دی جاتی ہے۔ کچھ دنوں، ہفتوں اور مہینوں تک پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں سانحے کا چرچا رہتا ہے، پھر کوئی نیا سانحہ ہوتا ہے اور پچھلا حادثہ وقت کی گردشوں میں گم ہو کر دفتروں کی دبیز فائلوں تلے دب جاتا ہے۔ عدالتوں میں مقدمات کی لمبی لمبی تاریخیں سائیلین کو مایوس اور بددل کر دیتی ہیں۔ اس پہ مستزاد اثر و رسوخ رکھنے والے ملزمان اپنے تعلقات کو استعمال کرکے عدالتوں سے ’’ریلیف‘‘ حاصل کرکے پاک صاف ہو جاتے ہیں، یوں وقت اور سانحہ دونوں ماضی کا قصہ بن جاتے ہیں۔
پمز اسپتال کے سانحے میں وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے فوری ایکشن لیتے ہوئے نہ صرف انکوائری کمیٹی بنائی ہے بلکہ اس کی ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سمیت 8افسران کو معطل کر دیا ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کو پبلک کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں آتشزدگی کے اندوہناک سانحے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسپتال میں کوئی بھی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں ہے۔ رپورٹ میں این آئی سی یو میں انتظامی اور طبی نگرانی کے گہرے فقدان کو سانحے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ پورا وارڈ جلنے میں صرف 2 منٹ لگے جو اسپتال انتظامیہ کی نااہلی، بدانتظامی اور خستہ حالی کی علامت ہے۔
اس دل خراش سانحے کی ذمے داری قبول کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ سیکریٹری صحت سے لے کر وفاقی وزیر صحت اور وزیر اعظم تک اپنی صفائیاں پیش کرنے کے لیے تو دلائل کے انبار ہیں لیکن سرکاری اسپتالوں میں جو مسائل کے انبار ہیں ،ان کا تدارک کون کرے گا؟ آپ کراچی سے لے کر خیبر تک سرکاری اسپتالوں کی حالت زار دیکھیے سب حکومتی عدم توجہی کی کہانی سنا رہے ہیں۔ نرسری سے لے کر زچہ وارڈ تک اور آپریشن تھیٹر سے لے کر طبی و انتظامی عملے کی تربیت تک کہیں کوئی پراپر نظام نہیں ہے۔ اسی باعث اسپتالوں میں آئے دن کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہوتا رہتا ہے۔ ملک میں کوئی قدرتی آفت آ جائے زلزلہ یا سیلاب کی صورت میں اسپتالوں پر غیر ضروری دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
ایسے ہنگامی حالات کے عہدہ برآ ہونے کے لیے کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔ سرکاری اسپتال کا نظام صرف اسی صورت ٹھیک ہو سکتا ہے جب تمام اراکین اسمبلی، وزرا، بیورو کریٹس اور سرکاری افسران کو اپنا اور اپنی فیملی کا علاج سرکاری اسپتالوں میں کرانے کا پابند کیا جائے۔ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے لازم ہے کہ صوبائی وزیر صحت ماہانہ بنیادوں پر تمام سرکاری و نجی اسپتالوں کا دورہ کریں، ہر وارڈ کا بذات خود معائنہ کریں، انتظامات کا جائز لیں اور فوری احکامات صادر کریں بعینہ غفلت کے مرتکب ذمے داران کی موقع پر محکمہ جاتی کارروائی کریں ۔ امید ہے کہ سانحہ پمز کے جملہ ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔