پمز سانحہ؛ وفاقی پولیس کی انکوائری مکمل، رپورٹ حکام کو ارسال

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے حتمی اجازت کے بعد مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا، ذرائع


نعیم اصغر September 03, 2026
فوٹو: فائل

وفاقی پولیس نے اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز کی نرسری میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے والے سانحے کی انکوائری رپورٹ مکمل کر کے آئی جی اسلام آباد کو ارسال کردی اور وزارت داخلہ کو بھیج دی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ سانحہ پمز پر وفاقی پولیس کی انکوائری رپورٹ وفاقی وزارت داخلہ کو ارسال کی جائے گی، رپورٹ میں نامزد افسران کے تحریری بیانات اور ان کی لوکیشن بھی شامل کی گئی ہے۔

انکوائری کے حوالے سے بتایا گیا کہ پمز اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور سیف سٹی کی فوٹیج بھی رپورٹ کا حصہ ہیں، پولیس نے سابق ای ڈی پمز عمران سکندر اور پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ سے بھی تحری بیانات لے لیے ہیں، اسی طرح ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر مطاہر، چوہدری وارث علی رضا، ڈاکٹر نوشیلا امجد، ڈاکٹر محمد عثمان اور ڈاکٹر عبدالرحمان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پولیس کی جانب سے بچہ بچانے والی نرس رضیہ کا بیان بھی لیا گیا ہے اور تمام کارروائی 174 کی رپورٹ کے تحت کی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے حتمی اجازت کے بعد مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔