قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نےاسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2025 منظور کرلیا

بل پر پیپلزپارٹی کے اراکین آغا رفیع اللہ اور عبدالقادر پٹیل نے مخالفت کی


ویب ڈیسک September 03, 2026
فوٹو: فائل

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز کی زیر صدارت جاری ہے۔

کمیٹی رکن آغا رفیع اللہ نے اسلام آباد میں متعدد آبادیوں پر سی ڈی اے ایکشن کا معاملہ اٹھایا، آغا رفیع اللہ نے سوال کیا کہ جن لوگوں نے ان آبادیوں کو آباد کروایا، ان افسران کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، بتایا جائے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

رکن کمیٹی رعنا انصر نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کے حوالے سے کمیٹی نے کہا کہ اراکین کو بلوچستان لے کر جایا جائے گا، وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں داخلہ کمیٹی کے اراکین کو لے جانے پر تیار ہیں، بلوچستان سے 200 لوگوں کو بلایا گیا، ان کے ساتھ تمام اسٹیک ہولڈرز کی بات ہوئی، پہلے ان لوگوں نے جو ملاقاتیں کی ہیں، ان کی رپورٹ دیکھ لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے خصوصی طور پر ہدایت کی ہے کہ جو بھی وسائل چاہئیں، سیکیورٹی فورسز کو دیے جائیں۔

اجلاس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ بل 2025 پر بحث کا آغاز ہوا، آغا رفیع اللہ نے کہا کہ یہ بتایا جائے حکومت مقامی حکومتوں کا الیکشن کروانا چاہتی ہے یا نہیں، اگر آپ نے صرف الیکشن کمیشن کو ماموں بنانا ہے تو ہم اس میں شامل نہیں، پورے ملک میں نئے صوبوں کی بات کررہے ہیں، لیکن ایک اسلام آباد کا علاقہ سنبھل نہیں رہا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد ایک صوبہ ہے، اس کی الگ اسمبلی ہونی چاہیے، راجہ خرم نواز نے کہا کہ اسلام آباد کی حلقہ بندیاں ہوچکی ہیں، یو سیز بن گئی ہیں۔

رکن کمیٹی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ آپ نے مقامی حکومتوں کا الیکشن نہ اسلام آباد میں کروانا ہے نہ پنجاب میں، ۔ یہ بتائیں اسلام آباد اگر صوبہ بن جاتا ہے تو اس کے پاس اختیارات کیا ہوں گے،۔ یہ آرڈیننس دو دن کے بعد ختم ہوجائے گا، آپ نے الیکشن نہیں کروانے، ہم اس بل پر آپ کے ساتھ نہیں ہیں، اسلام آباد میں زمینوں پر قبضے اور جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ اور کراچی کی بات ہوگی تو پرفارمنس پر ہوگی، یہاں اسلام آباد میں تھانے نہیں بکتے، زمینوں کی چائنہ کٹنگ نہیں ہوتی، اسلام آباد کی پرفارمنس کا موازنہ کراچی، لاہور اور کوئٹہ سے کروانی ہے تو ہم حاضر ہیں۔

کمیٹی نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی۔ بل پر پیپلزپارٹی کے اراکین آغا رفیع اللہ اور عبدالقادر پٹیل نے مخالفت کی۔

اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 پر پیپلزپارٹی نے اختلافی نوٹ جمع کرادیا۔ اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ بار بار قانون سازی کا مقصد اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا التوا لگتا ہے۔

حکومت کی جانب سے مسلسل ترمیمی بلز اور آرڈیننس لانا انتخابی عمل میں رکاوٹ ہے۔ الیکشن کمیشن جب بھی الیکشن کی طرف بڑھتا ہے، ترمیمی بل لے آیا جاتا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت مقامی حکومتوں کو سیاسی اور مالی اختیارات کی منتقلی لازمی ہے۔ اسلام آباد کے شہری کئی سالوں سے منتخب بلدیاتی نمائندوں سے محروم ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی نمائندوں کی غیر موجودگی جمہوریت پر سوالیہ نشان ہے۔ بلدیاتی نظام میں بار بار کی تبدیلیاں انتخابی التوا کا جواز نہیں بن سکتیں۔

اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ بل کا جائزہ لیا جائے کہ آیا یہ الیکشن کروانے میں مددگار ہے یا نیا قانونی روڑا۔ حکومت کو بلدیاتی انتخابات روکنے کے بجائے الیکشن کمیشن کو سہولت دینی چاہیے۔

بلدیاتی ترمیم کا مقصد الیکشن کروانا ہونا چاہیے، الیکشن کا التوا نہیں۔ اختلافی نوٹ پر پیپلزپارٹی کے سید رفیع اللہ، جمال رئیسانی، نبیل گبول اور قادر پٹیل کے دستخط موجود ہیں۔

بلوچستان سے رکن اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے بھی بل کی مخالفت کی۔

آن لائن فراڈ، غیر قانونی سمز اور اسلام آباد میں منشیات پر بریفنگ

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں آن لائن فراڈ، غیر قانونی سمز کے اجراء، بینکنگ اسکیمز اور پی ٹی اے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

این سی سی آئی اے حکام کے مطابق فیصل آباد میں کل ایک ایف آئی آر ہوئی، جبکہ اگلے چند مہینوں میں واٹس ایپ ہیکنگ تقریباً ختم ہوجائے گی۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ فراڈ میرے ساتھ بھی ہوا ہے، اکثر مجھے فراڈیوں کی کال آتی ہے، بتایا جائے میرے انگوٹھے کے نشان فراڈیے تک کیسے جارہے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں 18.2 ملین سمز بند کی گئیں، جبکہ ایک سال میں ٹیلی کام کمپنیوں کو 4.2 ارب روپے جرمانے کیے گئے۔

چیئرمین کمیٹی نے انکشاف کیا کہ انہیں روانہ کی بنیاد پر فیک کالز موصول ہو رہی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی کے مطابق ہر ہفتے کال آتی ہے کہ آپ کا کورئیر آیا ہوا ہے، انہیں کہا جاتا ہے کہ پارسل گھر بھیج دیں۔

چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ ان کے نام پر موجود سم ہیکرز کے پاس کیسے پہنچی اور انگوٹھے کا نشان ہیکرز تک کیسے جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہیکرز ان کے انگوٹھے کے نشان سے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرکے پیسے کیسے لوٹ سکتے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ پاکستان میں 2009 سے پہلے سم جاری کرنے کی کوئی پالیسی نہیں تھی، 2014 کے بعد سم جاری کرنے کی پالیسی آئی جبکہ گزشتہ دو سال میں سم جاری کرنے کی پالیسی میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق ماضی میں سمز فرنچائز کے ذریعے ایکٹیو کی جاتی تھیں اور انہیں پابند کیا گیا۔ مشین 10 میٹر تک محدود کردی گئی ہے، اس کے باہر وہ کام نہیں کرے گی۔ سم ایک سال تک نام پر رہے گی تاکہ تمام چیزیں ریکارڈ پر موجود رہیں۔

چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ڈیڑھ سال کے دوران این سی سی آئی اے کے ساتھ مل کر 110 کارروائیاں کی گئیں، کارروائیوں کے دوران 29 ہزار سمز ملیں اور 171 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ 6 لاکھ افراد کے بائیو میٹرک موصول ہوئے۔

چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق لوگوں کے بائیو میٹرک نادرا، ایئرپورٹ، جیل اور ڈرائیونگ لائسنس کے لیے محفوظ ہوتے ہیں۔ 18.2 بلین سمز کو بلاک کیا گیا جبکہ کمپنیز کو 4.2 بلین روپے جرمانہ کیا گیا۔ گزشتہ دو سال میں 1.8 غیر قانونی سمز بند کی گئی ہیں اور غیر قانونی سمز پر 6 ماہ میں 4.2 ارب روپے جرمانے بھی کیے گئے۔

این سی سی آئی اے حکام نے بتایا کہ واٹس ایپ ہیکنگ کو مکمل ختم کرنے جا رہے ہیں۔ وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ واحد طریقہ یہی ہے کہ فیشل یا آئرس کی شناخت سے بند اکاؤنٹ اور سم جاری ہو۔

ممبر کمیٹی نے کہا کہ کیوں نہ کمیٹی یہ ہدایت کرے کہ ٹیلی موبائل کمپنیز اور بینک یہ جدت لائیں۔ ڈی آئی جی ٹریفک اسلام آباد نے بتایا کہ ڈرائیونگ لائسنس کو پیپر لیس کردیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد کے تھانوں کی حالت پر بھی بات ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تھانوں کی حالت انتہائی خراب ہے، مقدمات درج نہیں ہوتے جبکہ منشیات فروش شہر میں دندناتے پھر رہے ہیں۔

وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ پولیس سے متعلق کمیٹی سیف سٹی میں رکھی جائے، مکمل بریفنگ دی جائے گی۔ ڈی آئی جی ہارون جوئیہ نے بتایا کہ سیف سٹی نے 132 مختلف گینگ گرفتار کیے ہیں۔ گزشتہ دنوں کا آڈٹ کیا جائے تو 28 فیصد کرائم کم ہوا ہے۔

چیئرمین راجہ خرم نواز نے کہا کہ ہائی پروفائل کیس جلدی ٹریس ہوتے ہیں، کار لفٹنگ بھی کنٹرول ہے، تاہم منشیات عام ہے۔ ڈی آئی جی ہارون جوئیہ نے بتایا کہ اسلحے کے خاتمے کے لیے خصوصی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔

ممبر کمیٹی خواجہ اظہار الحسن نے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کرائم کم ہوا، تفصیلات فراہم کی جائیں کہ کون سا کرائم کم ہوا۔ کمیٹی چیئرمین نے کرائم سے متعلق ڈیٹا آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا۔

ایس ایس پی علی رضا قاضی نے بتایا کہ گزشتہ دو سال میں منشیات کے خلاف چار ہزار 8 ماہ 12 سو مقدمات ہوئے، منشیات کی تمام اقسام کے ڈیلرز شامل ہیں۔

ایس ایس پی کے مطابق پنڈوریاں، شہزاد ٹاؤن اور بنی گالہ میں منشیات فروشی زیادہ عام ہے۔ ان تمام علاقوں کے 57 منشیات فروش اپنا علاقہ بند کرچکے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ لوگوں کے احتجاج پر منشیات کے خلاف آئی جی سے میٹنگ کی، دو دن بند وائس چیئرمین قتل ہوگیا۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ لمبے عرصے سے تعینات افسران کو تھانوں سے بھی تبدیل کیا جائے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو کرنا ہے کریں مگر منشیات کا اسلام آباد سے خاتمہ کرنا ہوگا۔