زائد لاگت کے سبب چاول، چینی، کاٹن، پیاز، تل، آلو کی برآمدات کم ہوگئیں، سینیٹ قائمہ کمیٹی

بھارت کاٹن ایکسپورٹ کررہا ہے ہم امپورٹ کر رہے ہیں، پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کرپارہیں


ویب ڈیسک September 03, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

وزارت تجارت نے سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ توانائی اور درآمدی لاگت سے ہماری مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مہنگی ہیں، بھارت کاٹن ایکسپورٹ کررہا ہے ہم امپورٹ کر رہے ہیں، زائد لاگت کے سبب پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کرپارہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جاوید حنیف کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈز پر بریفنگ دی اور بتایا کہ توانائی اور درآمدی لاگت سے ہماری مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مہنگی ہیں، بھارت کاٹن ایکسپورٹ کررہا ہے ہم امپورٹ کر رہے ہیں۔

قائمہ کمیٹی تجارت کے اجلاس میں گدھوں کی ایکسپورٹ کا بھی تذکرہ ہوا۔ رکن قومی اسمبلی اسد عالم نیازی نے کہا کہ ماہانہ تین سے چار سو گدھے گوادر بھیجے جارہے ہیں، سی فوڈ میں بھی ایکسپورٹ کے  وسیع مواقع ہیں۔ چیئرمین کمیٹی جاوید حنیف نے کہا کہ آپ نے گدھوں کا ذکر کیا اس ملک میں بہت ہیں۔ وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ گدھوں کا گوشت گوادر سے ایکسپورٹ ہورہا ہے۔

وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان فارما انڈسٹری نے اس سال ایتھوپیا میں پراگرس دکھائی ہے، ملک میں تجارت اور تجارتی مواقع بڑھانے پر بات جاری ہے، چین سے بھی فری ٹریڈ معاہدے پر نظر ثانی پر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ 

اجلاس میں ٹریڈ آرگنائزیشنز بل 2026ء میں تیسری ترمیم پر غور کیا گیا۔ رکن کمیٹی فاروق ستار نے قانون میں ترمیم کا بل پیش کیا، ٹریڈ چیمبرز کو اضلاع تک محدود کرنے کے قانون میں ترمیم پر غور کیا گیا۔ فاروق ستار نے کہا کہ ملک بھر کے بڑے شہر کے چیمبر ایک ضلع تک محدود ہوتے ہیں، کراچی میں متعدد اضلاع ہیں، کراچی میں ڈسٹرکٹ چیمبرز کی جگہ صرف ایک کراچی چیمبر رہے گا اس طرح کراچی کا خواتین چیمبر اور اسمال بزنس کا ایک ہی چیمبر رہے گا۔

مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ ہم اس ترمیم کی حمایت کریں گے، صرف یہ دیکھنا ہے کہ اس ترمیم کے اطلاق باقی ملک کے اضلاع متاثر نہ ہوں، رکن کمیٹی گل اصغر خان نے کہا کہ کیا کراچی کے بزنس مین کو اعتماد میں لیا گیا ہے؟ رکن محمد نعمان نے کہا کہ بل ابھی ملا ہے اس پر وزارت قانون کا موقف لینا چاہیے۔

وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ اس قانون پر تمام جماعتوں کا اتفاق خوش آئند ہے حکومت کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، وزارت تجارت اس پر غور کرے گی اور وزارت قانون کے ساتھ مشاورت کرے گی۔

سیکریٹری تجارت جاوید پال نے کہا کہ اہم معاملہ یہ ہے کہ پرائیویٹ ممبر بل پر پہلے حکومت غور کرتی ہے، اس قانون پر وزارت قانون اور وزارت پارلیمانی امور کو غور کرنا ہے، انھوں نے اس قانون پر حکومت کو رائے دینی ہے، حکومت غور کے بعد وزارت تجارت کو جو ہدایات دے گی ان پر عمل درآمد کیا جائے گا،

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نیا قانون تجویز اور قانون سازی بھی کر سکتی ہے، مسودہ قانون رائے کیلئے وزارت تجارت اور وزارت قانون کو بھجوا دیتے ہیں۔ 

وزیر تجارت نے کہا کہ چین کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات جاری رہتے ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت آج تجارتی آسانیاں پیدا کرنے سے متعلق اجلاس ہوا ہے، فیکٹری سے پورٹ تک تجارتی مشکلات کا جائزہ لیا گیا ہے ، ملکی برآمدات کی راہ میں مقامی سطح پر کئی مشکلات ہیں۔

سیکریٹری تجارت نے کہا کہ گزشتہ مالی سال 30 ارب 80 کروڑ ڈالرز کی برآمدات کی گئیں، 2024-25 کے مقابلے میں گزشتہ برس برآمدات میں کمی ہوئی، ہمسایہ ممالک کے ساتھ دو طرفہ تجارت میں کمی ہوئی، چاول کی برآمدات میں ایک ارب ڈالرز کی کمی ہوئی، چینی، کاٹن، پیاز، تل، آلو کی برآمدات میں کمی کوئی، بھارت نے گزشتہ برس کاشت کاروں کو 5.1 ارب ڈالرز کی سبسڈی دی، پاکستان کو امریکا، یورپ اور برطانیہ میں ٹیکس اور ڈیوٹیز میں چھوٹ حاصل ہے، پاکستان کی برآمدات عالمی منڈیوں میں مقابلہ نہیں کر پا رہی ہیں۔