وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی وفاقی حکومت صوبہ بلوچستان کی ترقی کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ انھوں نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں بلوچستان کے بارے میں منعقدہ ورکشاپ میں اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے جامع مذاکرات ہونے چاہئیں۔ انھوں نے اس نکتے پر خاص طور پر زور دیا کہ حکومت بلوچستان کی ترقی کے بارے میں سنجیدہ ہے۔
بلوچستان میں تعلیم کا بحران کوئی نئی بات نہیں۔ سرکاری اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق صوبے میں اس وقت تقریباً 28 سے 30 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اسکول جانے کی عمر کے بچوں کی مجموعی تعداد تقریباً 50 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ اس حساب سے بلوچستان کے تقریباً 45 سے 50 فیصد بچے تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔
یہ دراصل اس تعلیمی نظام کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، جو بظاہر بدانتظامی اور عدم فعالیت کا اس قدر عادی ہوچکا ہے کہ کئی سرکاری تعلیمی ادارے بند بھی رہتے ہیں اور اس کے باوجود کسی ذمے دار سے سنجیدگی سے بازپرس نہیں ہوتی۔ذرا تصور کیجیے، جس طالب علم نے 2004 میں کالج میں داخلہ لینا تھا، وہ آج چالیس کی دہائی میں پہنچ چکا ہوگا، اگر وہ اس ادارے سے تعلیم حاصل کرتا تو شاید آج کسی صنعت، ورکشاپ، سرکاری یا نجی ادارے میں خدمات انجام دے رہا ہوتا، اپنا گھر چلا رہا ہوتا اور بلوچستان کی معیشت میں اپنا کردار ادا کر رہا ہوتا، لیکن ایسے ادارے جو نوجوانوں کو ہنر اور روزگار کے قابل بنانے کے لیے عوامی پیسوں سے قائم کیے جاتے ہیں،وہ عدم فعالیت کی بناء پر غیرمتعلق ہو جاتے ہیں۔اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ مختلف حکومتوں نے برسوں سے جاری اس صورتحال کو ٹھیک کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟تعلیم کے سیکریٹری کہاں تھے؟ متعلقہ ڈائریکٹرز، پرنسپلز، افسران اور انسپکٹرز کہاں تھے؟ سالانہ کارکردگی کا جائزہ کہاں تھا؟ صوبائی اسمبلی میں نوجوانوں اور تعلیم کی بات کرنے والے منتخب نمائندے کہاں تھے؟ فنی تعلیم کے ذمے دار محکمے نے تعلیمی اداروں کی فعالیت بحال کرنے کے لیے کیا کیا؟ اور بلوچستان کی سیاسی قیادت اس وقت کہاں تھی جب بلوچستان کے لوگوں کی کئی نسلیں بغیر تعلیم کے رہ گئیں؟یہ سوالات بلوچستان کے تعلیمی نظام کی اس گہری بیماری کو ظاہر کرتے ہیں جہاں اکثر عمارت، بجٹ، اسامیاں، فائلیں اور انتظامی کارروائیاں اصل مقصد یعنی طالب علم اور تعلیم پر غالب آجاتی ہیں۔کسی اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی عمارت تعمیر کردینا اور اسے تعلیمی ادارہ بنادینا دو مختلف چیزیں ہیں۔ عمارت بن سکتی ہے، افتتاح ہوسکتا ہے، منصوبہ منظور ہوسکتا ہے، بجٹ جاری ہوسکتا ہے اور تختی بھی لگ سکتی ہے، لیکن اگر وہاں کلاسز نہیں ہوتیں، اساتذہ موجود نہیں، آلات دستیاب نہیں اور طلبہ تعلیم حاصل نہیں کر رہے تو ایسی عمارت کامیابی نہیں بلکہ انتظامی ناکامی کی علامت بن جاتی ہے۔
دانشور حلقے بجا طور پر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کی عمارتیں اور انفرا اسٹرکچر پر خرچ ہونے والا عوامی پیسہ ضایع تو نہیں ہوگیا، لیکن سوال صرف عمارتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔کئی دہائیوںکے دوران تعلیمی اداروں کے لیے مختص ہونے والے بجٹ، تنخواہوں، دیکھ بھال، انتظامی اخراجات اور دیگر وسائل کا بھی حساب ہونا چاہیے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ اس تمام خرچ کے بدلے عوام کو کیا ملا؟بلوچستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت تعلیم اور ہنر کی ہے۔ ایک ایسا صوبہ جہاں روزگار کے مواقعے محدود ہیں، وہاں تعلیم نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کا سب سے موثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ صوبے کو ٹیکنیشنز، انجینئرز، ہنرمند کارکنوں، صحت کے شعبے سے وابستہ تربیت یافتہ افراد اور جدید معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نوجوانوں کی ضرورت ہے۔یہ سوالات صرف کسی ایک اسکول ، کالج اور یونیورسٹی تک محدود نہیں۔ ان کے جوابات پورے بلوچستان کے تعلیمی نظام کی اصل تصویر سامنے لاسکتے ہیں۔برسوں سے تقاریر میں تعلیم کو ترجیح قرار دیا جاتا رہا ہے، مگر زمینی حقیقت مختلف دکھائی دیتی ہے۔
لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں، تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، اساتذہ کی تعیناتی اور دستیابی کے مسائل موجود ہیں اور فنی تعلیم صوبے کی ضرورت کے مقابلے میں انتہائی کمزور ہے۔نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ نوجوان تعلیم اور ہنر سے محروم رہتے ہیں، روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں، غربت بڑھتی ہے اور پھر حکومت بے روزگاری اور ہنرمند افرادی قوت کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتی ہے، یوں ایک ایسا چکر پیدا ہوجاتا ہے جسے خود تعلیمی نظام مزید مضبوط کرتا رہتا ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ تعلیمی ترقی کو صرف تعمیر ہونے والی عمارتوں، منظور شدہ اسکیموں اور جاری کیے گئے بجٹ سے نہ ناپا جائے۔اصل پیمانہ بہت سادہ ہے۔ کیا بچے پڑھ رہے ہیں؟ کیا کالج چل رہے ہیں؟ کیا نوجوان ہنر حاصل کررہے ہیں؟ کیا فارغ التحصیل طلبہ روزگار حاصل کرنے کے قابل ہورہے ہیں؟اگر جواب نفی میں ہے تو پھر خوبصورت اعداد و شمار اور سرکاری دعوے بھی تعلیمی کامیابی ثابت نہیں کرسکتے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ بلوچستان میں تعلیم کے زوال کا ذمے دار کون تھا اور کون ہے؟ تعلیم پر کتنے وسائل خرچ ہوئے اور اب پورے بلوچستان میں کتنے پرائمری اسکول اور ہائی اسکول فعال ہیں؟
قیام پاکستان کوستر سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے، قوموں کی زندگی میںاسے مختصر نہیں بلکہ بہت طویل عرصہ سمجھا جاتا ہے، پوری دو نسلیں اس دوران جوان ہوجاتی ہیں۔اعلیٰ تعلیمی اداروں کو کسی رسمی افتتاح یا نمائشی بحالی کی ضرورت نہیں۔ انھیں کلاس رومز کھولنے، اساتذہ لانے، جدید آلات فراہم کرنے اور نوجوانوں کو تعلیم و ہنر دینے کی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر بلوچستان کے تعلیمی حکام کو یہ جواب دینا ہوگا کہ بلوچستان کے بچوں کو تعلیم کا جو حق آئین نے دیا ہے، وہ اب تک انھیں کیوں نہیں دیا گیا؟بلوچستان کے نوجوانوں کو مزید وعدے نہیں، فعال تعلیمی ادارے، جوابدہ حکام اور ایسا نظام چاہیے جو فائلوں نہیں بلکہ طلبہ کے مستقبل کے لیے کام کرے۔