مردوں اور خواتین میں عمر بڑھنے کا عمل مختلف ہوتا ہے، تحقیق

یہ نتائج زندگی کے مختلف مراحل میں مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ طبی جائزے اور مداخلت کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں


ویب ڈیسک September 03, 2026
فوٹو: اے آئی

چین میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مرد اور خواتین کی عمر بڑھنے کا عمل نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے اور اس کے شواہد روزمرہ کے خون کے ٹیسٹ اور طبی معائنے کے نتائج میں پوشیدہ ہیں۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ماتحت چائنا نیشنل سینٹر فار بایوانفارمیٹکس کے انسٹیٹیوٹ آف زولوجی، کیپیٹل میڈیکل یونیورسٹی کے شوان وو اسپتال اور دیگر اداروں کے محققین کی حال ہی میں عالمی جریدے نیچر ایجنگ میں شائع ہونے والی مشترکہ تحقیق میں چین بھر سے 18 سے 98 سال کی عمر کے ایک لاکھ 4 ہزار سے زائد افراد کے صحت سے متعلق ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔

انہوں نے مذکورہ افراد کے وزن، کولیسٹرول اور خون میں شوگر کی سطح سمیت 172 عام طبی پہلوؤں کا جائزہ لیا اور حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر انہوں نے خصوصی ’ایجنگ کلاک‘ تیار کیا، جن سے یہ جاننے میں مدد ملی کہ وقت گزرنے کے ساتھ انسانی جسم میں سب سے بڑی تبدیلیاں کب رونما ہوتی ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ مردوں میں عمر بڑھنے کے عمل کا اہم ترین موڑ 35 سے 45 سال کی عمر کے درمیان آیا، اس ایک دہائی کے دوران ان کے میٹابولزم میں نمایاں تبدیلیاں واقع ہوئیں، جسمانی وزن کے تناسب کے ساتھ ساتھ ٹرائی گلیسرائیڈز اور کولیسٹرول کی سطح بھی بڑھی۔

دوسری جانب خواتین میں بڑی تبدیلی نسبتاً دیر سے واقع ہوئی جو 55 سے 65 سال کی عمر کے دوران سامنے آئی، یہ عام طور پر سن یاس (میناپوز) کے دور کے قریب کا وقت ہے اور اس مرحلے پر خواتین میں ہارمونز میں نمایاں تبدیلیاں ہوئیں، جسم میں چربی اور کولیسٹرول کی سطح بھی بڑھ گئی، تاہم عمر بڑھنے کے ان مختلف مراحل کے باوجود، عمر زیادہ ہونے کے ساتھ مردوں اور خواتین کے درمیان جسمانی فرق بتدریج کم ہوتا گیا۔

تحقیق میں یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ خون میں موجود گلوکوز، چکنائیاں، یورک ایسڈ اور رسولیوں سے متعلق دو بائیومارکرز (سی ای اے) اور ایچ ای 4جیسےاجزا شامل ہیں، جو عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں جمع ہوتے ہیں اور حیاتیاتی عمر بڑھنے کے عمل میں تیزی سے منسلک ہیں۔

سائنس دانوں نے بتایا کہ اس بات کی جانچ کے لیے لیبارٹری میں انسانی خون کی نالیوں کے خلیوں کو ان اجزا کی زیادہ مقدار میں رکھا، خلیوں میں بڑھاپے کی واضح علامات ظاہر ہونے لگیں، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ عوامل صرف عمر بڑھنے کے نشانات نہیں بلکہ ممکنہ طور پر اس عمل میں کردار بھی ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تحقیق میں ایک حوصلہ افزا پہلو بھی سامنے آیا ہے، جس میں محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ عمر بڑھنے کے بعض اثرات کو ممکنہ طور پر واپس بھی پلٹا جا سکتا ہے، جیسا کہ ذیابیطس کے علاج میں استعمال ہونے والی عام دوا میٹفارمن نے خون میں گلوکوز کی بلند سطح سے ہونے والے عمر رسیدگی کے نقصان سے خلیوں کو تحفظ فراہم کیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک اور تجربے میں چوہوں کو زیادہ چکنائی والی خوراک سے دوبارہ معمول کی خوراک پر منتقل کیا گیا تو ان کے جگر میں عمر بڑھنے سے متعلق واضح بہتری دیکھی گئی۔

سی این بی سی کے تحقیق کار ژیونگ موزاؤ نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوراک میں بہتری لانے یا خون میں گلوکوز کی سطح کو قابو میں رکھنے کے ذریعے میٹابولک دباؤ کم کرنا عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرنے کی ممکنہ حکمت عملی ہو سکتی ہے۔

ایک اور محقق لی جیامنگ نے کہا کہ تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمر سے متعلق میٹابولک بوجھ کم کرنا صحت مند عمر رسیدگی کو فروغ دینے کے لیے ایک امید افزا حکمت عملی ہو سکتی ہے، یہ نتائج زندگی کے مختلف مراحل میں مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ طبی جائزے اور مداخلت کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔