جنوبی کوریا کی بھی آبنائے ہرمز میں فوج بھیجنے کی تیاری

حکومت مختلف فوجی اور غیر فوجی آپشنز پر غور کر رہی ہے


ویب ڈیسک September 04, 2026

جنوبی کوریا بھی آبنائے ہرمز میں فوجی تعیناتی پر غور کر رہا ہے.

میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں فوجی اثاثے بھیجنے کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

تاہم ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے واضح کیا ہے کہ حکومت مختلف فوجی اور غیر فوجی آپشنز پر غور کر رہی ہے اور کسی بھی تعیناتی سے قبل ملکی قانونی تقاضے اور پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہوگی۔ 

جنوبی کوریائی میڈیا کے مطابق زیرِ غور منصوبے میں بحری گشتی طیارہ، بارودی سرنگیں صاف کرنے والی ٹیم اور لاجسٹک سپورٹ بحری جہاز شامل ہو سکتے ہیں۔ مقصد براہِ راست جنگ میں حصہ لینا نہیں بلکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور سمندری راستے کی آزادی میں مدد فراہم کرنا ہے۔ 

آبنائے ہرمز جنوبی کوریا کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ ملک کی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً 61 فیصد گزشتہ سال اسی راستے سے آتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے بھی سیئول پر ہرمز میں بحری سکیورٹی کے لیے زیادہ کردار ادا کرنے کا دباؤ بڑھا ہے۔

تاہم جنوبی کوریا میں اس معاملے پر عوامی حمایت محدود ہے، اس لیے حکومت کو فوجی تیاری کے ساتھ ساتھ سیاسی اور قانونی رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔